مقررہ تاریخ پر فیس جمع نہ کرانے والوں کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ ہو گی۔‘‘ یہ اعلان ہونے کے بعد میری پریشانی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ کافی دنوں سے میں اپنی یونیورسٹی فیس کے بارے میں بہت پریشان تھا۔ گھر کے حالات کچھ ایسے نہ تھے کہ میں اپنی بھاری بھر کم فیس کا بوجھ اپنے والدین کے کاندھوں پر ڈال دیتا۔ادھر میرے پاس بھی اس کا بظاہر کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ اسے مقررہ دن پر ادا کرپاتا۔مجھے ڈاکٹر بننے کا بہت زیادہ شوق تھا، لیکن اب مجھے خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ کہیں میرا ڈاکٹری کا خواب چکنا چور نہ ہو جائے۔

ٓج تو میں بہت امیر ہو چکا ہوں، وال مارٹ کو مات دے چکا ہوں۔ بہت خوش ہوں۔ میری تو یہی خواہش تھی کہ دنیا میں شہرت اور نام کماؤں اور آج کے اخبارات میری دولت اور مال کے گن گا رہے ہیں۔ میں اپنے دوستوں کو فون کر کے بتا رہا ہوں کہ میری غربت پر ہنستے تھے، آج میری امیری کو بھی دیکھو۔ یہی کہتے کہتے وہ خوشی سے پاگل ہوا جا رہا تھا۔ وہ اپنی حیرت انگیز کامیابی کی خبر رشتہ داروں کو بھی دے رہا تھا۔ وہ دوڑنا چاہتا تھا کہ ہر ایک کو اپنی کامیابی کی نوید سنائے، مگر خوشی کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا۔ اس سے بھاگا بھی نہیں جا رہا تھا۔

اس نے اپنے والدکے روبرو چند سیکنڈ میں درجنوں سوال داغ دیے۔ اس کا والد اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا۔ یہ صرف اس نوجوان کے سوال نہیں تھے، بلکہ ہر اس بچے کے سوالات ہوتے ہیں جو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ نہیں پاتا کہ اس کے کاندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ وہ اسے اپنے ساتھ ظلم گردانتا ہے اور تنہائی میں خود کلامی کرتے ہوتے سوالات دہراتا ہے اور موقع ملنے پر پھٹ پڑتا ہے۔ یہی سوال نوجوان کی ترقی، کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ دنیا کا ہر نوجوان، بلکہ ہر ذی شعور شخص اگر ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے لگے تو اس کا سفر مختصر بھی ہو جاتا ہے اور بامراد بھی۔

امریکا کے اس نوجوان کے لیے جنوری کی ایک عام رات تھی، سرد، اداس اور اجنبیت لیے ہوئے۔ وہ ایک سائنس کا طالب علم تھا، مگر اسے بزنس پڑھنے کا جنون تھا۔ کاروبار سے اسے بے حد دلچسپی تھی، مگر کبھی اس نے تجارت کے لیے عملی قدم نہیں اٹھایا تھا۔ وہ دنیا کے معروف کامیاب تاجروں کی داستانیں پڑھتا اور لطف اٹھاتا… اور بس۔ ایک دو بار کسی دوست نے اسے کہا کہ تم بزنس کے بارے میں اتنا پڑھتے ہوں اور اٹھتے بیٹھے اس کا تذکرہ کرتے رہتے ہو، کبھی خود بھی کوئی کاروبار کرو، نوجوان یہ سن کر ہنس دیا۔ اس نے کہا یہ میرے بس کی بات نہیں۔ پھر اس کی زندگی میں ایک ایسی رات اتری، جس نے اس کی زندگی اور تقدیر بدل ڈالی۔

ناکامی نے پے درپے پانچ بار چنگ کے چاروں شانے چت کر دیے، مگر اس نے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ استاد بننا چاہتا تھا۔ وہ دیکھتا تھا ہر شخص اس کے استاد کا احترام کرتا ہے۔ اور علم کی بڑی قدر کی جاتی ہے۔ دوسری جانب ظاہری حالات اس کے لیے ہرگز ساز گار نہ تھے۔ اس نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ جہاں کئی دنوں تک چولہا نہ جلتا تھا۔ یہ آٹھ بہن بھائیوں میں سے سب سے بڑا تھا۔ والدین کے کہنے پر اسکول چھوڑ کر کھیتوں میں کام کرنے لگا۔ صبح سویرے اٹھتا اور کھیتوں کی طرف چل دیتا۔ سارا دن کام کرتا۔ یہ سلسلہ چند ماہ تک چلتا رہا۔

لارس ارسن (Lars Ericsson) ایک موجد اور انٹرپرینور تھا۔ اس نے 1876 ء میں اپنے ایک دوست کی مدد سے ایک چھوٹی سی الیکٹرو مکینیکل ورکشاپ کھولی، جس نے ترقی کرتے کرتے ایک دن کمپنی ارسن (Ericsson)کی صورت اختیار کر لی۔ آج اس کی پروڈکٹ دنیا بھر میں پائی جاتی ہے۔ اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ ہے۔ اس کی سالانہ آمدن 230 ارب ڈالر ہے۔ لارس اپنی کامیابی کا سہرا اپنے ملازمین کے سر باندھا کرتا تھا۔ ایک بار اس سے سوال کیا گیا کہ اپنے ملازمین سے بہت شفقت سے پیش آتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ لارس رنجیدہ ہوگیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے، وہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعدکچھ یوں بولا۔ آئیے! سنتے ہیں۔