بیسٹ بائی کے بانی رچرڈ شلزے کی کہانی

ماں باپ کے لیے وہ دن خوشی کا سامان لایا جس روز ان کا بیٹا شلزے پیدا ہوا۔ وہ اس خوشی میں اپنے ہمسایوں کو بھر پور طریقے سے شامل نہ کر پائے، کیونکہ غربت اور تنگ دستی نے ان کے گھر میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ان کا گھر ایک جھونپڑی پر مشتمل تھا۔ کھانے پینے کے برتن بھی بقدرِ ضرورت نہ تھے۔ یہ تو اپنی زندگی میں خوشی کا منہ دیکھنے کو ترس گئے تھے، لیکن بچے کی آمد سے ان کے گھر میں خوشی اور ہنسی کی بہار آگئی ۔ شلزے کا باپ ایک مزدور تھا، جو صبح سویرے بیوی بچے کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے نکل کھڑا ہوتا۔

یوشی سوک ایکوا (Yoshisuke Aikawa)ایک جاپانی انٹرپرینور، بزنس مین اور سیاست دان تھا۔ اس کے ساتھ یہ نسان (Nissan) کارمیکر کمپنی کا بانی بھی ہے۔ ایکوا نے 6 نومبر 1880ء کو جاپان کے شہر Yamaguchi میں آنکھ کھولی۔ پانچ سال کی عمر میں اسکول جانا شروع کیا۔ ان کے خاندان میں تعلیم کے بجائے سیاست پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ ایکوا نے اس کے برعکس سیاست کے بجائے تعلیم اور پڑھائی کو ترجیح دی۔ اس کے دوست بھی یہی کہا کرتے کہ یہ بڑا بن کر سیاست کرے گا۔

اگر آپ نے فرانس، دبئی، سعودیہ، یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں کی سیر کی ہے تو ضرورت آپ کی نظروں سے Hilton Hotels & Restaurant نامی بلند و بالا اور پرشکوہ عمارتیں گزری ہوں گی۔ آئیے! ان کے موجد سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں۔ کونرڈہلٹن کو ان عمارتوں کا موجد اول کہا جاتا ہے۔ اس نے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ اعلی تعلیم کے حصول کے بعد ملک میں مختلف ملازمتوں پر فائز رہا۔

ڈیو تھامس (Dave Thomas) ایک امریکی بزنس مین اور سماجی شخصیت تھا۔ یہ ’’Wendy‘‘ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ چین کا بانی اور چیف ایگزیکٹو تھا۔ اس نے ایک فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جس میں لاوارث اور یتیم بچوں کی پرورش کا سامان کیا جاتا ہے۔ یہ فاؤنڈیشن مختلف پروگرام کے ذریعے یہ مہم چلاتی رہتی ہے کہ لوگ بے سہارا بچوں کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا کر ان کی تعلیم و تربیت کریں۔ ڈیوڈ خود ایک لاوارث بچہ تھا۔ اسے اپنی ماں تک معلوم نہ تھی۔

آپ کو ایک بلب ایجاد کرنے سے پہلے ایک ہزار بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ ایک رپورٹر نے اس سے سوال کیا۔ یہ سن کر وہ مسکرا دیا۔ پھر اس نے پر اعتماد لہجے میں وہ جواب دیا جو تاریخ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے سینے میں محفوظ کر لیا۔ اس کا کہنا تھا: ’’مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا نہیں پڑا، بلکہ بلب کو آخری اور حتمی شکل ملنے کے لیے ایک ہزار منزلیں درکار تھیں، جو مجھے طے کرنی پڑیں۔‘‘ یہ تھے دنیا کے سب سے بڑے موجد تھامس ایڈیسن، جس نے ایک ہزار سے زیادہ ایجادات کیں۔ یہ بہت بعد کی بات ہے، اصل کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ آئیے! ملاحظہ کرتے ہیں۔

منچلے اور لاابالی نوجوان دھرتی کا بوجھ تصور کیے جاتے ہیں۔ بری صحبت کا شکار اولادیں زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کو ناکارہ مال سمجھ کر حکومتیں انہیں مزید خراب ہونے کے لیے بے کار چھوڑ دیتی ہیں۔ مگر یہ سارے تصورات اور رویے یکسر غلط ثابت ہو جاتے ہیں جب ہم کلائڈ ایل بیزلی کی کہانی پڑھتے ہیں۔ یہ داستان ہمیں اپنا ایسا کوئی بھی فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہمیں بتاتی ہے جب نوجوان کسی بات کا عزم کر لیں تو دنیا کا کوئی طوفان یا کوئی پہاڑ ان کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ اس سے سمجھ میں آتا ہے انسان اخلاقی گراوٹ کی کسی بھی حد تک جا کر اچھے مقاصد کی طرف لوٹ سکتا ہے۔