انہونیاںہوتی چلی گئیں… مزدا کابانی’’جوجیرو

ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی، صرف تین سال۔ دوپہر کا وقت تھا۔ چند افراد اس کے باپ کو چارپائی پر ڈالے کاندھوں پر لے کر گھر داخل ہوئے، حالانکہ پہلے وہ شام کو پاؤں پر چل کر گھر آتا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اپنی بانہیں پھیلا دیتا تھا۔ اِس کی آنکھیں بھی ان کی تلاش میں ہوتیں تھیں۔ دیکھتے ہی یہ بھاگ کر اپنے باپ سے چمٹ جاتا تھا، لیکن آج اس کا باپ آنکھیں موندے خاموش تھا۔ یہ اپنی توتلی زبان سے ابو ابو کہہ کر آوازیں دیتا رہا۔ اس کے باپ نے جواب دینا تھانہ دیا ۔ یہ اس کی زندگی کی پہلی مشکل تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسٹینو گرافر سے کمپنی مالک تک Volvo کمپنی کا بانی عصر گیبریلسن

ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے کسی ادارے میں کام کرتے کرتے اپنی پوری زندگیاں گزار دیں۔کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ ایک معمولی کلرک، گارڈ یا باورچی کی حیثیت سے کسی ادارے یا کمپنی میں ملازمت کرتے گزار دیا، لیکن اس سے آگے نہ بڑھ سکے۔کیا ایسا ممکن ہے معمولی درجے سے کام کا آغاز کرنے والا آدمی اپنی محنت اور قابلیت کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتے ہوئے دولت مند بن پایا ہو؟ تاریخ اس کا جواب ہاں میں دیتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غربت کے تعاقب میں اگسٹ ہورچ کی داستان

ہورچ نے سرِراہ ایک لوہار کی بھٹی لگا رکھی تھی۔ جس پر یہ کام کرتا تھا۔ یہ ابھی بچہ ہی تھا۔ غریب ہونے کی وجہ سے اسکول نہیں جا سکتا تھا، لیکن ایک خواہش تھی کہ وہ بھی تعلیم حاصل کرے۔ جب صبح کے وقت بچے اسکول جاتے تو اس کا مذاق اڑاتے، اسے لوہار لوہار کہہ کر پکارتے۔ ہورچ کو اس نام سے چڑ تھی۔ اسکول جاتے ہوئے اور پھر واپسی پر بھی بچے اس سے ٹھٹھہ کیا کرتے۔ اس کے دل میں ہونک سی اٹھتی کہ کاش! یہ بھی اسکول جا سکتا۔ لوہار کے نام سے انتہائی درجے کی نفرت اس کے دل میں بیٹھ چکی تھی۔ غربت کی وجہ سے اس کام کو چھوڑ نہیں سکتا تھا، کیونکہ یہی اس کے دانہ پانی کا ذریعہ تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مارسل بِک کی کہانی

آپ کو اپنے ارد گرد تین طرح کے انسان ملیں گے:
ایک وہ ہوں گے،جو خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں سرگرداں رہتے ہیں۔ ہر وقت خیالی پلاؤ پکاتے رہیں گے۔ خیالات میں کھوئے کھوئے فضائی قلعے تعمیر کرتے رہیں گے۔ دوسری قسم کے وہ ہوں گے، جو باتوں کے دھنی ہوتے ہیں۔ عملی زندگی میں قدم رکھنا ان کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جست میں زمین سے آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگیں گے۔ بسا اوقات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں سب کچھ کہہ رہے ہیں ، لیکن ان کی باتیں کھوکھلے نعرو ں کی طرح ہوتی ہیں۔ تیسری قسم کے لوگ جو دھن کے پکے اور عزم کے سچے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آپ کا پاکستانی بھائی ’’ڈینم پینٹس ‘‘کے مالک، منیر بھٹی

ملک پاکستان کو قرآن کریم کی سورۂ رحمن کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ جس طرح اس سورت میں بے شمار نعمتوں کا ذکر ملتا ہے،اسی طرح اس خداداد مملکت میں اَن گنت نعمتیں پائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمارے پیارے وطن کو قسما قسم کی نعمتوں سے مالا مال کیا ہے۔اس عظیم سلطنت کو ایسے رجالِ کار سے نوازا ہے، جنہوں نے اپنے ملک ہی میں کامیابی کو اپنے قدم چومنے پر مجبور کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کا نام روشن کیا۔ پھر بھی کچھ لوگ ایسے ملیں گے جو اپنی دھرتی ماں کو خیر باد کہہ کر بیرو ن ممالک پیسہ کمانے کے لیے جانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارت اور علم ساتھ ساتھ آرتھر ای اینڈرسن کی کہانی

اینڈرسن کے والدین حالات کے ستائے اپنے ملک ناروے اور رشتے داروں کو چھوڑ کر امریکا میں آ بسے۔ امیدوں کے دیے جلائے جب یہاں پہنچے، تو ان کی توقعات کے چراغ گل ہوگئے۔ یہاں کا ذرہ ذرہ ان کے لیے اجنبی تھا۔ یہاں کے درو دیوار ان کے لیے بے گانے تھے۔ وہاں تو اپنوں سے شکوہ تھا، یہاں تو کسی سے شکایت بھی نہیں کرسکتے تھے۔ وہاں روزگار نہیں ملتا تھا تو یہاں بھی گھر بیٹھے جھولی میں نہیں آ گرنے لگا تھا۔ اگر وہاں سارا دن پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے مارا مارا پھرنا پڑتا تھا تو یہاں آکر بھی صبح سے لے کر شام تک کام کرنا پڑتا تھا۔ سارا دن محنت مزدوری کیا کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔