آگے بڑھتا چلا گیا پائٹروباریلا کی داستان

آج کل لوگوں نے بہت سے کاروبار شروع کر رکھے ہیں۔ کوئی چھوٹی سی دکان کا مالک ہے۔ کسی نے اپنی ذاتی کمپنی لگا رکھی ہے۔ کوئی ہتھ ریڑھی چلا کر گزارا کر رہا ہے۔ کسی نے اپنے گھر میں ہی دکان نما اسٹور کھول رکھا ہے۔ کئی سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی یہ لوگ وہیں پر ہوتے ہیں، جہاں سے انہوں نے کاروبار کی ابتدا کی تھی، وہی کاروبار کا معمولی سا حجم اور وہی قلیل سی آمدنی ۔ صبح و شام اس کام کاج کو کرتے بھی ہیں ۔ محنت بھی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شوق و جستجو نے بخشی پرواز

ہنری فورڈ (Henry Ford) ایک مریکی صنعت کار اور فورڈ موٹر کمپنی کا بانی تھا۔ فورڈ کمپنی امریکا کی دوسری اور دنیا کی پانچویں بڑی آٹو میکر کمپنی ہے۔ امریکا کی پانچ سو بڑی کمپنیوں میں سے آٹھویں نمبر پر ہے۔ 2009 ء میں اس کی آمدنی 118.3 بلین ڈالر تھی۔2008 ء میں اس نے 5.532 ملین ڈالر موبائلز  بنائیں۔ اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد 2 لاکھ 13 ہزار ہے، جو دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

معذور ی نے راستہ نہ روکا

الویٰ اُس روز بہت خوش تھی، جس دن قدرت نے اسے بیٹا عطا کیا۔ وہ اپنے بچے کی دیکھ بھال میں ہر وقت جُتی رہتی۔ جوں جوں اس کا چاند جیسا بیٹا پروان چڑھ رہا تھا، اس کی امیدوں کا شجر بھیبڑھ رہا تھا۔ وہ اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا کرتی۔ وہ جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ذہنی بالیدگی کا سامان کرتی۔ اس کی صحت اور تندرستی کے بارے میں بہت محتاط رہتی۔ وہ اپنے بیٹے کی ہرخواہش پوری کرتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ماچس کی ڈبیا یا قسمت کی پڑیا ’’آئی کیا‘‘کا بانی انگوار کمپراڈ

انگوار کمپراڈ(Ingvar Kamprad) ایک سویڈش بزنس مین ہے۔ یہ ایک مشہور ومعروف اور دنیا کی بڑی بڑی فرنیچر کمپنیوں میں سے ایک کمپنی ’’IKEA‘‘ کا بانی ہے۔ یہ دنیا کا امیر ترین اور کامیاب ترین آدمی شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی کمپنی IKEA کے دو سو سے زائد اسٹورز 31 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے ملازمین کی تعداد 75 ہزار سے زیادہ ہے۔ اس کی سالانہ سیل 12 بلین ڈالر سے زائد ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گھڑیوں کے پٹے بیچنے والا کمپنی کا مالک کیسے بنا؟

اس کا والد پرائمری اسکول کا ہیڈ ماسٹر تھا۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ اسکول جایا کرتا تھا۔ استاد کا بیٹا ہونے کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ بھی اس سے پیار کرتے تھے۔ ایک دن استاد نے طلبہ سے پوچھا کہ آپ پڑھ کر کیا بنیں گے؟ ہر ایک نے مختلف عہدوں اور ملازمتوں کو اپنا مقصد اور ہدف بتلایا۔ جب اس سے پوچھا گیا تو اس کا جواب خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا۔ لڑکوں نے بیک زبان ہو کر کہا کہ جب اس کا ابو استاد ہے تو یہ بھی استاذ بنے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لوہار کی بھٹی سے کار کی کمپنی تک

ہنڈا کے بانی سوئی شیرو ہنڈا  سوئی شیرو ہُنڈا(Soichiro Honda) ایک جاپانی انجینئر اور صنعت کار تھا۔ اس نے 1948ء میں اپنے خاندان کے نام پر Honda کمپنی کی داغ بیل ڈالی، جو ایک لکڑی کی مینو فیکچرنگ بائیسائیکل موٹرز سے بڑھتی، پھلتی اور پھولتی ایک ملٹی نیشنل کمپنی برائے آٹو موبائل اور موٹر سائیکل مینو فیکچرر بن گئی۔ ہُنڈا 17 نومبر 1906 ء کو شیزوکا (Shizuoka) کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنا بچپن، باپ کے کام کاج

مزید پڑھیے۔۔۔