والدین نے رخت سفر باندھا۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور کاندھوں پہ رکھ لیا۔ پھر جانے کیا خیال آیا کہ انہوں نے سامان میں سے ایک نگ کو الگ کر لیا۔ یہ انہیں زائد از ضرورت بوجھ محسوس ہوا۔ اسے اٹھایا اور دونوں نے اپنے مشترکہ دوستوں پال اور کالار جابز کو گفٹ کر دیا۔ یہ اضافی بوجھ ایک ننھا سا بچہ تھا۔ والدین نہ جان سکے وہ سونے کی ایک چڑیا کسی کو تھما کر دنیا کی خاک چھاننے نکل رہے ہیں۔24فروری1955ء کو جنم لینے والے اس بچے کا نام جو کچھ بھی تھا، نئے والدین نے اس کا نام ’’اسٹیو پال جابز‘‘ رکھا۔جو آگے چل کر مشہور زمانہ کمپنی ’’دی ایپل‘‘ کا بانی ہوااور ہارڈویئر کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔

چار سال کی عمر میں والد کا سایہ اس کے سر سے اٹھ گیا۔ والدہ نے باپ کی ذمہ داریاں بھی اپنے ذمے لے لیں۔ اس بچے کی سمجھ بوجھ کچھ بڑھی تو گھریلو کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے لگا۔ ماں کبھی دیر سے واپس آتی تو یہ خود کھانا پکا کر دوسرے بہن بھائیوں کو کھلا دیتا۔ ایک دن ماں نے بھی اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھایا۔ خوش ہو کر اسے گلے سے لگالیا۔ پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا :’’دنیا تیرے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھائے گی۔‘‘بچے کی چھپی ہوئی صلاحیتیں روز بروز نکھرتی گئیں۔

میرے فون کی گھنٹی بجی۔ فرحان بول رہا تھا۔ ’’علی بھائی! اس جمعے کو عصر کے بعد میرے نئے دفتر کا افتتاح اور دعا ہے، آپ نے ضرور آنا ہے۔‘‘ مجھ سے آنے کا وعدہ لے کر اس نے فون بند کر دیا۔ میں نے جلدی سے موبائل میں ریمائنڈر سیٹ کیا اور فرحان کے دفتر کے لیے تحفے کا سوچنے لگا۔سوچتے سوچتے میرا ذہن سالوں پہلے ہماری ملاقات کی طرف چلا گیا۔

مشہور ومعروف امریکی کمپنی ’’میکڈونلڈ‘‘، دنیا میں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کی سب سے بڑی چین ہے۔ اس کمپنی کے 121 ممالک میں 40 ہزار سے زائد ریسٹورنٹ کام کر رہے ہیں۔ اس کے ملازمین کی تعداد دنیا بھر میں 17 لاکھ ہے۔ کہا جاتا ہے ہر 8 امریکیوں میں سے ایک ایسا ہوتا ہے، جس نے اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں میکڈونلڈ میں کام کیا ہوتا ہے۔ اس فاسٹ فوڈ کمپنی کے مختلف ادارے کئی شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں

٭۔۔۔۔۔۔ انگوٹھی پہننے کے شوقین میں مردوں کی 70 فیصد تعداد عقیق والی چاندی کی انگوٹھیاں طلب کرتی ہے، عقیق کی تین اقسام زیادہ مشہور ہیں
٭۔۔۔۔۔۔ محبّ وطن حکومتیں قدرتی ذخائر اور جواہرات کی تیاری میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کریں تو پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی بھرپور استعداد حاصل ہے

اسٹور سے کمپنی تک

٭۔۔۔۔۔۔آج عثیم کمپنی سعودی عرب کی سب سے بڑی 50 کمپنیوں میں سے شمار ہوتی ہے۔ اس کی شاخوں کی تعداد 107 تک پہنچ چکی ہے۔
وہ اپنے والد کے ساتھ دوکان پر جاتا۔ ریاض شہر کے مشرق میں ایک چھوٹی سی دوکان تھی۔ دوکان اگرچہ چھوٹی تھی مگر اس کے حوصلے بلند تھے۔ اپنے والد کے ساتھ تجربات حاصل کرتے ہوئے اس نے زندگی کے دو بڑے فیصلے کیے۔