منزل مقصودکی طرف…

’’…اور پھر میں میدان جنگ میں زخمی ہو کر گر پڑا۔ چاروں طرف ہر چیز گھومتی نظر آئی اور پھر مجھے ہوش نہ رہا اس کے بعد کیا ہوا۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو ایک ہسپتال میں پایا۔ میں نے حرکت کرنے کی کوشش کی، لیکن زخمی ہونے کی وجہ سے ہل نہ سکا۔ علاج ہونے سے رفتہ رفتہ افاقہ ہونے لگا اور ایک دن میں اپنے پاؤں پر چلنے لگا۔ ایک دن ڈاکٹروں کی آپس میں ہونے والی کھسر پسر سے میں چونک گیا۔ ان کے مطابق میں کسی کام کا نہ رہا تھا۔‘‘ یہ گفتگو ہے ’’ٹارگٹ‘‘ کے بانی ڈوگلس کی۔ وہ تفصیل بتاتے ہوئے کہتا ہے:

مزید پڑھیے۔۔۔

والدین کی توجہ کے سبب ...

(EDS)کمپنی راس پیرٹ جو کاروبار کی تمام تر کامیابی کو والدین کی حوصلہ افزائی اور قدرشناسی کا رہین منت سمجھتا ہے ٭…پیرٹ نے 1962ء میں الیکٹرانک ڈیٹا سسٹم (EDS)کمپنی کی بنیاد رکھی۔ 2012ء فوربس میگزین کے مطابق: یہ ساڑھے تین ارب ڈالر کے مالک ہیں اور امریکا کے 134 ویں امیر ترین شخص ہیں

 

مزید پڑھیے۔۔۔

در کھلتے چلے گئے

یہ انسان کے ساتھ اکثر ہوتا ہے کہ بچپن میں پڑھی ہوئی تحریر یا بڑوں سے سنی ہوئی بات، ہمت ہارے انسان کو سہارا دے کر دوبارہ قدموں پر کھڑا کر دیتی ہے۔ انسان اس کی بدولت آگے چلنے اور بڑھنے لگتا ہے۔ پڑھی ہوئی عبارت اور سنی ہوئی بات کبھی ضائع نہیں جاتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ لمحہ آن پہنچے، جب اس کی ضرورت ہو۔ تب یہ خود بخود اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بزنس، مگر کلچر بھی سمجھوتہ کیے بغیر

’’ہم ابتدا سے ہی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسٹمرز کو معیاری مرچنڈائز مناسب قیمت پر فراہم کرتے رہیں اور شاندار اور عمدہ سروس مہیا کرتے رہیں تو ہم امریکا میں ریٹیلنگ کے بزنس میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ آج ہم دوسروں کے لیے مثال ہیں اور جس طرح ریٹیلنگ ہونی چاہیے ، ویسی ہی ہے۔ ‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

رچرڈ جسے ایک نیک کام نے سیئرز کمپنی کا مالک بنا دیا

اس نوجوان نے ایک مسافر کو ریلوے اسٹیشن پر دیکھا جو بنچ پر بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار صاف پڑھے جا سکتے تھے۔ کافی وقت گزر گیا تھا لیکن وہ ایک حالت پر بے حس وحرکت بیٹھا رہا جیسے اس میں جان نہ ہو۔ اس کی یہ حالت اس نوجوان سے برداشت نہ ہوئی۔ اس نے مسافر کے پاس جا کر پریشانی کی وجہ پوچھی۔ وہ اس کے چہرے کو سرخ اور سوجھی آنکھوں سے تکنے لگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عملی مشق نے کامیاب کیا

’’انسان اپنے بچپن میں کسی ایسی چیز کی تمنا کر بیٹھتا ہے ، جس کے مطلب اور مفہوم سے بالکل ناواقف ہوتا ہے، لیکن یہی آرزو پوری ہوجاتی ہے جب انسان بڑا ہوتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا۔‘‘ الیکسی موردیشو اپنی کامیابیوں کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتا ہے: ’’ایک دن کلاس میں میرے استاذ نے پوچھا: الیکسی! بڑے ہوکر کیا بنو گے؟‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکلا: ’’اکانومسٹ۔‘‘ انہوں نے پوچھا: ’’یہ کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں ان کا چہرہ تکنے لگا اور پھر نفی میں سر ہلا دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔