2 اپریل 2013ء … 58,400 روپے
3 اپریل 2013ء … 58,300 روپے
4 اپریل 2013ء … 58,900 روپے
5 اپریل 2013ء … 59,750 روپے
6 اپریل 2013ء … 59,950 روپے


قیمتوں میں سالانہ اضافہ
یکم فروری 2012ء … 58,800 روپے
2 جنوری 2012ء … 53,700 روپے
یکم جنوری 2011ء … 45,650 روپے
2 جنوری 2010ء … 35,200 روپے
4 فروری 2009ء … 26,650 روپے
بحوالہ: Karachi Saraf
عالمی معاشی بحران پیدا ہوتے ہی سرمایہ کاروں نے سونا ذخیرہ کرنا شروع کردیا۔ معاشی بحران نے دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں کا کھوکھلا پن آشکارا کردیا۔ کاغذی کرنسی سے لوگوں کا اعتماد اس قدر اٹھا کہ انہوں نے صدیوں پرانی سرمایہ کاری یعنی ’’سونا جمع کرنے‘‘ کی سوچی۔ دوسری طرف چین اور انڈیا جیسی ابھرتی ہوئی طاقتوں نے بھی دھڑا دھڑ سونا خریدنا شروع کیا۔ 2012 ء دنیا بھر کے سینٹرل بینکوں نے 534.6 ٹن سونا خریدا۔ سینٹرل بینکوں کی طرف سے اتنا سونا پچھلے 58 سال میں نہیں خریدا گیا۔ اس میں چین شامل نہیں۔ چین نے صرف 2011ء میں 769 ٹن سونا خریدا۔ پاکستان میں سونے کی قیمتیں ایک طویل عرصے سے 60 ہزار روپے فی تولہ کے لگ بھگ ہیں۔ اپریل کا مہینہ شروع ہوتے ہی سونے کی قیمت ذرا سی کمی کا شکار ہوئی تھیں۔ مگر اب ایک بار پھر اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کچھ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے اور لڑائی کی نوبت آئی تو سونا سستا ہو جائے گا۔
حکومتوں کے پاس سونے کے ذخائر
امریکا…8133 ٹن
جرمنی…3406 ٹن
IMF…3005 ٹن
اٹلی…2451 ٹن
فرانس…2435 ٹن
چین…1054 ٹن
انڈیا…557 ٹن
پاکستان…65 ٹن