دنیا بھر میں تمام جرائم بے روزگاری سے شروع ہوتے ہیں۔ بے روزگار نوجوان کے دل میں محرومی کا احساس پیدا ہوجائے تو پھر وہ کچھ بھی کر گزرتا ہے۔ جوانی کا جوش اس کے دل سے سزا کا خوف ختم کردیتا ہے۔ قتل و غارت، چوری و ڈکیتی، لوٹ، کھسوٹ اور دھوکہ فریب کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے

مطابق پاکستان میں اکتوبر2012 سے دسمبر2012 کے دوران بے روزگاری کی شرح 6 فیصد سے بڑھ کر 6.5 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ شہروں میں بے روزگاری کی شرح میں 10.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ گاؤں میں یہ اضافہ 16.3 فیصد تک ہوا ہے۔سابقہ حکومت نے دیہی لاقوں میں لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے 8 کھرب روپے وقف کئے، سب سے زیادہ روزگار کے مواقع محکمہ زراعت کی جانب سے فراہم کئے گئے تاہم اس کی شرح بھی 46.3 فیصد سے کم ہو کر 5. 45 فیصد ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد کا بے روزگار ہونا معیشت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

جولائی 2008………5فیصد
جولائی 2009………5.3فیصد
جنوری 2010………5.6فیصد
جنوری 2011………6فیصد
جنوری 2012………6فیصد
جنوری 2013………6.5فیصد
بحوالہ: tradingeconomics

عالمی سطح پر روزگار میں اضافے کی سالانہ شرح

2007 2008 2009 2010 2011 2012

دنیا 1.7 1.1 0.4 1.4 1.5 1.3
ترقی یافتہ ممالک 1.5 0.6 2.2 0.2 0.4 0.3
مشرقی ایشیا 1.2 0 0.6 1 0.6 0.5
جنوبی ایشیا 0.9 0.7 0.5 1 2.1 2
مشرق وسطی 3.8 1.7 3.4 3.2 3.4 3
شمالی افریقہ 3.7 3 2.2 2.5 1.1 2

دنیا کے مختلف ممالک میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں آبادی میں اضافے کی شرح 2فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں روزگار کے مواقع اتنی تیزی سے نہیں بڑھ رہے۔ غریب ممالک میں بے روزگاری کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

کاٹن

کاٹن کاروبار سست روی سے جاری ہے، زیادہ تر ملز ورلڈ اور لوکل کرائسز کی وجہ سے سائیڈ لائن ہیں- وقاص کنسلٹنسی کی رپورٹنگ کے مطابق اگر ہم رواں ہفتہ کا کا ٹن بازار دیکھیں تو ڈیلز تو 7000تک نکلی ہیں لیکن زیادہ تر ڈیلز ادھار پر ہیں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ 88فیصد خریدار ادھار پر خرید کے خواہشمند ہیں اب جو باقی کہ 25فیصد ہیں وہ نقد کا جو ریٹ بولتے ہیں وہ جنرز کو حساب سے بہت کم ہیں اس لیئے زیادہ تر جنرز ریٹ لینے کیلیئے ادھار پر ہی بیچ رہے ہیں۔

دوسری طرف انرجی کرائسز، اور ٹیکس ایشوز، امن و امان کے معاملات یہ سب چیزیں مارکیٹ پر منفی اثر انداز ہو رہی ہیں لوڈشیڈنگ کی صورتحال میں پروڈکشن میں کمی پیدا ہو رہی ہے جس وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر کی ایکسپورٹ میں نمایاں کمی پیدا ہوئی ہے تولیہ، یارن اور فائبر جیسے شعبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں - ٹیکسٹائل شعبوں میں یہ نیگٹو فیکٹر کاٹن مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہو رہے ملز کاٹن خریداری میں زیادہ توجہ نہیں کر رہیں جس وجہ سے بڑھتے ریٹس بھی رک گئے ہیں بلکہ ان میں کمی ہونا بھی شروع ہو گئی ہے-

وقاص کنسلٹنسی کی انٹرنیشنل رپورٹنگ کے مطا بق ورلڈ سٹاک میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ورلڈ ریکارڈ اب 82.5 ملین گانٹھ کی سطح پر ہے جو کہ پچھلے سال سے 12.3 ملین زیادہ ھے جو کہ تقریبا 18 فیصد بنتا ہےورلڈ لیول پر چائنہ کا اہم رول ہے اب تک کی اطلاعات کے مطابو چائنہ کاٹن سٹاک میں دو سال کیلیئے کور ہے اب چائنہ اس پوزیشن میں ہے کہ مارکیٹ کو اپنی مرضی کے مطابق چلا سکے چائنہ اس وقت امریکن انڈین کاٹن کا سب سے بڑا خریدار ہے اب اگر چائنہ ایک سال امریکن کاٹن نہ خریدے تو امریکہ جس کی اپنی کھپت تو بہت کم ہے اور وہ زیادہ روء چائنہ کو فروخت کرتا ہے تو اس کیلیئے بہت زیادہ مشکل پیدا ہو سکتی ہے اور یہ چیز انٹرنیشنل کاٹن پر بہت زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے - ان تمام چیزوں کو مدنظر رکتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ آئندہ کاٹن مارکیٹ چائنہ کی اگلی کاٹن پالیسیوں کے مطابق ہی چلے گی-اس کے علاوہ ابھی چائنہ اور انڈیا کا اپنے سٹاک کو لوکل ملز کو فروخت کی وجہ سے انٹر نیشنل مارکیٹ پریشر ر میں رہی ہے۔ 

نوٹ: یہ فگر اور ریٹ 14 اپریل تک کے ہیں