اگرچہ امریکا درآمدات کی بڑی منزل کے طور پر اپنے تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور جرمنی بھی بڑے خریداروں کے طور پر موجود ہیں، لیکن عرب ممالک کی طرف بھیجے گئے تجارتی اموال کی مجموعی آمدنی کے لحاظ سے ایشیا اور افریقا مغرب کی روایتی مارکیٹوں کو پچھاڑ کر آگے بڑھ چکے ہیں۔ ایکسپورٹر ایشیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی اقتصادیات پر اپنی نگاہ رکھے

ہوئے ہیں اور بدلتی ہوئی ایکسپورٹ مارکیٹ کی طلب کا جواب اِسی پرڈوکٹس سے دے رہے ہیں، جس سے تجارت کے دائرے کو مزید وسعت ملے گی۔گزشتہ مالی سال میں متحدہ عرب امارات، افغانستان اور چین نہ صرف بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے بڑے خریداروں کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں، بلکہ ان ملکوں کی طرف ہونے والی برآمدات کا حصہ کل برآمدات کی آمدنی کا 28 فیصد ہے، جو کہ امریکا برطانیہ اور جرمنی کے 24 فیصد حصے سے بڑھ کر ہے۔ 2012ء کے مالیاتی سال میں ان ملکوں کی برآمدات23.641 بلین کے لگ بھگ تھیں۔
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TPAP) کے ایک سنیٹر آفیسر کا کہنا ہے کہ ایشائی مارکیٹس یورپی مارکیٹوں کے مقابلے میں اسی طرح تیزی سے ابھر کر سامنے آرہی ہیں، جیسے مشرقی اقوام مغربی قوموں کے مقابلے میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے 2012ء کے مالیاتی سال کے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا اور یورپ سے حاصل ہونے والی برامدات کی آمدنی 10 بلین ڈالر سے کم تھی اور مجموعی طور پر ان کا حصہ 42 فیصد تھا۔ اس کے مقابلے میں ایشیا اور افریقا کا حصہ 55 فیصد اور آمدنی 13.4 بلین تھی، جبکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا حصہ صرف ایک فیصد آمدنی 230 ملین ڈالر تھا۔
2008-9ء کے عالمی مالیاتی بحران اور مندی کے دور سے پہلے ہی ایشیا مغرب کی اقتصادی بڑھوتری سے کہیں آگے دوڑ رہا تھا۔ 1995ء سے 2004ء کے درمیان خطے کی اوسط اقتصادی بڑھوتری کی شرح 7.1 فیصد تھی جو کہ عالمی اقتصادی بڑھوتری کی اوسط شرح 3.6 فیصد سے دگنی تھی۔
گزشتہ مالی سال میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی دوطرفہ تجارت نے 9.9925 بلین ڈالر کے ہدف کو چھو کر متحدہ عرب امارات سے درآمدات مجموعی طور پر 7.702 بلین یا ہمارے ٹوٹل امپورٹ بل کا 44.912 بلین 17فیصد سے معمولی سا زائد ہے۔
متحدہ عرب امارات اور اس کے ساتھ ساتھ چین اور بھارت کی طرف برآمدات میں بڑھوتری کا سبب یہ بھی ہے کہ اب ہم گزشتہ 5 سال کی نسبت ان ممالک کی طرف سے زیادہ درآمد کررہے ہیں، کیونکہ اصول یہی ہے جب آپ کسی ملک سے مختلف تجارتی اموال درآمد کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بہت سارے ایسے دروازے کھل جاتے ہیں، جن سے آپ اپنے اموال بھی برآمد کرسکتے ہیں۔ کاروباری تعلقات بڑھ جانے کے سبب ایسا ہونا عین ممکن ہے۔
2012ء کے مالیاتی سال میں 456 ملین ایکسپورٹ آمدنی کے ساتھ ترکی کا 12 واں نمبرہے۔ اس کے بعد سعودیہ عرب 418 ملین، ہانگ کانگ 394 ملین، انڈیا 338ملین اور سری لنکا کی ایکسپورٹ آمدنی 305 ملین ہے۔
TDAP کے افسر کے مطابق ٹاپ ایکسپورٹ ممالک ممکن ہیں، چند سال تک فہرست میں اپنا مقام برقرار رکھیں، لیکن انہیں بھی یقین ہے کہ ترتیب تبدیل ہوجائے گی۔
مثال کے طور پر چین افغانستان اور متحدہ عرب امارات کو ممکنہ طور پرپیچھے چھوڑ دے، کیونکہ ہمارے ایکسپورٹر بہت تیزی سے چائنہ کی مارکیٹوں میں نقب لگا کر داخل ہورہے ہیں۔
پاکستان میں چینی بینکوں کی انتظامیہ کی موجودگی اور پاکستا ن روپے کا ’’چینی ین‘‘ کے ساتھ مبادلہ کا انتظام اس روپے کو مزید مہمیز دے گا۔
بہرحال افغانستان سے 2014ء میں امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد ایک نیا منظرنامہ سامنے آئے گا۔ کابل ہمارے لیے برآمدات کی ایک بڑی منڈی کے طور پر باقی رہے گا، لیکن برآمدات کی آمدنی میںا ضافہ افغانستان کی مجموعی اقتصادی کیفیت پر منحصر ہوگا۔