پاکستان میں توانائی کا بحران اس قدر شدید ہوچکاس ہے کہ اکنامک سروے 2012-13 کی پریذنٹیشن کئی گھنٹے مؤخر ہوگئی۔ کیونکہ ملک کے اقتصادی منیجرز توانائی کے شعبے میں پیدا ہونے والے بگاڑ سے باہر نکلنے کے لیے مشاورت میں معروف تھے۔یہ اچھی بات ہے کہ حکومت ان مسائل کو سمجھ رہی ہے جن کے بارے میں گمان کیا گیا کہ 2013 کے مالی سال میںملک کے GDP میں

ان کی قد 2 فیصد ہوگی۔پاکستان کی خالص توانائی کی سپلائی 2013 کے مالی سال کے دوران محض 0.3 فیصد جو شائد اس کی GDP نمو کی ظاہر کرتی ہے۔
سروے GDP اور توانائی کے خرچ کے درمیان باہم مضبوط تعلق کی طرف توجہ دلاتا ہے۔
سروے کے اعداد و شمار قدرتی گیس کے خرچ میں سال بہ سال 6 فیصد اضافہ دکھاتے ہیں ۔ اس کا سبب اس عرصے میں قیمت میں بہتری کی پالیسی اور نئی دریافتوں کے باعث گیس کی سپلائی کا بہتر ہونا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہاں گیس کے ستحصال میں پریشان کن چلن ہے۔ جیساکہ گھریلو استعمال کا ؟؟؟ مسلسل بڑھتے ہوئے 23.2 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ 2008 میں یہ 16 فیصد تھا۔
گیس گھریلو استعمال مثالی کیوں ہیں اس کی وجہ کیا ہے یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں، لیکن اس حوالے سے کیا کیا جائے اس طرف توجہ بہت کم ہے۔
دیگر ایندھنوں کے مقابلے میں گیس کی قیمتوں کا انتہائی کم ہونا یہ قیمتی ذرائع کا بہت بڑے طریقے سے استعمال کرنا ہے۔

دوسرا پر یشان کن عنصر کھاد کے شعبے کی طرف سے ہرسال 12 فیصد تک فیڈ اسٹاک کھا د کی تیاری میں گیس کا خرچ مسلسل تین سال تک گراہے ، جس نے نہ صرف LSM پیداورا کو متأثر کیا ہے، بلکہ امپورٹڈ یوریا کی صورت میں امپورٹ بل میں بھی افراط زر پیدا کیا ہے۔ بڑے پیمانے پر گیس کی تخفیف سے کھاد کے شعبے کے لیے کوئی نیا نمونہ ظاہر ہوتا کھائی دیتا ہے جو بہت بڑی زرعی اقتصادیات کے لیے غیر صحت مند علامت ہے۔
گیس کے صرف میں پاور سیکٹر کا شیئر کم ہو کر 27.5 فیصد تک آچکا ہے،جبکہ مشرف دور میں یہ 40 فیصد کی بلند شرح پر تھا۔
سروے ایک ٹیبل دکھاتا ہے، جس میں سالانہ انسٹالڈ کیپسٹی ایڈیشن کو ظاہر کیا گیا ہے۔

ا س سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں گزشتہ 4 برسوں میں 3,300mw جمع کیے گئے۔ مشرف کے دور میں جس قدر جمع کیے گئے یہ اس کے دگنے سے بھی کچھ زیادہ ہیں۔
اب فاضل میگاواٹ اقتصادی بڑھوتری میں تبدیل بھی ہوسکتے جیسا کہ ایندھن سپلائی کا خراب مسئلہ گردش قرضے ٹیکس جمع کرنے ہی نااہلی اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ موافق صلاحیت کبھی نہیں پہنچے گی۔
یہ منظر نامے کو واضح کرتا ہے کہ گریڈوں میں مزید میگاواٹ جمع کرنا ایسا عمل ہے جو ابھی مطلوب نہیں ہے، پہلے سے موجود کو چلانا زیادہ مؤثر ہے۔
اقتصادی سروے ایسی کوئی چیز آشکار نہیں کرتا جو معلوم نہ ہو اور انہیں اس کی ہدایت دینے کی ضرورت ہو ان کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔ توانائی کے مسائل پر بہت کچھ بولا اور لکھا جاچکا ہے۔ مسائل کیا ہیں؟ ان سے کیسے نمٹا جاسکتا
حل بھی ایسے نہیں جو کوئی نہ جانتا ہو،

بالآخر یہ ایک سیاسی عزم بن جائے گا۔ یہی عزم ہی فیصلہ کرے گا کہ ملک اسی بگاڑ میں مبتلا رہے گا یا اس سے باہر نکلنے کے لیے کوشش کرے گا۔
چنانچہ آج کے دن کی بجٹ تقریر میں پاور سیکٹر کے لیے مختص سبسڈی پر نظر رکھیے گا۔ یہ ایک اچھا اشارہ دے گی اگرچہ یہاں سیاسی عزم ہویا نہ ہو۔