امن و امان کی دگرگوں صورتحال کے باوجود ملکی معیشت میں اہم کردار کی حامل کراچی اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے ریکارڈ بہتری دیکھنے میں آئی اور اس کے 100 انڈیکس کی شرح میں 23.49 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جو 17266.23 تک پہنچا۔ تاہم حصص کی مقدار میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی

جس کا تعین 142 ملین شیئرز کیاگیا۔ سب سے زیادہ اضافہ میپل لیف سیمنٹ میں ہوا جو 5.34 فیصد اضافے کے بعد 17.96 روپے فی شیئر ہو گیا۔ بائیکو پیٹرولیم کے حصص میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا جس سے اس کی قیمت 14.23 روپے تک پہنچی۔ اسی طرح فوجی سیمنٹ کے شیئرز میں 0.13 فیصد کمی واقع ہوئی اور اس کی قیمت 8 روپے تک رہ گئی۔ واضح رہے ہفتہ کے آغاز پر پیر کے دن کے ایس ای انڈیکس کی شرح 57.37 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 17004.99 تک گر گئی تھی۔

کرنسی مارکیٹ میں روپے کی قیمت امریکی ڈالر کے مقابلے میں 97.75/97.70 رہی۔ جمعرات کے دن اس میں 6.50 فیصد اضافہ ہوا تھا جو جمعہ کو 9 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ بدھ کے روز یہ شرح تبادلہ 97.69/97.64 تھی۔ مگر اگلے دو دنوں میں روپے کی شرح گر گئی۔
دوران ہفتہ جن دیگر کمپنیوں کے حصص میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ان میں کراچی الیکٹرک کے شیئرز کی قیمت 3.23 فیصد اضافے سے 6.07 روپے رہی۔ جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشنز کارپوریشن لمیٹڈ کے نرخ 0.96 فیصد کی کمی سے 18.54 روپے ریکارڈ کیے گئے۔ اسی طرح اٹک گروپ اور لکی سیمنٹ کے حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔
دریں اثنا کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے 31 دسمبر 2012ء کو ختم ہونے والی 6 ماہ کی مدت میں ایک ارب 17 کروڑ 90 لاکھ روپے کے منافع کا اعلان کیا۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ظاہر کردہ اس کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق کمپنی کا قبل از ٹیکس منافع ایک ارب 62 کروڑ 10 لاکھ روپے تھا جبکہ گزشتہ سال کی اسی ششماہی میں کمپنی نے ایک ارب 4 کروڑ 30 لاکھ روپے کا منافع ظاہر کیا تھا۔ لہٰذا اس کے فی شیئر منافع کی شرح 9.16 روپے رہی جبکہ سال 2011ء میں یہ شرح 5.46 روپے تھی۔
٭٭٭
وفاقی کابینہ نے نئی تجارتی پالیسی کی منظوری دیدی
30 جنوری کو وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں 2012ء تا 2015ء تک تین سال کے لیے قومی تجارتی پالیسی کی منظوری دی جس میں برآمدات کا 3 سالہ تخمینہ 95 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایگزم بینک کے قیام اور برآمدکنندگان کے لیے مراعات کا بھی اعلان کیا گیا۔ تجارتی پالیسی کے مطابق 5 سال تک پرانی ایمبولینس گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔ اسٹاک لاٹ پر مکمل پابندی عاید کردی گئی ہے جبکہ استعمال شدہ ٹائروں کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ کابینہ ارکان نے وزارت تجارت کو اسلحہ درآمد کرنے کی نئی قومی پالیسی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ معذور افراد کے لیے مخصوص گاڑیوں کی ٹیکس فری درآمد کی حد 13 سو سے بڑھا کر 16 سو سی سی کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ تجارتی پالیسی میں لینڈ پورٹ اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ استعمال شدہ موٹر وھیل چیئرز کی درآمد کی اجازت ہوگی۔ تجارتی پالیسی میں کانکنی، پھلوں اور سبزیوں کے کاشتکاروں اور دیگر ایکسپورٹرز کے لیے مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے سامنے مرکزی سیکریڑی منیرقریشی نے نئی تجارتی پالیسی کا خاکہ پیش کیا۔ اس خاکہ کی توثیق دسمبر میں وزیراعظم راجا پرویز اشرف سے وزارت تجارت نے حاصل کی تھی۔ اس اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، گورنر اسٹیٹ بینک، اقتصادی وزاتوں کے انچارچ، وزرائ، سیکرٹری اور چیئرمین ایف بی آر شریک ہوئے۔ کا بینہ نے جس تجارتی پالیسی کی منظوری دی اس میں 6 ماہ کی تاخیر ہوئی ہے، وگرنہ عموماً قومی تجارتی پالیسی کا اعلان جولائی میں مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔
٭٭٭
تجارتی ومعاشی صورتحال… ہفتہ رفتہ
گزشتہ پیر کے دن کراچی کی تمام الیکٹرانکس مارکیٹوں نے احتجاجی طور پر اپنا کاروبار بند رکھا جس کا سبب ان کے سابق صدر اور ایک اہم لیڈر محمد عرفان کا قتل تھا۔ مسلح قاتلوں نے 24 جنوری کو نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں ان پر گولیاں برسائیں تھی جن سے زخمی ہو کر وہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔ سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل پراچہ اور الیکڑانکس مارکیٹ رینبو سینٹر کے صدر سلیم میمن نے اس واقعہ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی سے ٹارگٹ کلر، بھتہ خور اور جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کرکے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔
…………
جمعہ یکم فروری کو جاری کردہ اعلان کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں 5 روپے فی کلو کمی کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں گھریلو استعمال کے سلنڈر کی قیمت میں 60 روپے جبکہ کمرشل سلنڈر کے نرخوں میں 240 روپے کم کیے گئے ہیں۔ چیئرمین ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر کے مطابق یہ کمی اس وقت کی گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں 5 ہزار روپے فی ٹن ریٹ کم ہوئے ہیں۔ اس اعلان کے نتیجے میں اب کراچی میں ایل پی جی کے نرخ 140 روپے فی کلو جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، سرگودھا، جہلم اور گجرات میں گھریلو استعمال کے سلنڈر کے نرخ 145 روپے فی کلو گرام وصول کیے جائیں گے۔ اسی طرح اسلام آباد، راولپنڈی اور مری میں 155 روپے جبکہ گلگت میں 160 روپے فی کلو گرام مقرر کیے گئے ہیں۔
…………
پاکستان شماریاتی بیورو کے جاری کردہ ایک جائزے کے مطابق ملک میں افراط زر کی شرح میں گزشتہ ایک سال کے دوران 8.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماہ دسمبر میں یہ شرح 7.93 فیصد تھی، لیکن ماہ جنوری میں اس کی شرح 1.67 فیصد مزید بڑھ گئی ہے۔ اس طرح گزشتہ سال جنوری سے اسی سال جنوری کے دوران مجموعی اضافہ 8.7 فیصد قرار دیا گیا۔
ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2012ء کی جائزہ رپورٹ میں ملک کے اندر ہم وطن پاکستانیوں کی سرمایہ کاری میں مسلسل کمی کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے حالیہ عرصے میں اس امید پر شرح سود 2.5 فیصد کمی کی تاکہ ملک میں پاکستانیوں کی اپنی سرمایہ کاری کو فروٖغ ملے، مگر اضافہ تو درکنار بینک کے مطابق تشویشناک طور پر مقامی سرمایہ کاری میں کمی ہورہی ہے۔
…………
ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر مرکزی بینک نے حکومت کو بتایا ہے کہ سرکاری اداروں اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2012ء کے دوران معیشت میں 3.7 فیصد ترقی ہوئی جبکہ مہنگائی میں پیشگی اندازے 12.0 فیصد سے کم یعنی 11.1 فیصد اضافہ ہوا۔ بینک کے تخمینے کے مطابق مالی سال 2013ء میںمالی خسارہ 7 فیصد تک رہ سکتا ہے۔
…………
رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ارسال کردہ رقوم نے حسب سابق اس سال بھی معیشت کو کافی سہارا دیا۔ اس کے باوجود بیرونی قرضوں کا دباؤ زرمبادلہ کے ذخائر پر ایک بڑا بوجھ ہے۔ ملکی صنعت و زراعت نے اس سال کے دوران پیداوار میں اضافہ کیا لیکن سیلابوں کے باعث بعض فصلوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔واضح رہے بیرون ملک پاکستانیوں نے رواں مالی سال جولائی تا دسمبر 7 ارب 11 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ارسال کیے، جو پچھلے سال کی نسبت 12.5فیصد زائد رقم تھی۔ گزشتہ سال کے اس عرصہ میں 6 ارب 32 کروڑ 60 لاکھ ڈالر آئے تھے۔
…………
بینک نے آئندہ توقعات میں نیٹو سپلائی کے روٹ کی بحالی اور کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں آنے والی رقوم سے کافی امیدیں وابستہ کی ہیں بشرطیکہ امریکا سے بروقت ان رقوم کی وصولی ممکن بنائی جائے۔
…………
اسی طرح اتصالات سے پرائیوٹیائزیشن کے اکاؤنٹ میں اور مواصلات کے شعبہ میں تھری جی لائسنس کی فروخت سے ہونے والی آمدنی کو سال رواں کے دوران یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
…………
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزارت پیڑولیم و قدرتی ذرائع نے یہ دعویٰ کر کے پہلے سے پریشان حال عوام کو مزید خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملکی گیس کے ذخائز اگلے 18 برسوں میں ختم ہو جائیں گے۔ یہ انکشاف وزارت پیٹرولیم کی سیکریڑی رخسانہ جمشید نے قومی اسمبلی کے سامنے کیا اورکہا کہ اس وقت اندرون ملک گیس کی مانگ 6 ارب کیوبک فٹ ہے، جبکہ پیداوار محض 4 ارب کیوبک فٹ ہے۔ ان کے مطابق اس وقت 10 لاکھ کے لگ بھگ نئے کنکشن کی درخواستیں زیر التواء رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے گیس کی چوری اور لائن لاسز پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ یہ ساری ذمہ داری خود ان کی وزارت کی ہے مگر حیرت انگیز بات یہ کہ مذکورہ وزارت نے گزشتہ 10 سال کے دوران اپنی نااہلیوں اور کرپشن کے نت نئے ریکارڈ قائم کر کے قوم کو مسلسل گیس اور بجلی کی کمی سے مصنوعی بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملکی تجارت اور معیشت ایک سنگین بحران سے دوچار ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے اور اپنی نااہلیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے الٹا قومی اسمبلی کے ارکان کو تلقین کی جارہی ہے۔
…………
ایک اور اہم اطلاع کے مطابق حکومت پاکستان نے گوادر کی بندرگاہ کو سنگاہ پور کی کمپنی پی ایس اے انٹرنیشنل سے واپس لے کر ایک چینی کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بندرگاہ کی تعمیر پر خرچ شدہ 248 ملین ڈالر کا 80 فیصد چینی حکومت نے ادا کیا تھا۔ اس کا مقصد خلیج کی ریاستوں سے براستہ پاکستان مغربی چین تک تجارتی روابط استوار کرنا تھا مگر بدقسمتی سے امریکا اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے بلوچستان بدامنی پیدا کرکے اس منصوبے کو ناکام بنارکھاہے۔