بہترین پاکستانی مصنوعات دوسرے ناموں سے امریکہ بھیجی جاتی ہیں، امریکی عہدے دارامریکا کے شعبہ زراعت کے سینئر اتاشی دار مسٹر ڈیوڈ ایل وولف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیاری غذائی مصنوعات امریکا میں بہت مقبول ہیں اور ان کی امریکا کی مارکیٹ میں کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان اپنی مصنوعات کے معیار کو بہتر کر کے پاک امریکا تجارت کو فروغ دے سکتے

ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان فوڈ ایسوسی ایشن کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بیشتر غذائی مصنوعات امریکا میں بہت مقبول ہیں۔ امریکا اپنی فوڈ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پوری دنیا سے خریداری کرتا ہے جبکہ امریکا فوڈ کی بیشتر اشیا خاص طور بیوریج دنیا میں بڑے پیمانے پر فروخت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کی اشیا کی فروخت کے لیے پاکستان میں پیکنگ کے معیار کو بہتر بنانے کے علاوہ ان کو اسٹور کرنے کا بھی منظم انتظام ہوتا ہے۔ بیشتر پاکستانی اشیا براہ راست امریکا برآمد نہیں ہوتیں۔ پاکستانی مصنوعات دبئی برآمد ہوتی ہیں جہاں سے برانڈ تبدیل ہونے کے بعد مصنوعات امریکا برآمد کی جاتی ہیں۔
پاکستان کھجور پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے
پاکستان کھجور پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، سالانہ 5لاکھ ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے ۔ پاکستان میں کھجور کا کل پیداواری رقبہ 82ہزارایکڑ کے قریب ہے۔ سب سے زیادہ کھجور سندھ میں پیدا ہوتی ہے جہاں 2لاکھ 52ہزار 3سو ٹن جبکہ بلوچستان میں سالانہ ایک لاکھ 92ہزار 8سو ٹن کھجور کی پیداوار حاصل ہوتی ہے ۔ اسی طرح پنجاب میں کھجور کی سالانہ پیداوار 42ہزار 6سو ٹن اور خیبر پی کے میں 8ہزار 9سو ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان میں کھجور کی تقریباً 150اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ صرف مکران ڈویژن میں 130اقسام سے زائد کھجور پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان کا عالمی تجارت میں حصہ صرف 0.1فیصد اور جی ڈی پی میں 0.3 فیصد ہے
امریکن بزنس قونصل آف پاکستان کی جانب سے دوسری اے بی سی اکنامک سِمٹ ،سرحدپار تجارتی معاہدوں کے اثرات کے موضوع پر منعقد کی گئی۔ اس سال مقررین میں حکماکنسلٹنگ کے سی ای او زبیرسومرو، بھارتی ہائی کمیشن کے اکنامک اور کمرشل قونصلر اروندسکسینا، سیاستدان ، کاروباری شخصیت وسابق وزیرِ مملکت عمر ایوب خان، امریکی قونصل جنرل مائیکل ڈوڈمین جیسی نامور شخصیات شامل تھیں۔ مقررین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے پاکستان کے نقطہِ نظر کے علاوہ بین الاقوامی موقف بھی پیش کیا۔اے بی سی بزنس سمٹ 2012 کی توجہ پاکستان میں تجارت پر مرکوز ہے جو کہ کونسل کے اہم مقصد کے مطابق ہے یعنی اپنے ممبر اداروں کے کاروبار کے فروغ میں معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ دینا۔ سمٹ میں مقررین نے ٹریڈ گروتھ پر سرکاری پالیسی، تجارت کی راہ میں رکاوٹیں اور ان کا خاتمہ ، برآمدات کے فروغ میں پرائیویٹ سیکٹر کا ممکنہ کردار اور پاکستان کی تجارتی کارکردگی میں بہتری کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کا ممکنہ کردار جیسے اہم معاملات پر تبصرہ کیا۔
امریکن بزنس کونسل کے صدر سعد امان اللہ خان نے سِمٹ کا آغاز کرتے ہوئے عالمی تجارت کے اعدادو شمار کا ایک جائزہ پیش کیا۔ اس جائزے کے مطابق دنیا میں مصنوعات کی تجارت کا کل حجم پینتیس اعشاریہ چار کھرب امریکی ڈالر اور خدمات کی تجارت کا حجم تین اعشاریہ سات کھرب امریکی ڈالر ہے۔ پاکستان کا جی ڈی پی، عالمی جی ڈی پی کا 0.3 فیصد ہے جبکہ پاکستان کی کل تجارت عالمی تجارت کا 0.1 فیصد ہے۔ مشاہدے کے مطابق صرف مناسب حصے کی بنیاد پر پاکستان کی تجارت تین گنا زیادہ ہونی چاہیے۔
یہ تجزیہ واضح طور پر بتا رہاہے کہ پاکستان کا ٹریڈ ڈیٹا جی ڈی پی گروتھ کے ساتھ Correlated نہیں ہے دیگر اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے لیے جی ڈی پی کا ٹریڈ1990 میں 39 فیصد تھا جو کہ2010 میں32 فیصد تک گِر گیا یعنی منفی سات فیصد کی تبدیلی۔ یہی تبدیلی بنگلہ دیش اور بھارت کے لیے بالترتیب 24 فیصد اور34 فیصد تھی۔ کئی عشروں پر محیط پاکستان کی تحفظ پر مبنی پالیسیوں اور 1990ء کے اوائل تک موثر درآمدات پر عائد 90 فیصد تک ڈیوٹی کی شرح نے مقامی صنعتوں کو غیرفعال اور لاگت کو غیر مسابقتی حد تک پہنچادیا۔2000 سے 2010 کے عشرے کے دوران امریکا سے برآمدات دس ارب امریکی ڈالر سے 24ارب امریکی ڈالر پہنچ جانے کے باوجود برآمدات جی ڈی پی کے فیصد کے مطابق 13فیصد سے 14فیصد ہی رہیں۔
امریکن بزنس کونسل کے صدر کے مطابق ایک اہم علامت فری ٹریڈ ایگریمنٹ (Free Trade Agreements FTA) کی قلیل تعداد اور موجودہ معاہدوں پر عملدرآمد میں کمی تھی۔ پاکستان کے موجودہ تجارتی معاہدے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ مارچ 1965، پاکستان سری لنکافری ٹریڈ ایگریمنٹ اگست 2002، جنوبی ایشیافری ٹریڈ ایگریمنٹ سافٹا جنوری 2004، پاکستان چائنا فری ٹریڈ ایگریمنٹ نومبر 2006، پاکستان ملائشیا فری ٹریڈ ایگریمنٹ نومبر 2007 ہیں۔
رجسٹریشن کے بغیرشہدکی مکھیاں پالنے پر 90 ہزار ڈالر جرمانہ،30 لاکھ مکھیاں ضبط
نیو یارک کی پولیس نے علاقے کوئنز کے ایک گھر سے تیس لاکھ شہد کی مکھیاں ضبط کرلی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک اسٹیٹ ایجنٹ فروخت کیے جانے والے گھر کا معائنہ کرنے کے لیے پہنچا تو اس نے وہاں شہد کی مکھیوں کی بڑی تعداد دیکھی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس اہلکاروں اور شہد کی مکھیاں پالنے والے لوگوں کی نیو یارک ایسوسی ایشن کے اراکین کو تیس لاکھ شہد کی مکھیوں کے چھتوں پر مہر لگانے اور لے جانے میں چار گھنٹے لگے۔یہ شہد کی مکھیاں ایک مقامی ریستوران کے مالک ای جن چین نے پالی ہوئی تھیں۔ ذرائع ابلاغ عامہ نے بتایا کہ جوانی میں انہوں نے چین میں شہد کی مکھیاں پالنے والے فارم میں کام کیا تھا اور ان میں شہد کی مکھیوں سے بہت لگاؤ پیدا ہو گیا تھا۔ ای جن چین کا کہنا ہے کہ جس طرح لوگ کتوں اور بلیوں کو گھر میں رکھتے ہیں اسی طرح میں نے شہد کی مکھیوں کو رکھا تھا۔ اب انہیں رجسٹریشن کے بغیر شہد کی مکھیوں کے چھتے نصب کرنے کے لیے نوے ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔