طلبہ تخصص فی فقہ المعاملات المالیہ CDCنے اپنی یہ خدمات 2008ء میں مہیا کرنا شروع کیں۔اس وقت مارکیٹ میں 50سے60رجسٹرار موجود ہیں اورCDCکے پاس 46کمپنیاں ہیں جن کو CDCشیئر رجسٹرار کی خدمات مہیا کرتی ہے اور ان میں سے ایک PIAبھی ہے۔اس کا طریق کار درج ذیل مثال سے سمجھ لیجیے۔
مثال کے طور پر'' الف '' ایک کمپنی ہے جس نے کاروبار کا آغاز کیا اور شیئر اسٹاک مارکیٹ میں ڈال دیے۔ قانوناً اس نے رجسٹرار کو بھی کرائے پر

ہائرکرناتھا۔ اس لیے معاملہ CDCسے کر لیا۔ زید نے آکر کمپنی الف کے100 شیئر خریدے تو CDCاس سودے کو درج کرے گا کہ زید نے کمپنی الف کے 100شیئر، مثلا نمبر 1سے نمبر100تک خرید لیے اور پھر اگرزیدان کو عمر کے ہاتھ فروخت کرتا ہے تو CDCان کا اندراج عمر کے نام میں کردے گا اور زید کے کھاتے سے صاف کردے گا۔ لہذا کمپنی الف کو نفع تقسیم کرنا ہو یا بونس شیئر جاری کرنے ہوں یا Right Shareجاری کرنے ہوںیااپنے حصہ داران کے بارے میں جاننا ہو ۔ ان سب کاموں کے لیے وہ CDCسے رجوع کرکے معلومات حاصل کرے گی اور ان خدمات کی CDCکو فیس دے گی۔ یہ بنیادی ڈھانچہ ہے شیئر رجسٹرار کا۔
(3) TECHNOLOGY SYSTEM
جیساکہ CDCایک ایسا ادارہ ہے جس نے کمپیوٹر اور الیکٹرونکس کو استعمال کرکے ڈیٹا محفوظ کرنا ہوتا ہے، اس لیے CDC دنیا کی بڑی کمپنیوں IMBاور Microsoftکی Certified Partnerہے تو CDCپاکستان کیLocal Market میں IBM اور Microsoft کی پروڈکٹس فروخت کرتی ہے۔ اب اگر پاکستان کی دوسری بڑی کاروباری کمپنیوں کو جب کوئی Softwareخریدنا ہوتا ہے تو وہ براہ راست IBM اورMicrosoft وغیرہ سے خریدتی ہیں۔وہاں سے کوئی شخص آتا اور اس مشنری کمپنی کو سکھاتااور چلاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ سارا خرچ مشنری کے ذمے تھا۔پھراگر تبدیلیوں کی بناپرسافٹ ویئر میں تبدیلی کرنا ہوتی ہے تو دوبارہ اس کو بلایا جاتا ہے۔پھر اس پر خرچ آتاہے۔ سی ڈی سی چونکہ Certified Partnerہونے کی بنا پر یہ خدمات کم قیمت پرمہیاکرسکتی ہے تھی، اس لیے سی ڈی سی نے Technology Services مہیا کرنا شروع کردیں۔اس کا آغاز 2009ء میں کیا گیا۔پہلے جو کام باہر سے کوئی شخص آکر کرتاتھااب وہ کام سی ڈی سی سے کروایا جاتاہے ۔ اب IT.minasکے نا م سے ایک کمپنی CDCکی ذیلی کمپنی کے طور پر وجود میں آچکی ہے۔جو Technolgy Servicesمہیا کرتی ہے۔ (4) PLEDGING OF SECRITIES
اس کا مطلب یہ ہوتا ہے جن لوگوں کے شیئرز سی ڈی سی میں رکھے ہیں ، وہ ان کو کسی ادارے کے ہاں رہن رکھوا کر قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے، مثلا حبیب بینک بھی سی ڈی سی کے ہاں Pledge Accountکھلوا چکا ہے اور زید کے شیئرز کا اکاؤنٹ بھی ہے۔ اب زید حبیب بینک کے پاس جا کر کہتا ہے کہ میرے ایک لاکھ کے شیئرزسی ڈی سی میں ہیں۔ اگر میں یہ آپ کے پاس رہن رکھوا دوں تو کتنا قرض مل سکتا ہے۔ بینک کچھ رقم مثلا 70ہزار کی منظوری دیدے گا۔اب حبیب بینک اور زید،CDC سے رابطہ کریں گے اور بینک زید کو قرض دے دے گا، جبکہ سی ڈی سی ، زید کے شیئرز کو رہن کے طور پر Block Mark کردے گا۔ اگر زید قرض دے دے گا تو CDC اس شیئرز کو Block Release کردے گا۔ اگر قرض واپس نہ دے سکا تو بینک کو یہ شیئرز فروخت کر کے اپنی رقم لینے کا اختیار ہوتا ہے۔البتہ اتنی مدت میں اگر Dividend یا Bonus آئے گا تو وہ زید ہی کو ملے گا۔ یاد رہے سی ڈی سی اس عمل کی کوئی الگ فیس نہیں لیتا، بلکہ اس کا نفع یہی ہے کہ بینک اور زید اپنے اکاؤنٹس کی سالانہ فیس ادا کرتے ہیں۔

(5) Deposit And Transfer of Securities
کوئی بھی شخص شیئرز، صکوک یا سر ٹیفکیٹ وغیرہ لے آیا تو CDC اس کو یہ سہولت مہیا کرتی ہے کہ اس کی ان Securities کو اپنے پاس محفوظ کر لیتی ہے۔ یہ خدمت (Deposit) کہلاتی ہے۔اسی طرح ان کی ملکیت کی تبدیلی بھی کروائی جاسکتی ہے، مثلاً: پہلے زید کے کھاتے میں سی ڈی سی میں ریکارڈ تھی۔ اب اس کی ملکیت عمرکے نام کر کے ان کو عمر کے کھاتے میں بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔ یہ خدمت ٹرانسفارمر کہلاتی ہے۔ ان دونوں کاموں کی فیس ہوتی ہے۔ (6) Withhdrawl Of Securities
اگرچہ لوگوں کے شیئرز Electronically، CDC میں محفوظ ہیں، لیکن انسان کی فطرت ہے کہ اس کو کسی چیز کا حسی وجود ہاتھ آجائے تو اس کے اطمینان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے سی ڈی سی یہ خدمت بھی مہیا کرتی ہے کہ اگر کوئی اکاؤنٹ ہولڈر چاہے کہ اس کو اپنے شیئرز کی کاغذی دستاویزات بھی مل جائیں تو وہ CDC جا کر وصول کر سکتا ہے، البتہ اس کی فیس ادا کرنا ہو گی۔

(7) Subscription Of Unpaid Rights
Listed کمپنیاں جب مزید سرمائے کی ضرورت محسوس کرتی ہیں تو مختلف طریقے اختیار کرتی ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ اگر Aunthorized Capital میں گنجائش ہو تو کمپنی Right Shares کا اجرا کرتی ہے۔ ان شیئرز کو خریدنے کا پہلا حق کمپنی کے پرانے شیئرز ہولڈرز کا ہوتا ہے۔ اگر وہ لے لیں تو ٹھیک ورنہ دوسرے لوگوں کو پیش کش کی جاتی ہے۔سی ڈی سی کے قیام سے قبل یہ کافی دشوار عمل تھا کہ کمپنی ان Right Shares کا اعلان کرتی، پھر لوگ آتے اور وقتاً فوقتاً خرید لیتے یا رد کردیتے۔ اس میں وقت بھی زیادہ لگتا تھا اور مشقت بھی زیادہ تھی۔
CDC نے یہ کام آسان کر دیا۔ اب شیئرز ہولڈرز جیسے ہی Right Shares کے اجرا کا اعلان سنیں گے وہ گھر بیٹھے سی ڈی سی میں فون کر کے بتا دیں گے کہ ہمارے لیے اتنے Right Shares خرید لیے جائیں۔ اس طرح یہ کام آسان بھی ہو گیا اور وقت بھی کم صرف ہوتا ہے۔ (جاری ہے)