عید آتے ہی عیدی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ بچوں کی ضد ہوتی ہے کہ نئے نوٹ دیے جائیں۔ بینکوں سے نئے حاصل کرنے کے لیے ہر شخص رابطے شروع کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ کمرشل بینک ہر شخص کو 10اور 20 روپے کا ایک پیکٹ دے سکتا ہے۔ مگر عید قریب آتے ہی نئے نوٹ کی بلیک مارکیٹنگ شروع ہو جاتی ہے۔ ہر پیکٹ پر تقریباً 15 فیصد سود کمایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال رمضان المبارک میں 144ارب روپے کے نئے نوٹ جاری کیے گئے تھے۔ اب امید ہے 20سے 30فیصد زیادہ نوٹ چھاپے جائیں گے۔ اسٹیٹ بینک کی طرف سے ہر سال مختلف ٹیمیں بینکوں کی انسپکشن کرتی ہیں، مگر اس کے باوجود نئے نوٹ کی غیر قانونی خرید و فروخت بند نہیں ہو سکی۔ یہ غیر قانونی خرید و فروخت تبھی بند ہو سکتی ہے جب ہر شخص اپنی ذمہ داری کا احساس کرے۔(بحوالہ: بزنس ریکارڈر)

 

 بجلی بحران نے ہر ہر پاکستانی کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ نئی حکومت نے عوام کو بجلی بحران سے چھٹکارا دلانے کا وعدہ کیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بجلی کی پیدوار میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح بجلی بحران میں رفتہ رفتہ کمی آنا شروع ہوئی ہے۔ مگر اس موقع پر وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی اس بحران کو ختم کرنے میں کردار ادا کریں۔ حکومت نے سب سے پہلے گردشی قرضے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی پیدا کرنے کے سستے ذرائع پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ چین کے تعاون سے بجلی گھر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ان تمام وفاقی کوششوں کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کو بھی بھر پور محنت کرنا ہو گی۔ صوبوں کی طرف سے بجلی پیداوار کے لیے مختص رقم کی تفصیلات دیکھنے سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس کس صوبے کی حکومت کو بجلی بحران کم کرنے سے دلچسپی ہے۔