سونا اور چاندی (Gold & Silver) دونوں قیمتی، نادر اور نفیس اشیا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو انسان کے لیے اس قدر مفید بنایا ہے کہ ابتدا سے یہ دونوں چیزیں انسانی معاشرے میں کیش، پیسے اور چیزوں کی قیمت کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ انسان جہاں بھی رہا ہے اس نے سونے چاندی کی دریافت کے بعد انہیں مالی معاملات اور کاروباری لین دین(Trade) کے لیے معیار اور پیمانہ قرار دیا ہے۔ دنیا کی تمام مادی چیزوں کی قدر و قیمت سونا چاندی کے ذریعے قائم کی جاتی ہے اور چیزوں کے تبادلے میں بھی اس کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔

اس دور میں بھی سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کو عالمی معیشت (Globle Economy) میں بڑی اہمیت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن سونے اور چاندی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کیسے ہوتا ہے؟ اس کو ہم ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر چھ عناصر (Factors) ایسے ہیں جو سونے کی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں:
1 امریکی ڈالر کی قیمت میں تبدیلی (Value of Dollar)
2سود کی شرح میں اضافہ یا کمی (Interest Rate)
3 دنیا کی سیاسی صورت حال(Globle Political Situation)
4 دنیا کی معاشی صورت حال (Worldwide Economic Situation)
5 سونے کی کان کنی کی قیمت(Cost of Production)
6 سونے کی طلب و رسد(Demand & Supply)
1 امریکی ڈالر کی قیمت میں تبدیلی


٭…دنیا کی تمام مادی چیزوں کی قیمتیں سونا چاندی کے تحت قائم کی جاتی ہیں ٭… لوگ پیسے کو افراط زر سے بچانے اور زیادہ نفع کے لیے بینک سے نکال کر سونا خریدنے میں لگا دیتے ہیں ٭

سب سے پہلا عنصر جو سونے کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے، وہ امریکی ڈالر ہے۔ بڑے بڑے سرمایہ کار (Investor) ڈالر کے ذریعے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جب ڈالر کی قیمت میں کمی واقع ہوتی ہے تو سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ کرنے کے لیے سونے کے ذریعے تجارت کرتے ہیں۔ یو ں سونے کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طلب کے اضافے کے باعث سونے کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پھر جب ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو لوگ ڈالر میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ڈالر کے ذریعے ہی خرید و فروخت کر تے ہیں اور سونے کی طلب میں کمی کی وجہ سے قیمت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ سونے کی قیمت میں کمی اور اضافے کے پیش نظر امریکی ڈالر کی قیمت کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ موجودہ دور میں امریکی ڈالر کی قیمت میں بہت فرق آتا رہتا ہے اور عدم استحکام کا شکار ہے جس کی وجہ سے سونے کی قیمت بھی مستحکم (Stable)نہیں رہتی۔
2 سود کی شرح میں اضافہ یا کمی
سود کی شرح سینٹرل بینک ((Central Bank کے ذریعے مقرر کی جاتی ہے۔ جب سینٹرل بینک سود کی شرح میں کمی کرتا ہے تو لوگ اپنے پیسے کو افراط زر (Inflation) سے بچانے کے لیے بینک سے نکال کر سونا خریدنے میں لگا دیتے ہیں، تاکہ ان کو زیادہ نفع (Return) حاصل ہو۔ جس کی وجہ سے سونے کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب سود کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے تو لوگ سونے کو فروخت کر کے دوبارہ بینک میں رکھوا دیتے ہیں اور مارکیٹ میں سونے کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سونے کی قیمت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔
3 دنیا کی سیاسی صورت حال
جب جنگ کی صورت حال ہوتی ہے تو لوگ تجارت کی طرف کم مائل ہوتے ہیں اور اپنی دولت کو محفوظ رکھنے کے لیے منی مارکیٹ اور اسٹاک مارکیٹ(Mony & Stock) سے گولڈ مارکیٹ (Gold Market) کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ لوگوں کے عمومی رجحان کی وجہ سے سونے کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال امریکا اور اتحادیوں کے افغانستان و عراق پر حملے کے بعد کی صورت حال ہے۔
4 د نیا کی معاشی صورت حال
تقریبا 80فیصد سونا زیورات میں استعمال ہورہا ہے۔جب عمومی طور پر معاشی حالت بہتر ہوتی ہے توعموما لوگ زیورات کی خریداری کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ پھر زیورات کے تاجر (Jewellery Traders) میدان میں آتے ہیں۔ جس کی وجہ سے سونے کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ 2009ء میں سونے کی طلب میں32فیصدکمی ریکارڈکی گئی جو عالمی معاشی بحران Economic Crisis)) کا نتیجہ تھا۔ اور جیولری انڈسٹری (Jewellery Industry) میں چین اور بھارت سرفہرست ہیں۔
5 سونے کی کان کنی کی قیمت
سونے کی کان کنی (Mining) کی قیمت میں اضافہ بھی سونے کی قیمت میں اضافے کا سبب بنتی ہے، مثلا: اگر کان کنی کے لیے استعمال ہونے والی مشینری (Machinery کی قیمت میں اضافہ ہو جائے یا مشینری میں استعمال ہونے والے ایندھن (Fule) مثلا پٹرول، ڈیزل یا کوئلہ کی قیمت میں اضافہ ہو جائے، یا افراد کار کی قیمت(Workforce Wages)میں اضافہ ہو جائے تو یہ بھی سونے کی قیمت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
سونے کی طلب و رسد
سونے کی قیمت کے اتار چڑھاؤ میں بنیادی طور پر معاشیات (Economics) کا طلب و رسدکا اصول ہی کارفرما ہے۔ یعنی جب کسی چیز کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جب کسی چیز کی طلب میں کمی واقع ہوتی ہے تو اس کی قیمت میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے۔