حکومت بڑی سنجیدگی سے اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ اب اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری اداروں کو واضح ہدایات پر مشتمل فریم ورک جاری کردیا ہے۔ اس فریم ورک کا مقصد اسلامی بینکاری کو مزید موثر بنانا ہے۔ اس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔ بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ کم ازکم 3شریعہ اسکالرز پر مشتمل بورڈ تشکیل دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی شریعہ آڈٹ کو بھی متعارف کروایا گیا ہے۔


پاکستان پر بیرونی قرض بہت تیز رفتاری سے بڑھ رہا تھا، مگر اب خوش خبری یہ ہے کہ قرض بہت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ حکومت نے 4ارب ڈالر ادا کرکے قوم کے سر سے قرض کا بوجھ کم کردیا ہے۔ پہلے واجب الادا قرض کی رقم 63ارب ڈالر تھی جو کم ہوکر 59ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

میڈیا میں خبریں آرہی تھیں کہ تیزابی کیمیکل میں دھلی ادرک انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ افسوس اس پر ہے کہ ہر دوسرا شخص اسی ادرک کو استعمال کررہا ہے۔ اب حکومتی اداروں نے لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد حکم جاری کیا ہے کہ آئندہ ایسی ادرک فروخت نہیں کی جاسکے گی۔ جو لوگ اس کاروبار میں ملوث پائے گئے انہیں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔