ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے نندی پور پاور پراجیکٹ کے سامان کو تین سال تک کراچی پورٹ پر پڑا رہنے اور غیر ضروری تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ اس غیر ضروری لاپروائی اور غیر ذمہ داری کی بنا پرمذکورہ منصوبے کی مالیت 36 ارب روپے سے بڑھ کر 58ارب روپے ہوگئی، جس سے وطن عزیز کو معاشی طور پر شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔


گردشی قرضے اور بجلی بحران
وفاقی حکومت نے نجی بجلی گھروں( آئی پی پیز )کو 298ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے دو ہفتوں میں حکمت عملی وضع کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ملک میں بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے آئی پی پیز کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت جلد ہی ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پا لے گی۔گردشی قرضہ رواں ماہ کے آغاز میں خطرناک حد تک 298ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔ گردشی قرضے کی وجہ سے بجلی کی پیداوار شدید متاثر ہورہی ہے، جبکہ حکومت کو بھی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

پاک ایران تجارتی معاہدات
پاکستان اور ایران نے مشترکہ تجارت کے حجم کو 5 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اشرف محمود وتھرا اور ایران کے نائب وزیر خزانہ و اقتصادی امور بیروز علی شہری کے درمیان تہران میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت اور اقتصادیات کے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ملاقات میں بتایا گیا کہ اس وقت دونوں ممالک کے مابین تجارت کا سالانہ حجم ایک ارب ڈالر ہے، جبکہ اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ ملاقات میں سالانہ دوطرفہ تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کے لیے اقدامات اورطریقوں کا جائزہ لیا گیا۔نیز بتایا گیا کہ پاکستان ایران سے سالانہ 641.70 ملین ڈالر مالیت کی درآمدات کررہا ہے،جبکہ ایرانی سالانہ کلینڈر کے مطابق پاکستان سے ایران کو برآمدات کا حجم 320 ملین ڈالر ہے۔

موبائل فون ٹیکس اور تھری جی ٹیکنالوجی کا مستقبل
پاکستان موبائل صارفین پر ٹیکسوں کے بوجھ کے لحاظ سے دنیا کے سرفہرست ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے مطابق پاکستان میں گزشتہ چند سال کے دوران موبائل فون سروس پر عائد سیلز ٹیکس میں 30فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ سال 2012-13کے مقابلے میں ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح میں 50فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سیلولر انڈسٹری پر ٹیکسوں کی بھرمار اور امتیازی ٹیکسوں کی وصولی نے پاکستان کو ٹیکسوں کی بلند شرح کے حامل سرفہرست ملکوں میں شامل کردیا ہے۔ جس سے نہ صرف انڈسٹری کی ترقی کی رفتار متاثر ہورہی ہے، بلکہ نیکسٹ جنریشن تھری جی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں بھی مشکلات کاسامنا ہے۔ جس سے نیٹ ورک کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔