گردشی قرضے اور بجلی بحران

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے نندی پور پاور پراجیکٹ کے سامان کو تین سال تک کراچی پورٹ پر پڑا رہنے اور غیر ضروری تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ اس غیر ضروری لاپروائی اور غیر ذمہ داری کی بنا پرمذکورہ منصوبے کی مالیت 36 ارب روپے سے بڑھ کر 58ارب روپے ہوگئی، جس سے وطن عزیز کو معاشی طور پر شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عالمی دبائو، این جی اوز پر ٹیکس عائد نہ ہوسکا

حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ ملکی اور غیر ملکی این جی اوز پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے۔ مگر اس کے راستے میں مقامی این جی اوز کے بجائے بین الاقوامی این جی اوز حائل ہوگئی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ بین الاقوامی دبائو کے باعث ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی این جی اوز پر تو ٹیکس عائد ہونا چاہیے مگر مقامی ٹرسٹ و فائونڈیشن پر ہر گز نہیں۔مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹیکس عائد کرنے کے راستے میں غیر ملکی این جی اوز حائل ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملک سے اندھیرے ختم ہو گے

پاکستان میں بجلی کا بحران کم کرنے کے لیے گڈو تھرل پاور پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا گیا۔ یہ منصوبہ اپنی مقررہ مدت سے 7 ماہ مکمل ہو جس کی وجہ سے 58 ارب روپے کے اخراجات کی بچت ہوئی۔ اس منصوبے میں 486 میگاواٹ کے دو یونٹ اپنا کام شروع کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا اب ملک سے اندھیرے ختم ہوں گے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیکس میں اضافہ یا ٹیکس دینے والوں میں

حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہوکر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک دھڑا دھڑ قرض تو دے رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اتنا قرض چکایا کیسے جائے گا؟ وفاقی وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ دفاعی بجٹ سے چھیڑ چھاڑ نہیں ہوسکتی، اسی طرح ملازمین کی تنخواہوں میں بھی کمی ناممکن ہے، اب ایک ہی راستہ ہے کہ ٹیکس میں اضافہ کریں یا ٹیکس دینے والوں میں؟ شنید ہے کہ اگلے بجٹ میں نئے ٹیکس دینے والے افراد پیدا کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی بینکاری فریم ورک جاری

حکومت بڑی سنجیدگی سے اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ اب اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری اداروں کو واضح ہدایات پر مشتمل فریم ورک جاری کردیا ہے۔ اس فریم ورک کا مقصد اسلامی بینکاری کو مزید موثر بنانا ہے۔ اس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔ بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ کم ازکم 3شریعہ اسکالرز پر مشتمل بورڈ تشکیل دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی شریعہ آڈٹ کو بھی متعارف کروایا گیا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کینو کی برآمد سے 18کروڑ ڈالر کی آمدن

کینو کی برآمد سے 18کروڑ ڈالر کی آمدن
اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ملکی معیشت درست رخ پر سفر کررہی ہے۔ مہنگائی کم ہوئی، مصنوعات سازی میں بہتری آئی، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے اور روپیہ بھی مستحکم ہوگیا ہے۔ یہی دیکھیے کہ پاکستان نے رواں سال کینو کی برآمد کا ہدف حاصل کرلیا۔ اس طرح صرف کینو سے 18کروڑ ڈالر کی آمدن حاصل ہوئی۔ خدا کرے معیشت کا سفر اسی طرح کامیابیوں کی طرف گامزن رہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔