اِسلام میں کفالت کا تصور

اِسلام ہمیشہ سے ایک فلاحی، باہمی تعاون اور امن و سلامتی پر قائم معاشرے اور ریاست کی تعمیر و تشکیل کا خواہاں رہا ہے۔ وہ ایک ایسے معاشرے کا متمنی ہے، جس میں ہر شخص کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل ہو رہی ہو اور افرادِ معاشرہ امن و سلامتی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے اس نے فلاح و بہبود کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے افرادِ معاشرہ کو ایک دوسرے کی کفالت کاذمہ دار بنایا اور اُنہیں اِس کی ترغیب دینے کے لیے اجر و ثواب کا وعدہ کیا۔ اولاد اگر چھوٹی ہے تو اُس کے نان و نفقہ اور دیگر اخراجات والدین پر ہیں، والدین کے بوڑھے و ناتواں ہو جانے کے بعد یہی ذمہ داری اولاد کو منتقل ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پرانی اشیا کی ری سائیکلنگ

پوری دنیا میں Recycling کا رجحان ہے۔ لوگ پرانی اشیا کو پھر سے قابلِ استعمال بناتے ہیں۔ اسی طرح وہ ایسی بے شمار اشیا کو کسی حد تک کار آمد کرنے کے لیے کسی اور شکل میں ڈھالتے ہیں۔ مثال کے طور پر پلاسٹک کی بڑی بوتلوں کو کاٹ کر ان پر کلر کر کے ان میں پھول اور سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ پرانے کاغذ کا گتہ بنتا ہے اور پلاسٹک بیگز پھر بیگز بنانے یا پلاسٹک کا سامان تیار کرنے کے کام آ جاتے ہیں۔ اس طرح ہر استعمال شدہ چیز کا کوئی نہ کوئی حل مل جاتا ہے۔ یہاں پاکستان میں کچرے میں سے چیزیں تلاش کرنے کا بہت رجحان ہے۔ کوڑا کرکٹ کو کنٹینر میں بھر کر تلف کر دیا جاتا ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

انکم ٹیکس آڈٹ

٭…اگر کوئی آمدنی ایسی ملی جس پر ٹیکس نہ دیا کیا گیا ہو تو اس آمدنی پر دفعہ 111 کے تحت ٹیکس وصول کرے گا اور اُس پر جرمانہ یا Penalty لگائے گا
قارئین جانتے ہیں کہ تمام ٹیکس دہندگان (سول پروپرائٹر شپ، ایسوسی ایشن آف پرسن یعنی پارٹنر شپ فرم اور تمام لمیٹڈ کمپنیوں) نے اپنے گوشوارے برائے ٹیکس سال 2014 ء جمع کروا دیے ہیں۔ اس نشست میں آپ حضرات کو اس سے آگے کے مراحل سے متعارف کروایا جائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بزنس انتظامیہ کے لیے 7 ہدایات

ہر تاجر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا کاروبار خوب پھلے پھولے اور ترقی کی بلندیوں کو چھوئے، لیکن ظاہر ہے محض باتوں سے تو ترقی کے دروازے کھلنے سے رہے۔ اس کے لیے تو عملی زندگی میں ہی قدم رکھنا پڑتا ہے، تب جا کر مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ وہ کیا اقدامات ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر کوئی تاجر ترقی حاصل کر سکتا ہے؟ اور وہ کون سے کام ہیں جو ترقی کی سیڑھی کا کام دیتے ہیں؟ آئیے! ذیل میں ہم ان اقدامات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

مزید پڑھیے۔۔۔

ڈیجیٹل کرنسی

کرنسی کا سفر بارٹر سیل (اشیا کا باہم تبادلہ)کے دور سے شروع ہوا۔ آگے بڑھتے ہوئے سونے چاندی کے سکوں کی صورت اختیار کی۔اس کے بعد اس نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ جو کہ ’’حقیقی ثمن‘‘ (سونا چاندی) سے ’’عرفی ثمن‘‘ کی شکل میں تبدیل ہونا تھا۔ یہ عرفی ثمن کرنسی نوٹ (Currency Notes) کی شکل میں آج موجود ہے، لیکن کرنسی کا یہ سفر اس پر رکا نہیں بلکہ یہ سفر جاری ہے اور اپنے تسلسل کے ساتھ اب ’’ڈیجیٹل کرنسی‘‘ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملازمین کے حقوق و فرائض

دنیا میں فسادات، قتل و غارت گری، جھگڑوں، قطع رحمی اور اداروں کو تبدیل کرنے کی بنیاد دو چیزیں ہیں۔ اگر ان چیزوں کو اہمیت دی جائے، ان کا خیال رکھا جائے تو آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ وہ دو چیزیں یہ ہیں:اپنے فرائض پورے کرنا اور دوسروں کے حقوق ادا کرنا۔

مزید پڑھیے۔۔۔