٭…اگر کوئی آمدنی ایسی ملی جس پر ٹیکس نہ دیا کیا گیا ہو تو اس آمدنی پر دفعہ 111 کے تحت ٹیکس وصول کرے گا اور اُس پر جرمانہ یا Penalty لگائے گا
قارئین جانتے ہیں کہ تمام ٹیکس دہندگان (سول پروپرائٹر شپ، ایسوسی ایشن آف پرسن یعنی پارٹنر شپ فرم اور تمام لمیٹڈ کمپنیوں) نے اپنے گوشوارے برائے ٹیکس سال 2014 ء جمع کروا دیے ہیں۔ اس نشست میں آپ حضرات کو اس سے آگے کے مراحل سے متعارف کروایا جائے گا۔


تمام ٹیکس گوشوارے جمع کرا نے کے بعد ان گوشواروں کی جانچ پڑتال کا مرحلہ آتا ہے۔ کوئی کمی کوتاہی سامنے آتی ہے تو ’’کمشنر ان لینڈ ریونیو‘‘ دفعہ 120 کی ذیلی دفعہ (3) کے تحت نوٹس جاری کرتا ہے۔ جو چیزیں کم ہیں اُن کو پورا کرنے کی ہدایات جاری کرے گا۔

اسی دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو دفعہ 214(C) کے تحت Computer Ballotting کروائے گا اور ایک خاص Percentage گوشواروں کی آڈٹ کے لیے Select کرے گا۔ اسی طرح اُن گوشواروں کا آڈٹ کروائے گا، جو گوشوارے Select ہونے سے رہ گئے اور کمشنر ان لینڈ ریونیو یہ سمجھتا ہے کہ ان کا آڈٹ ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں وہ دفعہ 177 کے تحت Manual آڈٹ کے لیے نوٹس جاری کرے گا اور اپنے ماتحت آفیسر کو اُس کا آڈٹ کرنے کا حکم دے گا۔

آڈٹ کا مقصد
آڈٹ کے ذریعے انکم ٹیکس آفیسر ٹیکس دہندگان کی ساری ٹیکس ادائیگی کی یقین دہانی کرتا ہے۔ اسی طرح تمام دکھائے گئے اخراجات اور انکم کی بھی چھان پھٹک کرتا ہے۔ ان سب کا مقصد اس بات کو چیک کرنا ہوتا ہے کہ اس گوشوارے کے تحت حکومت کی آمدنی کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا؟ اگر کچھ نقصان پہنچ رہا ہو تو اس آڈٹ کے ذریعے وہ اس کو پکڑتا ہے اور کمشنر اس سے ٹیکس وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروا دیتا ہے۔

آڈٹ کی تفصیلات
آفیسر ان لینڈ ریونیو 214(C) اور 177 کے تحت select ہونے والے گوشواروں کی مندرجہ ذیل معاملات کی جانچ پڑتال کرتا ہے:

1 کاروباری سرمایہ
اس میں آفیسر ان لینڈ ریونیو چیک کرتا ہے کہ جس سرمائے کو کاروبار کو شروع کرنے میں لگایا تھا، وہ White ہے یا نہیں؟ اس میں Tax Payer کو یہ بات ثابت کرنا ہو گی کہ جو سرمایہ کاروبار شروع کرنے میں لگایا ہے وہ: ٭ ماضی میں ملازمت یا کاروبار سے حاصل کیا ہوا پیسہ ہے، جس کا ٹیکس پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے۔

٭ کسی شخص نے باہر ملک سے پیسہ بھیجا ہے یعنی Foreign Remittance ہے اور وہ Banking Channel کے ذریعے سے اس آدمی کے پاس آیا ہے۔ اس طرح یہ رقم بھی White ہے۔
٭ سرمایہ کسی نے تحفہ دیا ہے، کسی سے قرض لیا ہے، Advance ہے یا Deposit ہے، جو بذریعہ کراس چیک، Banking Instrument یا پے آرڈر کے ذریعے سے آیا ہے۔
٭ سرمایہ کسی جائیداد کی فروخت سے حاصل ہوا ہے اور اس کا ثبوت کیا ہے۔
درج بالا چیزوں کے اگر ثبوت مہیا نہیں کیے گئے تو آفیسر اس کو unexplained انکم سمجھے گا اور دفعہ 111 کے تحت ٹیکس وصول کرے گا۔ اسی طرح اگر قرضہ Advance یا گفٹ کیش وصول کیا گیا ہے تو اس کو دفعہ 39(3) کے تحت other income میں ڈال کر ٹیکس وصول کرے گا۔

2 ریونیو(Sales)
آفیسر ان لینڈ ریونیو یہ دیکھے گا کہ ٹیکس دہندگان نے تمام Sources سے حاصل کردہ آمدنی کو اپنے گوشوارے میں دکھایا ہے اور اس پر جو ٹیکس بنتا ہے وہ جمع کرا دیا ہے۔ اگر کوئی آمدنی ایسی ملی جس پر ٹیکس نہ دیا کیا گیا ہو تو اس آمدنی پر دفعہ 111 کے تحت ٹیکس وصول کرے گا اور اُس پر جرمانہ یا Penalty لگائے گا۔

3 اخراجات ) (Expenditure
آفیسر ان لینڈ ریونیو دفعہ 174 کے تحت تمام Invoices, Records اور Voucher چیک کرے گا اور یہ دیکھے گا کہ ٭ جو جو اخراجات کیے گئے ہیں اُن کا بل موجود ہے یا نہیں؟ اگر بل موجود ہے تو اُس پر اُس شخص کا نام، پتا جس سے خریداری کی گئی ہے، موجود ہے یا نہیں؟ اگر پورے سال میں کسی ایک شخص سے 50,000 یا اس سے زیادہ کی خریداری کی گئی ہے تو اس کی ادائیگی cross cheque کے ذریعے ہے یا نہیں؟

٭ اگر ٹیکس دہندگان Deducting Authority ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ اُس نے دفعہ 153 کے تحت ٹیکس کاٹ کر حکومت کو جمع کروایا ہے یا نہیں؟

٭ اگر کسی ملازم کی تنخواہ 15,000 یا اس سے زیادہ ہے تو Cross Cheque ادا کی گئی ہے یا نہیں اور اُس تنخواہ پر دفعہ 149 کے تحت ٹیکس کاٹ کر حکومت کو جمع کروایا گیا ہے یا نہیں؟

٭ ذاتی اخراجات اور سرمایہ کاری کے خرچے تو اخراجات میں شامل نہیں کیے گئے ہیں؟ اگر کیے گئے ہیں تو آفیسر ان لینڈ ریونیو اُن کو Disallow کرے گا اور انکم میں جمع کرکے ٹیکس وصول کرے گا۔

تمام اکاؤنٹ اور گوشوارے کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد آفیسر ان لینڈ ریونیو دفعہ 122(1)کے تحت آرڈر پاس کرے گا۔ اس طرح گوشواروں کا آڈٹ اختتام پذیر ہو گا۔

اگر تمام کاروباری حضرات ان چیزوں کا خیال رکھیں تو اُن کو ان شاء اللہ کبھی کسی معاملے میں پریشانی نہیں اُٹھانی پڑے گی، نیز معاشرہ رشوت کی لعنت اور جہنم کی آگ سے بھی محفوظ رہے گا۔