پوری دنیا میں Recycling کا رجحان ہے۔ لوگ پرانی اشیا کو پھر سے قابلِ استعمال بناتے ہیں۔ اسی طرح وہ ایسی بے شمار اشیا کو کسی حد تک کار آمد کرنے کے لیے کسی اور شکل میں ڈھالتے ہیں۔ مثال کے طور پر پلاسٹک کی بڑی بوتلوں کو کاٹ کر ان پر کلر کر کے ان میں پھول اور سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ پرانے کاغذ کا گتہ بنتا ہے اور پلاسٹک بیگز پھر بیگز بنانے یا پلاسٹک کا سامان تیار کرنے کے کام آ جاتے ہیں۔ اس طرح ہر استعمال شدہ چیز کا کوئی نہ کوئی حل مل جاتا ہے۔ یہاں پاکستان میں کچرے میں سے چیزیں تلاش کرنے کا بہت رجحان ہے۔ کوڑا کرکٹ کو کنٹینر میں بھر کر تلف کر دیا جاتا ہے

اور پھر گہری جگہوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ مگر چند سالوں سے لوگوں نے کچرے کا مصرف تلاش کر لیا ہے، گویا کچرا بھی ایک کار آمد بزنس بن گیا ہے۔ کتنے ہی بچے اور نوجوان لوگوں نے کچرے کے ڈھیروں کے قریب اپنے مسکن بنا لیے ہیں جہاں وہ کاغذ، پلاسٹک کی اشیا، لوہے کا سامان وغیرہ علیحدہ کر کے تھیلے بھر کر مختلف فیکٹریوں میں بیچ دیتے ہیں۔ اس طرح سے کچرا فروشی ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔

ہزاروں ٹن کچرا روزانہ کی بنیاد پر کچرا کنڈیوں سے چنا جاتا ہے اور ان کو علیحدہ کر کے فیکٹریوں تک لے جایا جاتا ہے۔ اس طرح یہ بغیر قرض لیے اور سرمایہ لگائے ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ اس کام کو مزید منظم کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہی کام کنٹریکٹر کو ٹھیکے پر دے دیا جائے تو اس سے کروڑوں روپے حکومت کو میسر آ سکتے ہیں اور مزید اس کی وجہ سے ہمارے شہروں اور علاقوں کو صفائی ستھرائی میں پوزیشن بھی مل سکتی ہے۔

یاد رکھیں! دین اسلام میں صفائی نصف ایمان ہے۔ اس نصف ایمان کو پورا کرنے کے لیے ہمارے کے ایم سی یا دیگر ادارے جو اس کام میں شریک ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور وطن عزیز کو صاف ستھرا بنا دیں۔ کیا کراچی اور دیگر شہروں کی سڑکوں، گلیوں اور نالوں میں گندگی کے ڈھیر ان افسران کو نظر نہیں آتے، کیا یہ لوگ سروے نہیں کرتے؟

کچرا اٹھانے والی گاڑیاں سڑکوں پر کچرا لے جاتے ہوئے اسے اس بے دردی سے پھیلاتی ہیں کہ دل پریشان ہو جاتا ہے۔ ان کے کوئی اصول و ضوابط نہیں ہوتے۔ وہ کچرا کنڈیوں سے کچرا اٹھا کر گاڑیوں میں ڈال کر گویا پھر سے سڑکوں پر پھیلا دیتے ہیں۔ اس طرح لوگوں میں ان اداروں کا کوئی اچھا امیج نہیں بنتا۔ اکثر لوگوں کو پریشانی اور تکلیف ہوتی ہے کہ ڈرائیور حضرات کو کچرا ڈھانپنے کے لیے ترپال تک میسر نہیں کہ وہ ٹرکوں کے اوپر باندھ دیں، تاکہ بدبو دار کچرا آسانی سے اپنے ٹھکانے تک پہنچ سکے۔ یہ کرنے کے کام ہیں، اگر کریں گے تو دنیا کے علادہ دین کا نفع بھی ہو گا۔

بہتر ہے کہ ہر گھر کے سامنے ایک بڑے سائز کا ’’ڈرم‘‘ کوڑا ڈالنے کے لیے رکھ دیا جائے جہاں سے کچرا اٹھانے والا آ کر اپنی ہاتھ گاڑی میں ڈال کر لے جائے۔ اس کچرے کو کچرا کنڈی میں ڈال دیا جائے جہاںسے گاڑیاں محفوظ طریقے سے وہ کچرا ’’ری سائیکل‘‘ کرنے کے لیے مخصوص جگہوں پر پہنچا دیں۔ متعلقہ لوگ اس کچرے کو ری سائیکل کر کے اسے کار آمد بنا کر پھر نئے سرے سے نئی اشیا بنانے میں لگا دیں۔ دوسرے نمبر پر سڑکیں صاف کرنے والوں کے پاس سائیکلیں ہوں جن کے ساتھ ڈبے لگے ہوں، جو سڑک کو صاف کر کے کوڑا ان میں جمع کریں۔ ایک ترتیب سے مخصوص فاصلوں پر بڑے ٹرالر کچرا ڈالنے کے لیے رکھ دیے جائیں جہاں گھروں اور سڑکوں سے اکٹھا کیا ہوا کچرا جمع ہو جائے، جو ٹرکوں کے ذریعے مخصوص فیکٹریوں یا جگہوں تک لے جایا جائے اور پھر ری سائیکل کے عمل سے گزار دیا جائے۔ اس طرح کا کام کرنے کے لیے کے ایم سی یا متعلقہ ادارے اس کام کا ٹھیکہ کسی غیر ملکی کمپنی کو دے دیں، جو ہر شہر کو الگ طریقے سے صاف رکھیں۔ ٹھیکے کی وجہ سے کوڑا ری سائیکل ہو کر کار آمد بھی ہو گا جس کو آگے فیکٹریوں کو فروخت کر دیا جائے اور ٹھیکہ دینے سے بھی کروڑوں کا منافع ہو سکتا ہے۔ صاف ظاہر ہے اس کام کے لیے کچھ پلاننگ کرنی پڑے گی اور اس کے نتیجے میں ملک کو کئی طرح سے فائدہ حاصل ہوگا۔

صفائی کے نتیجے میں شہروں کا ماحول صاف ہو جائے گا، جس کی وجہ سے صاف پانی، صاف ماحول، صاف ہوا اور گندگی سے پاکیزہ گلی، محلے اور گھر ملیں گے۔ اس سے ہر طرح کی بیماریوں میں کمی واقع ہو گی۔ خاص کر مچھر اور دیگر جراثیم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لوگوں کو تندرستی میسر آئے گی جو کہ ہزار نعمت ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کے بلوں میں کمی واقع ہو گی۔ ملک کا نام روشن ہو گا۔ جگہ جگہ صاف پانی میسر ہو گا۔ پھول دار پودے شہر کی رونق میں اضافہ کر دیں گے اور یوں ہمارے شہر بھی دنیا کے خوبصورت شہروں میں شمار کیے جانے لگیں گے۔

یا د رکھیں! یہ کام حکومت کے کرنے کے ہیں۔ انفرادی طور پر بھی کچھ کیا جا سکتا ہے مگر اصل کام بڑے پیمانے کا ہے، جو ہر شہر کی بلدیاتی حکومت انجام دے سکتی ہے۔ اس میں ماہرین کی ضرورت ہو گی اور ایسے جاں فشاں افسران جو اس کام کو دین اور ملک کا کام سمجھ کر کریں، تو ثواب کے ساتھ ساتھ صاف ستھرا ماحول میسر آئے گا جو کہ مسلمان ملک کی اور ہر انسان کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ کام تو کام سے ہو گا نہ کہ حسنِ کلام سے ہو گا۔‘‘ اللہ تعالی ہم سب کو ایسی تجارت کرنے کی توفیق دیں۔ آمین۔