چیک دراصل ایک وعدہ ہوتا ہے جو ایک شخص کسی دوسرے شخص سے کرتا ہے کہ وہ اس کے پیسے جو کہ کسی چیز کے عوض یا کسی اُدھار کی رقم واپس کرنے کے لیے ہوتے ہیں، یہ چیک بینک میں دکھا کر لے سکتا ہے۔ اگر اس شخص کے بینک یا اکاؤنٹ میں پیسے موجود نہیں ہوں تو یہ وعدے کی خلاف ورزی کہلائے گی اور لوگوں کا اس شخص پر سے اعتبار اُٹھ جائے گا۔ اس لیے کہتے ہیں کہ اگر کسی سے وعدہ کرو تو اُسے ضرور پورا کیا کرو کہ اس سے آپ کے کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔


یہ تحریر پاکستان کے مروجہ نظام سے باخبر کرنے کے لیے شائع کی گئی ہے۔ اسلامی اور شرعی حوالے سے اسے کوئی فتوی نہ سمجھا جائے۔ (ادارہ)

چیک کی اقسام
چیک کی تین اقسام ہیں جو درج ذیل ہیں:
1 اوپن چیک (Open Cheque)
اُوپن چیک کو کیش چیک (Cash Cheque) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چیک کی سب سے غیر محفوظ قسم ہوتی ہے، کیونکہ اس میں کوئی بھی شخص بآسانی بینک سے رقم نکلوا سکتا ہے۔ اگر کسی شخص سے یہ چیک گم ہو جائے تو یہ اُس شخص کے حق میں بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی فرد اُس چیک کے ذریعے پیسے نکلوا سکتا ہے۔

2 بیرر چیک (Bearer Cheque)
بیرر چیک اوپن چیک کی بہ نسبت زیادہ محفوظ ہوتا ہے، کیونکہ جس شخص کو یہ چیک دیا جاتا ہے، اُس پر اُس شخص کا نام موجود ہوتا ہے مگر اس میں یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ اگر یہ چیک کسی ہم نام شخص کو مل جائے تو وہ اُسے کیش کروا سکتا ہے۔

3 کراس چیک (Cross Cheque)
کراس چیک ان تمام اقسام میں سب سے زیادہ محفوظ چیک ہے۔ اس میں چیک کی بائیں طرف اُوپر کی جانب دو لکیر لگا دیں تو یہ چیک بینک سے کسی بھی صورت میں کیش نہیں ہو سکتا۔ یہ چیک صرف اور صرف آپ کے اپنے اکاؤنٹ میں جمع ہو سکتا ہے۔

آج کل دنیا جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اُس میں ایک اور طریقے کا اضافہ ہو گیا ہے اور وہ آن لائن پیسوں کی منتقلی (Online Money Transfer) ہے۔ اس سے آپ گھر بیٹھے بغیر کسی پریشانی کے، کسی کے بھی اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کروا سکتے ہیں۔ آج کل یہ طریقہ لوگوں میں بہت مقبول ہوتا جا رہا ہے۔
چیک باؤنس یا ریٹرن (Cheque Bounce or Return)

چیک باؤنس یا ریٹرن یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص نے کسی چیز کے عوض دوسرے شخص کو چیک دیا اور کہا بینک میں جا کر اپنے پیسے نکلوا لے، مگر وہاں جا کر اسے پتا چلے یہ پیسے اسے نہیں مل سکتے کیونکہ چیک دینے والے کے اکاؤنٹ میں اتنی رقم موجود نہیں ہے، تو ایسی صورت میں یہ چیک باؤنس یا ریٹرن (Cheque Bounce or Return) ہو جاتا ہے۔ یہ فعل لوگوں کی تکلیف کا باعث بنتا ہے، اس لیے قانون نے بھی اس فعل کی تردید کی ہے اور اس پر کچھ سزا تجویز کی ہے۔

چیک باؤنس یا ریٹرن کی سزا
آج کل کے حالات کے مطابق چیک لینا یا دینا ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔ مگر سب سے بڑا خطرہ یہ لاحق ہوتا ہے کہ یہ چیک باؤنس یا ریٹرن تو نہیں ہو جائے گا۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ قانون نے اُس شخص کو کیا فائدہ دیا ہے جو چیک لیتا ہے اور اُس شخص کی کیا سزا تجویز کی ہے جس نے چیک دیا ہے اور اُس کا چیک باؤنس یا ریٹرن ہو گیا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ (Pakistan Panel Code) کی دفعہ 489-F کے تحت اگر کسی شخص نے کاروباری اُدھار یا ذاتی قرضہ ادا کرنے کے لیے یا کسی چیز کی خریداری کی قیمت کی ادائیگی کے سلسلے میں یا کسی سروس کی فیس کی ادائیگی کے سلسلے میں چیک جاری کیا ہے اور اگر وہ چیک ریٹرن یا باؤنس ہو گیا تو وہ شخص جس نے چیک جاری کیا ہے اُس کی FIR کٹ سکتی ہے اور پاکستان پینل کوڈ (Pakistna Panel Code) کے تحت اس شحض کے خلاف کریمنل (Criminal) مقدمہ چل سکتا ہے اور اُس شخص کی گرفتاری بھی ہو سکتی ہے یا اُس پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے یا پھر اسے یہ دونوں سزا ئیں ہو سکتی ہیں۔

کریمنل کیس کے ساتھ ساتھ متاترہ شخص (Aggreived Person)باؤنس چیک میں درج شدہ رقم کی وصولی کے لیے سمری سوٹ (Summary Suit) سول کورٹ (Civil Court) میں اپنی رقم کی وصولی کے لیے مقدمہ بھی کر سکتا ہے جو کہ سول کورٹ (Civil Court) مختصر وقت میں فائنل کر دیتا ہے۔