ہر تاجر کو اپنے کاروبار کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ وہ سرمائے کے حصول کے لیے مالیاتی اداروں کا رخ کرتا ہے۔ مالیاتی ادارے اور بینک کاروبار کو سرمایہ فراہم کرتے ہیں اور اس پر ایک مخصوص شرح سے سود وصول کرتے ہیں، تاہم ایک مسلمان تاجر سودی ذرائع تمویل سے فنانسنگ سے گریز کرتا ہے، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا کاروبار اور بزنس حرام کی آلائشوں سے محفوظ رہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کون سا مالیاتی ادارہ ہے جو حلال طریقے سے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے، جس کی وجہ سے ایک مسلمان تاجر آسانی کے ساتھ اپنی ضرورت کو پورا کر سکے؟


٭… مرابحہ میں کوئی ایسی کنڈیشن یا شرط لگانا جو اس کے لیے نا مناسب ہے، مرابحہ کنٹریکٹ کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے ٭… اسلامی بینکاری میں آج کل یہ فنانسنگ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اور شرعاً اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ سودی ذرائع تمویل کے متبادل کے طور پر اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے

اگر آپ اسلامک مالیاتی اداروں کا رخ کریں تو آپ بآسانی اسلامی طریقے سے اپنی مالیاتی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ مگر اب یہ مشکل ہے کہ بہت سے لوگ اپنے کاروبار میں شرکت کا معاملہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ شرکت میں بہت سی قیودات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، وہ شریک چاہے بینک ہو یا کوئی مالیاتی ادارہ، تو اب فنانسنگ کہاں سے کریں؟ کیسے کریں؟ وہ کون سا طریقہ ہو جس کے ذریعے ایک تاجر اپنے کاروبار کے لیے بغیر شرکت کا معاملہ کیے فنڈز حاصل کر سکے؟ تو وہ طریقہ مرابحہ کا ہے، جس کے ذریعے اسلامی بینکوں اور اسلامی مالیاتی اداروں سے کاروباری ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ مرابحہ کیا ہے؟ اس کے ذریعے کیسے فنانسنگ ہو سکتی ہے؟ اسلامی بینکوں میں مرابحہ کی عملی شکل کیا ہے؟ ذیل میں ہم اس کو تفصیل سے ذکر کریں گے۔

مرابحہ کیا ہے؟
مرابحہ خرید و فروخت کا ایک اسلامی طریقہ ہے، جس میں بیچنے والا چیز کی ’’کاسٹ‘‘ اور ’’لاگت‘‘ خریدنے والے کو واضح الفاظ میں بتاتا ہے اور اس چیز پر جو کچھ وہ نفع لے رہا ہے، اس کا ذکر بھی خریدار سے کرتا ہے، مثلًا: اگر کوئی کپڑا مرابحہ کے طور پر بیچنا چاہتا ہے اور کپڑا حاصل کرنے پر اس کو جو لاگت برداشت کرنا پڑی وہ ایک ہزار روپے ہے تو وہ اس کپڑے کو بارہ سو میں بیچ سکتا ہے، لیکن خریدار کو یہ بتانا ضروری ہے کہ اس کپڑے کی کاسٹ ایک ہزار ہے اور اس پر جو زیادتی لے رہا ہے، وہ اس کا نفع ہے۔

مرابحہ میں کاسٹ اور لاگت کا تصور
مرابحہ میں چونکہ کاسٹ کا تذکرہ لازمی ہے تو اب کون سی کاسٹ شمار ہو گی؟ اس میں تفصیل یہ ہے کہ کاسٹ دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ کاسٹ جس کا تعلق براہ راست اس چیز کے ساتھ ہوتا ہے جس کو مرابحہ کے طور پر بیچنا ہے، اس کو ’’ویری ایبل کاسٹ‘‘ کہتے ہیں اور یہ کاسٹ تب ہی برداشت کرنا پڑتی ہے جب یہ چیز بنائیں گے، اگر نہ بنائیں تو پھر یہ کاسٹ برداشت نہیں کرنا پڑتی۔ مثال کے طور پر کپڑا بنانا ہے تو کاٹن کی خریداری اور کپڑا بنانے والے مزدوروں کی اجرت ویری ایبل کاسٹ کہلائے گی کیونکہ اس کاسٹ کا تعلق کپڑے کے ساتھ براہ راست ہے کہ اگر کپڑا نہ بنائیں تو پھر یہ کاسٹ نہیں آتی۔ دوسری کاسٹ ’’فکسڈ کاسٹ‘‘ ہوتی ہے کہ جس کا چیز بنانے کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ کاسٹ ہر حال میں برداشت کرنا پڑتی ہے، جیسے: بلڈنگ اگر کرائے پر لی ہوئی ہے تو وہاں پروڈکشن ہو یا نہ ہو، اس کا کرایہ ہر ماہ باقاعدگی سے ادا کرنا پڑے گا اور ہر ایسی کاسٹ جو ہر حال میں برداشت کرنی پڑے، فکسڈ کاسٹ کہلاتی ہے۔مرابحہ میں کسٹمر سے جس کاسٹ اور لاگت کا تذکرہ کیا جائے گا وہ ویری ایبل کاسٹ ہو گی، فکسڈ کاسٹ نہیں، البتہ مرابحہ میں نفع کی مقدار اتنی رکھی جا سکتی ہے کہ جس سے فکسڈ کاسٹ نکل آئے۔

عقدِ مرابحہ صحیح ہونے کے اصول
مندرجہ ذیل چیزیں مرابحہ کی صحت کے لیے ضروری ہیں:
٭ بیچی جانے والی چیز کی کاسٹ اور لاگت واضح طور پر کسٹمر کو بتانا ضروری ہے۔
٭ نفع کی مقدار بھی متعین ہو۔ یہاں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ نفع کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں ہے کہ اس مخصوص
مقدار میں نفع لیا جا سکتا ہے بلکہ مارکیٹ کے لحاظ سے نفع کی کوئی مقدار بھی متعین کی جا سکتی ہے۔
٭ جو پروڈکٹ مرابحہ کے طور پر بیچی جا رہی ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کنٹریکٹ کرتے وقت بیچنے والے
کی ملکیت میں ہو، اگر ملکیت میں نہ ہو تو یہ کنٹریکٹ صحیح نہیں ہو گا۔ ٭ جب مرابحہ ہو رہا ہو تو وہ چیز اس وقت موجود ہونی چاہے۔
٭ مرابحہ کا کنٹریکٹ زمانۂ حال سے تعلق رکھتا ہو، اگر مستقبل اور آئندہ سے متعلق ہوا تو یہ کنٹریکٹ صحیح نہیں ہو گا
کیونکہ یہ کنٹریکٹ کرنے کا صرف ’’وعدہ‘‘ تصور کیا جائے گا کہ فروخت کنندہ نے کسٹمر سے وعدہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں اس چیز کو مرابحہ کے طور پر بیچے گا اور کسی چیز کے کرنے کا وعدہ اس چیز کے وجود سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس لیے عقدِ مرابحہ کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ اس کا تعلق زمانۂ حال سے ہو۔
٭ مرابحہ کی صحت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جس چیز کو بیچ رہے ہیں وہ مارکیٹ میں کوئی ویلیو بھی رکھتی ہو۔
٭ ایسی چیز کا مرابحہ صحیح نہیں ہے کہ جو اسلام میں ممنوع ہے یا اس چیز کا استعمال صرف ایسی چیز کے لیے ہوتا ہے، جو اسلام میں منع ہے۔ ٭ مرابحہ میں پرائس متعین ہونی چاہیے، غیر متعین پرائس مرابحہ کی صحت پر اثر ڈالتی ہیں۔
٭ مرابحہ صرف اشیا کی خرید و فروخت میں ہو گا۔ کرنسی کے ایکسچینج میں مرابحہ نہیں کر سکتے۔
٭ مرابحہ میں کوئی ایسی کنڈیشن یا شرط لگانا جو اس کے لیے نا مناسب ہے، مرابحہ کنٹریکٹ کی صحت کو متاثر کر سکتا
ہے۔ مرابحہ کی عملی شکل
اگر آپ ایک تاجر ہیں اور آپ کو رقم کی ضرورت ہے، مثلاً: آپ کو اپنی کمپنی کے لیے مٹیریل درکار ہے تو آپ کو سود پر پیسے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ آپ اس مٹیریل کو اسلامی بینکوں کے توسط سے مرابحہ کی بنیادوں پر لے سکتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آپ اسلامی بینک کے پاس جائیں اور ان سے اپنے مطلوبہ مٹیریل کا تذکرہ کریں۔ اب اسلامی بینک کہیں سے وہ مٹیریل اور سامان خریدے گا اور اپنی کاسٹ کو مدنظر رکھ کر آپ کو مرابحہ کے طور پر بیچ دے گا۔ اس میں بینک کسٹمر کو بھی اپنا وکیل مقرر کر سکتا ہے کہ وہ مٹیریل اولاً بینک کے لیے خرید لے اور جب مٹیریل کسٹمر کے قبضے میں آ جائے تو یہ کنٹریکٹ صحیح سمجھا جائے گا اور کسٹمر کا یہ قبضہ بینک کے وکیل کی حیثیت سے بینک کا قبضہ تصور کیا جائے گا۔ اب ایک دوسرا کنٹریکٹ ہو گا جو بینک اور اس کسٹمر کے درمیان ہو گا۔ یہ مرابحہ کنٹریکٹ ہو گا کہ بینک اپنا نفع اس میں رکھ کر اس چیز کو مرابحہ کے طور پر بیچ دے گا، لیکن یہاں اتنی بات پیشِ نظر رہے کہ یہاں دو الگ الگ کنٹریکٹ ہوں گے: پہلا کنٹریکٹ کسٹمر اور فروخت کنندہ کے درمیان ہو گا اوریہاں یہ کسٹمر بینک کے وکیل کی حیثیت سے کنٹریکٹ کر رہا ہو گا، جبکہ دوسرا کنٹریکٹ اس کسٹمر اور بینک کے درمیان ہو گا جو مرابحہ کے طور پر ان مندرجہ بالا اصولوں کی روشنی میں طے پائے گا جو ہم نے اوپر ذکر کیے۔ کیا مرابحہ فنانسنگ کا ایک ذریعہ ہے؟
اگر اسلامی ذرائع تمویل کی بات کریں تو مرابحہ ان ذرائع میں کہیں نظر نہیں آتا، لیکن اسلامی بینکاری میں آج کل یہ فنانسنگ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اور شرعاً اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ سودی ذرائع تمویل کے متبادل کے طور پر اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل چیزوں کے حصول میں مرابحہ سے فنانسنگ لی جا سکتی ہے: ٭ مٹیریل کی خریداری کے لیے
٭ کمپنی کے اثاثہ جات کی خریداری کے لیے
٭ تعلیم کی فنانسنگ کے لیے
٭ زمین کی فنانسنگ کے لیے
٭ گاڑیوں کی خریداری کے لیے
٭ گھر بنانے کی فنانسنگ کے لیے
٭ انوینٹری کے حصول کے لیے
٭ امپورٹ، ایکسپورٹ کے لیے
مرابحہ میں ادائیگی کی صورت اور بینکوں کے مسائل
مرابحہ میں ادائیگی چونکہ بعد میں ہوتی ہے اور وہ بھی اکثر اوقات قسطوں میں ہوتی ہے تو بینکوں کے سروں پر ڈیفالٹ کی تلوار لٹکی رہتی ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے بینک اپنی رقم کی سیکورٹی کے لیے کسٹمر سے کوئی چیز مورگیج (گروی) کے طور پر لے سکتے ہیں، یا کوئی گارنٹی لے لیں اور بر وقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں کوئی پینالٹی یا جرمانہ بھی شریعت کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عائد کر سکتے ہیں۔

مرابحہ اگرچہ باقاعدہ فنانسنگ کا ذریعہ نہیں ہے، لیکن اس کو فنانسنگ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اور سودی اداروں سے سود پر قرض لینے کے بجائے اسلامی بینکوں سے مرابحہ کنٹریکٹ پر اپنی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ یہ آپ کے لیے اور آپ کے کاروبار کے لیے دنیاوی اعتبار سے بھی نفع بخش ہے اور سود جیسی قبیح ترین چیز سے بچنے کا ایک یقینی ذریعہ بھی۔