کرنسی بننے کے لیے ایسی چیز کا ہونا ضروری تھا جو پائیدار ہو، کم یاب ہو اور ضخیم بھی نہ ہو۔ یہی وجہ تھی کہ سونے، چاندی، تانبے اور کانسی کے سکے ہر جگہ رائج ہونے لگے۔ آج جس طرح کاغذی کرنسی میں سے ڈالر عالمی کرنسی پر چھایا ہوا ہے، اسی طرح بہت سے سکّے بھی اپنے زمانے میں عالمی کرنسی پر چھائے رہے۔ 1450ء سے 1530ء تک عالمی تجارت پر پُرتگالی سکّے کی دھاک رہی۔

پھر1640ء تک یہ اعزاز اسپینی سکّے کے پاس رہا۔ ادھر ولندیزی (ڈچ) سکّہ بھی معاشی بلندیوں کو چھو رہا تھا جو بالآخر اسپینی سکّے کے بعد دھاتی کرنسی کا راج دلارا بنا اور 1720ء تک کرنسی پہ حکومت کرتا رہا۔ بعد ازاں رفتہ رفتہ ترقی کی شاہر اہ پر گامزن، فرانسیسی سکّہ 1720ء سے 1815ء تک تجارتی دنیا کا حکمران رہا۔ لیکن ہر عروج کو زوال کے پیش نظر اس کی جگہ برطانوی پاؤنڈ (سکّہ) آگیا اور 1920ء تک تمام معیشت پر حکمرانی کرتا رہا۔ جب تک کرنسی کا سلسلہ سکے پر ٹھہرا ہوا تھا، اُس وقت تک ہر ملک میں عوام بھی خوش تھے۔ وہ اپنی کرنسی کے خود مالک تھے۔ کوئی بھی شخص فٹ پاتھ پر یا چوکوں چوراہوں میں بھیک مانگتا نظر نہ آتا تھا۔ کرنسی کا یہ زمانہ بہت خوشحال تھا۔ لیکن سرمایہ داروں کو سکّے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پسند نہیں آرہی تھی۔ کیونکہ اس میںعوام خوشحال اور مالدار کم ترقی پذیر تھے۔ پھر انگریزوں اور اس کے ہم نواؤں نے مل کر سکّے اور اس کو رائج کرنے والوں کا انجام قتل لکھ دیا، جبکہ خون سے لت پت سکّوں کو کاغذ میں لپیٹ کر دفن کر دیا گیا اور مجرم کا چہرہ کریڈٹ کارڈ میں تبدیل کردیا گیا۔


پاکستان منٹ میں 2 قسم کے سکے تیار کیے جاتے ہیں: ٭ ریگولر، جو ہم روزمرہ استعمال کرتے ہیں۔ ٭ کیمورٹر، جو خاص مواقع پر تیار کیے جاتے ہیں، مثلاً: نشان حیدر، نشان قائد اعظم، تمغہ امتیاز، ہلال پاکستان، نشان امتیاز وغیرہ۔

ہم ''سکّے سے کریڈٹ کارڈ تک'' کے اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان میں سکّے کی تیاری کا دلچسپ طریقہ ذکر کرتے ہیں۔ سکّہ ڈھالنے کے پہلے مرحلے میں دھات کے بلاکوں کو ایک سائز میں ڈھالا جاتا ہے۔ پھر دھات کو پگھلا کر سانچے میںڈال کر شیٹس تیار کی جاتی ہیں۔ ان کی موٹائی 10 ملی میٹر تک ہوتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں بلاکوں کو مختلف سائزوں کے رولرز سے گزار کر ایک خاص چوڑائی کی پلیٹوں کی شکل دی جاتی ہے۔ اس مرحلے میں سکّے کے سائز کی ایلومینیم شیٹ کی کٹنگ مشینوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس عمل سے پتلی اور لمبی رولنگ پٹی بنتی چلی جاتی ہے۔ اس کو رنگ کٹ کیا جاتا ہے، بعدازاں اس رنگ کٹ کی موٹائی کورولنگ مشین کے ذریعے سکّے کی موٹائی 2.1 ملی میٹر کے برابر کیاجاتا ہے۔ ایک کٹنگ مشین روزانہ 16 لاکھ سکّوں کی کٹائی کرتی ہے۔ سکّے کے سائز کی کٹائی کے بعد جو سکّہ باہر نکلتا ہے اس کو دوبارہ بھٹی میں پگھلا کر رنگ کٹ کیا جاتا ہے۔ ایک روپے اور 2روپے سکے کی کٹائی کرنے والی ایک مشین ایک منٹ میں تقریباً 900 سکے نکالتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں دھات کی پلیٹوں کو مطلوبہ سکوں کی پرنٹنگ کے لیے مشینوں میں سیٹ کیا جاتا ہے اور ان پر پرنٹنگ کی جاتی ہے۔ چوتھے مرحلے میں پرنٹنگ کے بعد سکوں کی کٹنگ مشینوں میں پلیٹوں کو رکھا جاتا ہے اور سکوں کی کٹائی کی جاتی ہے۔ پانچویں مرحلے میں سکوں کی دھلائی کا کام کیا جاتا ہے اور سکوں کو دھونے کے بعد سپنر میں خشک کیا جاتا ہے۔ سکّوں کی تیاری میں مختلف دھاتیں استعمال ہوتی ہیں، مثلاً: سونا، چاندی، پلاٹینم، کاپر، ٹن، نکل ایلومینیم، زنک اور آئرن کے علاوہ دھاتیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کے ملاپ سے اعلیٰ کوالٹی کے سکّے تیار کیے جاسکتے ہیں۔

پاکستان منٹ میں 2 قسم کے سکے تیار کیے جاتے ہیں:
٭ ریگولر، جو ہم روزمرہ استعمال کرتے ہیں۔
٭ کیمورٹر، جو خاص مواقع پر تیار کیے جاتے ہیں، مثلاً: نشان حیدر، نشان قائد اعظم، تمغہ امتیاز، ہلال پاکستان، نشان امتیاز وغیرہ۔
پاکستان میں ایک، 2 اور 5 روپے کے سکے تیار ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں استعمال ہونے والے یہ سکے لاہور شہر میں ''پاکستان منٹ'' میں تیار ہوتے ہیں۔ ''پاکستان منٹ'' کیا ہے؟ یہ دراصل کرنسی کے لیے سکے مہیا کرنے کی صنعت ہے، جو منسٹری آف فنانس کے ماتحت ہے، جبکہ سکّوں کی سرکولیشن اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرتا ہے۔ ''پاکستان منٹ'' کے انچارچ کو ''منٹ ماسٹر'' کہا جاتا ہے۔ اس میں 745 ملازمین کام کرتے ہیں۔ ''پاکستان منٹ'' کا رقبہ 140 ایکڑ ہے۔ ''پاکستان منٹ'' کے انچارچ وفا احمد کاردار سے فون پر رابطہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ افراطِ زر میں کمی کی وجہ سے سکّے کی اہمیت بھی کم ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا 2005ء کے بعد سکے ایلومینیم سے تیار کیے جارہے ہیں، جیسا کہ 2007ء میں 2 روپے میں ایلومینیم کے سکے بھی متعارف کرائے گئے۔
''پاکستان منٹ'' میں 1948ء میں ایک روپیہ، 8 آنے، 4 آنے، 2 آنے اور ایک آنے کی پروڈکشن شروع ہوئی۔ اس وقت روپیہ 64 پیسے کا تھا۔ 1951ء میں ایک پیسے کاسکہ متعارف کروایا گیا۔ 1961ء میں 5 اور 10 پیسے کا سکہ جاری ہوا، جبکہ 1979ء میں ایک، 5 اور 10 پیسے کی پروڈکشن ختم کر دی گئی۔ 1963ء میں25 پیسے اور 1964ء میں 2 پیسہ کا سکہ جاری ہوا۔ 1965ء میں جب اعشاری نظام متعارف ہوا تو روپیہ 100 پیسے کا ہو گیا، پھر2 آنے، 4آنے اور 8 آنے ختم کر دےے گئے اور 100 پیسے کو ایک روپے، 8آنے کو 50 پیسے اور 4 آنے کو 25 پیسے کے برابر کر دیا گیا اور 1979ء میں ایک روپے کے سکے کی پروڈکشن شروع کردی گئی۔ .......(جاری ہے)