کامیاب لوگوں کی مشترکہ صفات

جیکب چودہ سال کا تھا جب اسے اپنے آبائی ملک ازبکستان سے ہجرت کر کے امریکا آنا پڑا۔ ہجرت کے اس سفر میں وہ اپنے والدین سے بچھڑ چکا تھا۔ اب امریکا میں اس کے ساتھ چار بڑی بہنیں بھی تھیں، جن کے سنبھالنے کی ذمہ داری جیکب کے ناتواں کندھوں پر تھی۔ حالات کے بے رحم تھپیڑوں نے جیکب کو دسویں کلاس سے بھی پہلے غمِ روزگار میں مشغول کر دیا۔ سولہ سال کی عمر میں جیکب نے جیولری کی صنعت میں قدم رکھا۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر کچھ زیورات بناتا اورفروخت کرتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کارپوریٹ گورننس: ایک تعارف

کارپوریٹ گورننس جسے عربی میں ’’حوکمۃ الشرکۃ‘‘ کہتے ہیں، ایک ایسے نظام کا نام ہے جس کے تحت کمپنی کے تمام معاملات کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ کارپوریٹ گورننس کی تعریف مختلف طریقوں سے کی گئی ہے۔ Cadbury Report کے مطابق جو کہ 1992 ء میں شائع ہوئی ’’کارپوریٹ گورننس‘‘ کی تعریف درج ذیل ہے:

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تبدیلی: کامیابی کی ضمانت

نفسیات دانوں کا ایک اصول ہے:’’تبدیلی کے عمل کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔‘‘ اس اصول پر غور کیا جائے تو بظاہر سادہ نظر آنے والا یہ اصول دراصل انسانی تجربات کا نچوڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نفسیات دان اسے ترجیحی اعتبار سے سب سے پہلا اصول قرار دیتے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔اپنی ذات میں غور کیجیے، کتنے ارتقائی عوامل سے گزر کر ہم یہاں تک پہنچے ہیں ؎

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹیکس ادائیگی کے اہم قوانین

جو ٹیکس دھندگان ٹیکس کی کٹوتی کرتے ہیں، یا حکومت کی طرف سے افسران ان سے ٹیکس وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کراتے ہیں، اُن اشخاص کی ذمہ داری ہے کہ وہ (انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ئ، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء سندھ، صوبائی سیلز ٹیکس ایکٹ برائے خدمات 2011ئ، صوبائی سیلز ٹیکس ایکٹ برائے خدمات پنجاب اور صوبائی سیلز ٹیکس ایکٹ برائے خدمات خیبر پختونخوا) ماہانہ statement اور گوشوارے جمع کرائیں۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے: ماہانہ انکم ٹیکس statement، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 ء کے تحت

مزید پڑھیے۔۔۔

مٹی سے سونا یوں بنتا ہے

آپ کے پاس کچھ بھی ہو۔ کپڑا ہو یا لوہا۔ آپ اپنے مال کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول سکتے ہیں۔بلکہ یوں کہیے، آپ مٹی کو سونا بنا سکتے ہیں۔ بس اس کے لیے ضرورت ہے ایک اچھی سوچ کی۔ ایک بلند وژن کی۔ ایک تجربے کی۔ اسی بات کو ایک خوبصورت مثال سے سمجھتے ہیں۔ ایک عام لوہار جب لوہے کی سلاخ لے کر اس سے گھوڑے کا ایک نعل بنا لیتا ہے تو دل ہی دل میں خوش ہوتا ہے اور فخر محسوس کرتا ہے کہ وہ لوہے کا ٹکڑا، جو چند سکّوں سے زیادہ قیمت کا نہ تھا، اب اس کی محنت کی بدولت دو سو روپے کا بن گیاہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

’’سستے بازار‘‘ ، مہنگی اشیا

آج کل کراچی میں ہر جگہ’’سستے بازار‘‘ مختلف دنوں اور مختلف اوقات میں لگائے جاتے ہیں۔ ان بازاروں کا رواج عام ہو گیا ہے۔ چھوٹے تاجروں کی طرف سے یہ غریب عوام کے لیے ایک تحفے سے کم نہیں۔ یہ تمام کاروبار اگرچہ کل وقتی ہیں مگر ان تاجروں کو روزانہ کی بنیاد پر اپنی عارضی دکانوں کو سجانا ہوتا ہے۔ یہ تاجر روزانہ کی بنیاد پر سستے بازار کی انتظامیہ کو کرایہ ادا کرتے ہیں اور یہ اپنے کام میں آزاد ہوتے ہیں۔ وہ جس طرح کا سامان بھی بازار میں لے آئیں، فروخت ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔