سود سے پاک معیشت

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے: ’’ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب کوئی فرد یا گھر ایسا نہ ہو گا جس میں سود کا اثر نہ پہنچ جائے اور اگر سود کا اثر نہ پہنچا تو سود کا دھواں ہی پہنچ جائے گا۔‘‘ آج اگر ہم اپنی معیشت پر نظر ڈالیں تو موجودہ معیشت کو اس حدیث کا پوری طرح مصداق پاتے ہیں۔ تقریباً ہمارے90 فیصد کاروبار سودی قرضوں کے ذریعے چل رہے ہیں۔ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ مول لینے کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی نظام تجارت کے بنیادی تصورات

بنیادی تصور حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ’’جو شخص خریدتا اور بیچتا (تاجر) ہے اُسے پانچ خصلتوں یعنی سود اور قسم کھانا، مال کا عیب چھپانا، بیچتے وقت تعریف کرنا اور خریدتے وقت عیب نکالنے سے دوری اختیار کرنا چاہیے، ورنہ نہ وہ ہرگز خریدے اور نہ بیچے۔‘‘

 

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی اصطلاحات کو رواج دیں

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔‘‘ اس آیت سے یہ آفاقی اصول معلوم ہوتا ہے کہ ’’ماحول‘‘ کا اثر انسانی ذات اور معاشرے پر ضرور پڑتا ہے، لہٰذا اگر وہ اچھے لوگوں کے ساتھ بیٹھے گا تو اس کی ذات پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ اگربُرا ماحول اور بُری صحبت اختیار کرے گا تو اس کے اخلاق بھی بگڑتے چلے جائیں گے۔ ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اچھے لوگوں کے ساتھ رہے اور اچھے ماحول میں زندگی گزارے اور زیادہ سے زیادہ فوائد اور ثمرات حاصل کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیاب لوگوں کی مشترکہ صفات

جیکب چودہ سال کا تھا جب اسے اپنے آبائی ملک ازبکستان سے ہجرت کر کے امریکا آنا پڑا۔ ہجرت کے اس سفر میں وہ اپنے والدین سے بچھڑ چکا تھا۔ اب امریکا میں اس کے ساتھ چار بڑی بہنیں بھی تھیں، جن کے سنبھالنے کی ذمہ داری جیکب کے ناتواں کندھوں پر تھی۔ حالات کے بے رحم تھپیڑوں نے جیکب کو دسویں کلاس سے بھی پہلے غمِ روزگار میں مشغول کر دیا۔ سولہ سال کی عمر میں جیکب نے جیولری کی صنعت میں قدم رکھا۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر کچھ زیورات بناتا اورفروخت کرتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کارپوریٹ گورننس: ایک تعارف

کارپوریٹ گورننس جسے عربی میں ’’حوکمۃ الشرکۃ‘‘ کہتے ہیں، ایک ایسے نظام کا نام ہے جس کے تحت کمپنی کے تمام معاملات کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ کارپوریٹ گورننس کی تعریف مختلف طریقوں سے کی گئی ہے۔ Cadbury Report کے مطابق جو کہ 1992 ء میں شائع ہوئی ’’کارپوریٹ گورننس‘‘ کی تعریف درج ذیل ہے:

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تبدیلی: کامیابی کی ضمانت

نفسیات دانوں کا ایک اصول ہے:’’تبدیلی کے عمل کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔‘‘ اس اصول پر غور کیا جائے تو بظاہر سادہ نظر آنے والا یہ اصول دراصل انسانی تجربات کا نچوڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نفسیات دان اسے ترجیحی اعتبار سے سب سے پہلا اصول قرار دیتے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔اپنی ذات میں غور کیجیے، کتنے ارتقائی عوامل سے گزر کر ہم یہاں تک پہنچے ہیں ؎

مزید پڑھیے۔۔۔