حقیقی دولت اور خوشی کی 5 چابیاں

خوشی ایسی نعمت ہے جس کی آرزو سبھی کو ہے۔ یہ حقیقت ہے جس شخص کے پاس خوشی نہیں، اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔ جب دل خود غرضی سے اور دوسرے گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے تو دل میں حقیقی خوشی بسیرا کر لیتی ہے۔ کیوں کہ پاک و صاف دل کے مالک ہی حقیقی مسرت کی دولت سے مالا مال ہو کر خوش و خرم زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ حقیقی خوشی کیسے حاصل کی جائے؟ آئیے! ان باتوں کو نکتہ وار سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

مزید پڑھیے۔۔۔

انٹرویو کی تیاری ایسے کریں

تقریباً تمام اچھی کمپنیاں ملازمین کے انتخاب سے پہلے ان کا انٹرویو لیتی ہیں۔ یہ ملازمین اور کمپنی دونوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ کمپنی صرف انہی ملازمین کا انتخاب کرتی ہے جو انٹرویو کے دوران اپنی قابلیت کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ ایک اچھے اور کامیاب انٹرویو کے لیے ضروری ہے کہ مقررہ وقت سے پہلے اس کی تیاری کی جائے۔ انٹرویو کی تیاری کے لیے مندرجہ ذیل امور بے حد مفید ہیں:

مزید پڑھیے۔۔۔

تکافل کے اداروں کو درپیش مسائل

تکافل کی ترقی میں سب سے بڑی اور اہم رکاوٹ عوام الناس میں اِس کے بارے میں درست معلومات کا نہ ہونا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اِس نظام کو متعارف ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا، نیز اِس کے بارے میں عام لوگوں کو آگاہ کرنے کی خاطر خواہ کوشش بھی نہیں کی گئی۔ اِس علمی کمی کی وجہ سے لوگ اپنی سمجھ کے مطابق تکافل کے بارے میں رائے دینے لگتے ہیں، جو اکثر و بیشتر حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اِس کی درست صورت لوگوں کے سامنے نہیں آتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملازمین کی عدم دلچسپی

کسی بھی کمپنی کے ملازمین ابتدا میں تو دل جمعی سے کام کرتے نظر آتے ہیں، کیونکہ اُس کام کی اُن کو ضرورت بھی ہوتی ہے اور وہ اپنی اہلیت بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے اُن میںتجربہ بڑھ رہا ہوتا ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جہاں وہ نہ سوچتے ہوئے بھی خود کو اُس کام کا نہ صرف اہل سمجھ لیتے ہیں، بلکہ وہ اس بات کا استحقاق بھی محسوس کرتے ہیں کہ اُن کی کمپنی میں نہ صرف عزت و وقعت ہو بلکہ کمپنی کی طرف سے ان کو بہتر سے بہتر سہولیات بھی میسر آئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بامقصد تجارت

٭…انسان کی زندگی کا ہر عمل کسی عظیم مقصد کے تحت ہونا چاہیے۔ کاروباری زندگی بھی یقیناً مقصدیت کی مقتضی ہے۔ ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے کہ جس چیز میں بھی نفع دیکھا، اس میں فوراً کود پڑے ٭…حلال فوڈز، حلال ٹوورازم، حلال ملبوسات طرح کے لا تعداد کاروبار بلا وجہ حلال کا نام لگا کر مارکیٹ میں مختلف پوزیشن کے ساتھ نمایاں ہو رہے ہیں، جس کا مقصد محض سرمایہ کاری کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ایسے ماحول میں ایسے نیک صفت تاجروں کو میدان میں آنے کی ضرورت ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارتی ترقی کے 6 گُر

تجارت ایک بہت بابرکت پیشہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی تجارت کی غرض سے ملک شام کا سفر فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی ایک جماعت بھی تجارت سے وابستہ تھی۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار بڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ تجارت سے وابستہ ہونا جہاں دنیوی کامیابی کا ذریعہ ہے وہاں اُخروی سعادتیں لوٹنے کا وسیلہ بھی ہے۔ ایک سچے تاجر کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہو گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔