ملازمین کی عدم دلچسپی

کسی بھی کمپنی کے ملازمین ابتدا میں تو دل جمعی سے کام کرتے نظر آتے ہیں، کیونکہ اُس کام کی اُن کو ضرورت بھی ہوتی ہے اور وہ اپنی اہلیت بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے اُن میںتجربہ بڑھ رہا ہوتا ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جہاں وہ نہ سوچتے ہوئے بھی خود کو اُس کام کا نہ صرف اہل سمجھ لیتے ہیں، بلکہ وہ اس بات کا استحقاق بھی محسوس کرتے ہیں کہ اُن کی کمپنی میں نہ صرف عزت و وقعت ہو بلکہ کمپنی کی طرف سے ان کو بہتر سے بہتر سہولیات بھی میسر آئیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بامقصد تجارت

٭…انسان کی زندگی کا ہر عمل کسی عظیم مقصد کے تحت ہونا چاہیے۔ کاروباری زندگی بھی یقیناً مقصدیت کی مقتضی ہے۔ ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے کہ جس چیز میں بھی نفع دیکھا، اس میں فوراً کود پڑے ٭…حلال فوڈز، حلال ٹوورازم، حلال ملبوسات طرح کے لا تعداد کاروبار بلا وجہ حلال کا نام لگا کر مارکیٹ میں مختلف پوزیشن کے ساتھ نمایاں ہو رہے ہیں، جس کا مقصد محض سرمایہ کاری کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ایسے ماحول میں ایسے نیک صفت تاجروں کو میدان میں آنے کی ضرورت ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارتی ترقی کے 6 گُر

تجارت ایک بہت بابرکت پیشہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی تجارت کی غرض سے ملک شام کا سفر فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی ایک جماعت بھی تجارت سے وابستہ تھی۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار بڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ تجارت سے وابستہ ہونا جہاں دنیوی کامیابی کا ذریعہ ہے وہاں اُخروی سعادتیں لوٹنے کا وسیلہ بھی ہے۔ ایک سچے تاجر کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہو گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کمپنی کا آرٹیکل

یوں تو کمپنیاں آرڈیننس 1984ء کی روشنی میں بزنس کرنے کی پابند ہیں، لیکن آرڈیننس سے ہٹ کر ایک اور چیز بھی ہے۔ جس میں لکھی ہر چیز کمپنی کے لیے حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے، وہ ہے کمپنی کا آرٹیکل آف ایسوسی ایشن۔ یہ آرٹیکل کمپنی آرڈیننس 1984ء کی روشنی میں ہی ترتیب دیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہر کمپنی کے بزنس کی نیچر اور نوعیت دوسری کمپنی سے مختلف ہوتی ہے۔اس لیے کمپنی کے لیے اندرون خانہ ایک قانو نچہ ہونا چاہیے، جس میں اس بزنس کے متعلق ضروری چیزیں بیان کر دی جائیں،مثلاً: کمپنی کیسے بزنس کرے گی؟ کتنا لون لے سکتی ہے؟ڈائریکٹر زکے اختیارات کس حد تک ہیں؟ شیئرز کیسے جاری کیے جائیں گے؟وغیرہ ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

چند نصیحتیں جو یقینی فوائد کی حامل ہیں

کام کام اور کام
معاملہ دنیا کا ہو یا آخرت کا، اس کے لیے انسان کی عملی کوشش کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کسی سیانے کا مقولہ ہے: ’’بے کار نہ رہ، کچھ کیا کر‘‘ شریعت نے ہمیں یہی سکھایا ہے۔ جس نے کوشش کی، اس نے پالیا۔ اہل اللہ بھی یہی فرماتے ہیں: ’’ہاتھ بکار، دل بیار۔‘‘ یعنی ’’ہاتھ تو کام میں لگے ہوئے ہیں، مگر دل اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

نان بینکنگ فنانسنگ کمپنیاں

کاروبار بڑے پیمانے پر ہو تو اس کے لیے فنانسنگ بھی زیادہ درکار ہوتی ہے۔ پھر کاروباری ضرورت کے لیے ایک تاجر کو ایسے اداروں سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش آتی ہی ہے، جہاں سے اس کی مالی ضرورت پوری ہو سکے۔ ان اداروں میں سر فہرست ’’بینکوں‘‘ کا نام آتا ہے، جو کاروبار کے لیے فنانس مہیا کرتے ہیں۔ سودی بینک تو مخصوص شرح سے اس پر سود چارج کرتے ہیں، جب کہ اسلامی بینک اسلامی ذرائع تمویل اختیار کر کے بزنس کی مالی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ ایک اچھا بزنس مین ہمیشہ حلال ذرائع سے ہی اپنے بزنس اور کاروبار کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔