میڈیکل بزنس :چند بے اعتدالیاں

’’میڈیکل‘‘ جو کہ وطن عزیز کا ایک انتہائی اہم اور حساس شعبہ ہے،بدقسمتی سے معاشرے میں اس طبی پیشے (Medical Profession)میں بے شمار بے اعتدالیاں اور کوتاہیاں اس کا ناگزیر حصہ بن گئی ہیں۔ان میں سے کئی خرابیاں ایسی ہیں جو ایک مادی معاشرے میں بھی معیوب ہی سمجھی جاتی ہیں، ان کا مذاکرہ ضروری ہے، تاکہ ہمارے معالج، میڈیسن بنانے والے اور فارمیسی کے حضرات خالص انسانی فلاح و بہبود کے جذبے کے تحت ان سے گریز کرتے ہوئے اپنی اصلاح فرمالیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

امانت و دیانت

’’جس میں امانت کا جوہر نہیں، اس کا دین بھی نہیں۔‘‘ یہ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے۔ مسلمان بنیادی طور پر دین دار ہوتا ہے اور دین کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر معاملے میں اسلام کی خوبی ’’امانت‘‘ کا پاس دار بھی ہو۔ یہ خوبی ہر مسلمان میں ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ایک حدیث پاک کے مفہوم کے مطابق ہر مسلمان ذمہ دار ہے۔ اور اس سے اس ذمہ داری کے بارے میں پوچھ ہو گی۔ صاف ظاہر ہے کہ پوچھ اس امانت کے بارے میں ہی ہو گی کہ ہم نے آپ کو امانت کا بوجھ دیا اور آپ نے اس پر کیا عمل کیا؟

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی معیشت اور رزقِ حلال

اسلام نے مثبت طور پر رزق کی جد و جہد کی ترغیب دی ہے اور اسے ہر مسلمان پر فرض کیاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو اپنی روزی کی تلاش سے غافل ہو کر سوتے نہ رہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص دنیا کو جائز طریقے سے حاصل کرتا ہے کہ سوال سے بچے اور اہل و عیال کی کفالت کرے اور ہمسائے کی مدد کرے تو قیامت کے دن جب وہ اُٹھے گا تو اُس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہو گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں بنائیے

امریکا کی 80 فیصد تجارت ملٹی نیشنل کمپنیاں کرتی ہیں جو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کمپنیوں سے امریکا کو کتنا فائدہ ہوتا ہے، اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا کی 100 بڑی کمپنیوں نے (جو پوری دنیا کی دولت کے پانچویں حصے کی مالک ہیں) 1995 ء میں دو ٹریلین ڈالرز کا نفع کمایا۔ اس کے لیے انہوں نے 6 ملین مزدوروں کو ہائر کیا۔ نفع کا 60
فیصد حصہ مصنوعات، جبکہ 40فیصد حصہ خدمات یعنی سروسز کے ذریعے حاصل ہوا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کمائی سے زیادہ سیکھنے پر توجہ دیں

’’ملازمین اتنی ہی محنت کرتے ہیں کہ انہیں نوکری سے جواب نہ ملے اور مالک اتنی ہی تنخواہ دیتے ہیں کہ وہ چھوڑ کر نہ جائیں۔‘‘ اگر آپ کمپنیوں کے پے سکیل پر نظر ڈالیں تو یہی سچ ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اکثر ملازمین آگے بڑھنے سے محروم رہتے ہیں۔ زیادہ تر ملازمین تنخواہ، سہولتوں اور انعامات کے لیے کام کرتے ہیں۔ تھوڑی مدت کے لیے اس کے فوائد ہیں مگر آخر کار اس کا انجام بھیانک ہوتا ہے۔ اس کے بجائے آپ اور خاص کر نوجوان ایسی نوکری کریں جہاں کمائی سے زیادہ سیکھنے کے مواقع میسر ہوں، کوئی بھی پیشہ اپنانے سے پہلے اچھی طرح سوچیے، مستقبل میں جھانکیے، پھر فیصلہ کیجیے کہ کون سی صلاحیتوں کا حصول فلاں فلاں پیشے کو اپنانے کے لیے ضروری ہو گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارت بھی عبادت ہے

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا: کیا وضو کرنا ضروری ہے؟ آپ نے عجیب جواب ارشادفرمایا: ’’میرا خیال ہے کہ نیت کو وضو کرانا ضروری ہے۔‘‘ یعنی نیت کو صاف اور پاک کرنا، ہر کام کو اللہ تعالیٰ کے لیے ہی کرنا، یہی نیت کی پاکی اور وضو ہے۔ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے انسان کے اس عارضی بسیرے کے لیے بنائی ہے، جس میں اسے اعمال کرنے کے لیے ایک مہلت دی گئی ہے۔ جسے ہم زندگی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔