بزنس انتظامیہ کے لیے 7 ہدایات

ہر تاجر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا کاروبار خوب پھلے پھولے اور ترقی کی بلندیوں کو چھوئے، لیکن ظاہر ہے محض باتوں سے تو ترقی کے دروازے کھلنے سے رہے۔ اس کے لیے تو عملی زندگی میں ہی قدم رکھنا پڑتا ہے، تب جا کر مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ وہ کیا اقدامات ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر کوئی تاجر ترقی حاصل کر سکتا ہے؟ اور وہ کون سے کام ہیں جو ترقی کی سیڑھی کا کام دیتے ہیں؟ آئیے! ذیل میں ہم ان اقدامات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

مزید پڑھیے۔۔۔

ڈیجیٹل کرنسی

کرنسی کا سفر بارٹر سیل (اشیا کا باہم تبادلہ)کے دور سے شروع ہوا۔ آگے بڑھتے ہوئے سونے چاندی کے سکوں کی صورت اختیار کی۔اس کے بعد اس نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ جو کہ ’’حقیقی ثمن‘‘ (سونا چاندی) سے ’’عرفی ثمن‘‘ کی شکل میں تبدیل ہونا تھا۔ یہ عرفی ثمن کرنسی نوٹ (Currency Notes) کی شکل میں آج موجود ہے، لیکن کرنسی کا یہ سفر اس پر رکا نہیں بلکہ یہ سفر جاری ہے اور اپنے تسلسل کے ساتھ اب ’’ڈیجیٹل کرنسی‘‘ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملازمین کے حقوق و فرائض

دنیا میں فسادات، قتل و غارت گری، جھگڑوں، قطع رحمی اور اداروں کو تبدیل کرنے کی بنیاد دو چیزیں ہیں۔ اگر ان چیزوں کو اہمیت دی جائے، ان کا خیال رکھا جائے تو آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ وہ دو چیزیں یہ ہیں:اپنے فرائض پورے کرنا اور دوسروں کے حقوق ادا کرنا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سود سے پاک معیشت

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے: ’’ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب کوئی فرد یا گھر ایسا نہ ہو گا جس میں سود کا اثر نہ پہنچ جائے اور اگر سود کا اثر نہ پہنچا تو سود کا دھواں ہی پہنچ جائے گا۔‘‘ آج اگر ہم اپنی معیشت پر نظر ڈالیں تو موجودہ معیشت کو اس حدیث کا پوری طرح مصداق پاتے ہیں۔ تقریباً ہمارے90 فیصد کاروبار سودی قرضوں کے ذریعے چل رہے ہیں۔ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ مول لینے کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی نظام تجارت کے بنیادی تصورات

بنیادی تصور حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ’’جو شخص خریدتا اور بیچتا (تاجر) ہے اُسے پانچ خصلتوں یعنی سود اور قسم کھانا، مال کا عیب چھپانا، بیچتے وقت تعریف کرنا اور خریدتے وقت عیب نکالنے سے دوری اختیار کرنا چاہیے، ورنہ نہ وہ ہرگز خریدے اور نہ بیچے۔‘‘

 

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی اصطلاحات کو رواج دیں

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔‘‘ اس آیت سے یہ آفاقی اصول معلوم ہوتا ہے کہ ’’ماحول‘‘ کا اثر انسانی ذات اور معاشرے پر ضرور پڑتا ہے، لہٰذا اگر وہ اچھے لوگوں کے ساتھ بیٹھے گا تو اس کی ذات پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ اگربُرا ماحول اور بُری صحبت اختیار کرے گا تو اس کے اخلاق بھی بگڑتے چلے جائیں گے۔ ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اچھے لوگوں کے ساتھ رہے اور اچھے ماحول میں زندگی گزارے اور زیادہ سے زیادہ فوائد اور ثمرات حاصل کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔