نظریہ آفاقیت کاروباری سرگرمیوں میں معین ہے

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ اس کی دعوت عام ہے اور قیامت تک کے تمام زمانوں کو شامل ہے۔ یوں افراد، ازمان اور آفاق کے لحاظ سے یہ سب سے زیادہ عموم رکھنے والا دین ہے۔ یہیاایھاالناس کہہ کر لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتا ہے اور یا ایھاالذین اٰمنوا کہہ کر ایما ن قبول کرنے والوں کی تربیت کرتا ہے۔ اس نے کسی خاص قوم تک آپ کو محدود نہیں رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ

حرام خوری کے اثرات توبہ کے بعد بھی رہتے ہیں

سعید انتہائی نیک نوجوان ہے ۔ اپنے نام کی طرح وہ نیک بخت ہی نظرآتاہے ۔ایک زمانے میں وہ ویڈیوکی دکان چلاتا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق دی اور وہ دیندار بن گیا ۔اس نے نہ صرف اپنا حرام کاروبار تر ک اور حرام مال صدقہ کردیا، بلکہ اس نے اپنی بقیہ زندگی علمِ دین حاصل کرنے میں لگا کر اپنی زندگی کا رخ ہی بدل لیا، لیکن … وہ اب بھی

وقت بچانا بھی ’’اسلامی فرض ‘‘ہے

محترم تاجر ! جب کاروبار پھیلتا ہے تو جس طرح اس کے نفع آور ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں بالکل اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس میں بد نظمی یا وسائل کے غیر مربوط استعمال کی وجہ سے نقصانات کے خدشات بھی پید ا ہوجاتے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں، فارن ایکسچینچ اور منی مارکیٹ کے نظام میں جو انتہائی وسعت و پیچیدگی ہے اس کا تقاضا یہ تھا کہ کاروباری منافع کے ساتھ

دینداری سے کاروبا ر میں ترقی ہوتی ہے

یہ اصول کئی آیات اور احادیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
آیت: وَمَن یَتَّق اللہَ یَجعَل لَہُ مَخرَجاََ ویَرزُقہُ مِن حَیثُ لاَ یَحتَسِب(سورۃ الطلاق آیت2،3)
ترجمہ:اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا، اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اُسے گما ن بھی نہیں ہوگا۔

صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا

جب کوئی کمزورانسان اپنے چھوٹے اورمحدود خزانے سے کسی کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی غیر ت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے ناختم ہونے والے خزانے کے دروازے اس شخص کے لیے کھول دیں۔ لہٰذا کسی کی مدد کرنا نہ صرف یہ کہ صدقہ ہے بلکہ یہ اچھی بھلی سرمایہ کاری بھی ہے۔ یہ اصول ایک حدیث کا ترجمہ ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’مانقصت صدقۃ من مالٍ‘‘۔ تاہم انسانی عقل  کے لیے یہ تصور ہضم کرنا اتنا آسان نہیں کہ صدقہ یعنی کچھ مال اپنی ملکیت سے

تاجر زکوۃ کیسے ادا کریں؟

دارالافتاء برائے تجارتی ومالیاتی امور (SCS)

تجارت میں نت نئے طریقے روز بہ روز سامنے آ رہے ہیں۔ اربوں روپے کی تجارت اب لمحوں اور سیکنڈوں میں ہو رہی ہے۔ کراچی پاکستان کا تجارتی مرکز ہے اور یہاں قسما قسم کے کاروبار ہو رہے ہیں۔ کراچی بھر میں دارالافتا بھی موجود ہیں۔ مگر تجارتی پیچیدگیوں نے اب نت نئے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ تاجر برادری بھی اس قدر مصروف ہوگئی کہ ا س کے لیے وقت نکال کر