مغربی نظام حیات میں جب مذہب کا عمل دخل بالکل ختم کیا گیاتو اس کے نتیجے میں اخلاقیات (Ethics) کی بنیادیں بھی ہل گئیں، کیونکہ اخلاقیات کا جو تصور دین میں ہوتا ہے، وہ محض عقل کی بنیادپر بنے ہوئے نظام میں نہیں ہوتا
اس وقت بھی اگر ہم مسلمانوں میں اخلاقی معیار گِرنے کے اسباب کا جائزہ لیں تو اس کا بنیادی سبب اللہ تعالیٰ کے آگے جواب دہی کا تصور کمزور پڑنا ہے
اس وقت ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زِیر کفالت لوگوں میں تصور آخرت کو بیدار کرے، تاکہ مسلمانوں کا معیارِ اخلاقیات بلند تر ہوں


کاروباری اخالاقیات یا ’’بزنس ایتھکس‘‘ کا تصور آج کے معاشی نظام ایک ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ دنیا میں کاروبار اور انتظامی امور کی تعلیم دینے والے اداروں (Business and Management Institutions) نے اس کو باقاعدہ نصاب میں شامل کرکے اس مضمون کو کافی وسعت دی ہے۔ نیزمعاشی سرگرمیوں (Economic activities) کے ساتھ ساتھ معاشرتی سرگرمیوں (Social Activities) کے بہت سے پہلوؤں کو اس میں داخل کردیا ہے۔ ان تمام تر کوششوں کا مقصد بظاہر ایسا متوازن نظام کو قائم کرنا نظر آتا ہے جو بنی نوع انسان کے لیے زیادہ مفید ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسی کوششیں اچھی ہیں اور ان کے مقاصد بھی پسندیدہ ہیں، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس بات کو جاننے کی کوشش کی جائے کہ وہ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے آج دنیا کو کاروباری اخلاقیات کا تصور اس شدت کے ساتھ اپنانا پڑاکہ اب بڑی کمپنیاں کسی نہ کسی قسم کی معاشرتی خدمت کو اپنی کاروباری ذمہ داری سمجھتی ہیں اور ’’کاروباری معاشرتی ذمہ داریوں‘‘( Corpprata social responsibility)کے عنوان کے تحت اس کو بڑے فخر سے اپنی سالانہ رپورٹوں کا حصہ بنا کر شائع کرتی ہیں۔ 
دنیا میں جب سے مذہب کو معاشی اور معاشرتی معاملات سے دور کرنے کا رجحان شروع ہوا، جیساکہ ہمیں بطور خاص مغربی دنیا میں یہ نظر آتا ہے، اور مذہبی تعلیمات (Religious teachings) کو بالکل پسِ پشت ڈالنا اور ان کو انسان کی نجی زندگی (Private) تک محدود کرنا رواج بن گیا تو اس طرز عمل کا ایک بہت بڑا نقصان یہ سامنے آیا کہ معاشرے (Society) کو ایسے ماخذ ِحکمت (Source of wisdom) سے محروم ہونا پڑا جو معاشرے کی فکری بنیاد (Ideological base of society) کو بناتا ہے اور معاشرے کو چند ایسے مضبوط نظریے اور رہنما اصول (Absolute ideologies and rules) دیتا ہے جو اس کے لیے مشعلِ راہ بنے رہتے ہیں اور ان اصولوں کو معاشرہ مقدس درجہ (Sacred status) دیتا ہے اور ان کو قطعیت (Definitiveness) کا ایک درجہ حاصل ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کو محض عقل کی بنیاد پر نہ تو رد کیا جاتا اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے۔ یہ رہنما اصول پورے معاشرے میں قبولیتِ عامہ(General acceptability) کی خصوصیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی بنیاد پر لایا جانے والا کوئی بھی نظام آسانی سے قابلِ قبول اور قابلِ عمل ہوتا ہے۔
اسلام میں اخلاقیات کا بڑا واضح تصور موجود ہے اور مسلمان معاشرہ (Muslim Society) فرائض اور واجبات (Duties ) کے ساتھ اخلاقیات کی بنیاداسلام کے تصور احسان سے مأخوذہے۔ اللہ تعالی کا قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’ان اللہ یامر بالعدل والاحسان‘‘ بے شک اللہ تعالی حکم دیتا ہے عدل واحسان کا۔ اس آیت کریمہ میں اسلام کے اخلاقیات کے فلسفے کی بنیاد بیان ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ انسان اللہ تعالی کے احکامات کے تحت عدل کا پابند ہے اور عدل کا مطلب ہے کہ معاملات کو کم از کم اتنے درجے پر انجام دینا، جس سے کم کرنے کی شرعاً گنجائش نہ ہو۔ مثلاً: کسی شخص کے ساتھ دوسرے نے بدسلوکی کی ہو تو قرآن اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہو وہ دوسرے سے اتنا بدلہ لے لے جتنی اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، اس سے زیادہ بدلہ لینے کی اس کو اجازت نہیں ہے، تو ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت عدل ہے۔ تو عدل کا تصور یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں شریعت کی طرف سے متعین کیے گئے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کا انجام دینا، خواہ وہ کام مالی معاملات میں سے ہو، سماجی معاملات میں سے ہو یا عبادات میں سے ہو۔
عدل سے ایک درجہ آگے ’’احسان‘‘ کا تصور ہے۔ احسان کے بارے میں ایک بات یہ ذہن نشین رکھنی ضروری ہے کہ اردو میں لفظِ احسان جن معنوں میں بولا جاتا ہے، وہ شریعت کی اصطلاح میں بولے جانے والے لفظ ِ احسان کا صرف ایک پہلو ہے۔ روز مرہ کی بول چال میں احسان اس غیر معمولی اخلاق یا مالی معاونت کو کہا جاتا ہے جو ایک شخص دوسرے کے ساتھ کرتا ہے، جبکہ شرعی اصطلاح میں احسان کا مطلب ہے کہ کسی شخص کا اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں میں سے بڑھ کر کسی کام کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دینا۔ زکوٰۃ کی سالانہ مقدار سے بڑھ کر اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، کسی کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو اللہ کے لیے معاف کردینا، معاشی معاملات میں دوسروں کے حق کی ادائیگی کو اپنے حق لینے فوقیت دینا، اس طرح کے تمام معاملات احسان کے دائرے میں آتے ہیں۔
اسلام کا تصورِ اخلاقیات ’’عدل واحسان‘‘ دونوں کے تصور پر مشتمل ہے۔ اخلاقیات کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے اوپرلازم ذمہ داریاں صحیح طرح انجام دے اور ان میں کوئی کسر نہ رہنے دے۔ یہ رویہ عدل کے دائرہ کار میں آتا ہے اور ا س کے مقابلے میں اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر کوئی کام انجام دینا احسان کے دائرہ میں آتا ہے،چنانچہ فرائض کی تکمیل کے بعد اخلاقیات کا درجہ شروع ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص فرائض کو چھوڑ کر دوسری نیکیاں کرتا ہے تو اسلام کے تصورِ احسان کے تحت وہ اخلاقیات کی تکمیل صحیح طریقے سے نہیں کررہاہے۔ اسی تصور کے تحت اسلام معاشرے کے ہر فرد سے یہ تقاضاکرتا ہے کہ وہ فرائض یعنی ذمہ داریوں کو پہلی ترجیح دے اور حسنِ اخلاق کی بنیاد پر کیے جانے والے دیگر کاموں کو ان کے بعد انجام دے، چنانچہ فرائض میں کوتاہی کرکے اخلاقیات کو انجام دینے والے کا شمار شریعت میں افراط وتفریط کرنے والوںمیں ہوتا ہے۔ یوں وہ لوگ جو اصل کام کو پورا نہ کریں اور وہ کام جو ان پر لاز م نہیں، اس کو بہت تن دہی سے انجام دیں۔
مغربی نظام حیات میں جب مذہب کا عمل دخل بالکل ختم کیا گیاتو اس کے نتیجے میں اخلاقیات(Ethics) کی بنیادیں بھی ہل گئیں، کیونکہ اخلاقیات کا جو تصور دین میں ہوتا ہے، وہ محض عقل کی بنیادپر بنے ہوئے نظام میں نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ان کے ہاں ر ائج الوقت قانون پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھا گیا۔ اس کے مقابلے میں دین میں احسان کا تصور انسان کو ہر معاملے میں خوش اسلوبی اور عمدگی کی تعلیم دیتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جن کا تصورِ آخرت یعنی آخرت میں اللہ تعالی کے ہاں جواب دہی کا تصور انسان کو راہِ راست پر رکھنے میں جتنا معاون اور مددگار ہے اتنی مدد کوئی اور چیز نہیں کرتی ہے۔
اس وقت بھی اگر ہم مسلمانوں میں اخلاقی معیار گِرنے کے اسباب کا جائزہ لیں تو اس کا بنیادی سبب اللہ تعالیٰ کے آگے جواب دہی کا تصور کمزور پڑنا ہے۔ اس وقت ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زِیر کفالت لوگوں میں تصور آخرت کو بیدار کرے، تاکہ مسلمانوں کا معیارِ اخلاقیاات بلند تر ہو اور اس مقام پر پہنچ سکے جس میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کاروباری معاملات کرتے وقت دوسرے کے حق کی ادائیگی کی زیادہ فکر کریں۔