تجارت ایک مبارک پیشہ مسلسل ترقی کے 16ضابطے

تجارت میں برکت ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کی ہے۔ اس لیے یہ سنت بھی ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: اللہ نے رزق کے دس حصے کیے ہیں اور اکیلے نو حصے تجارت میں ہیں۔لہٰذا مسلمانوں کو تجارت کی طرف راغب ہو نا چاہیے۔ جس طرح ہر کام کے اصول ہوتے ہیں، اسی طرح تجارت کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہیں جن پر عمل کرکے ہی کامیابی مل سکتی ہے۔آج سے صدیوں پہلے صحابہ کرام نے اسلامی اصولوں کے تحت تجارت شروع کی تو لوگ ان کی ایمانداری اور خوش اخلاقی سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرنے لگے ۔

مشترکہ سرمایہ کاری

شراکت داری کا کاروبار آج کل بڑی ہی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے لوگ بڑے بڑے کاروبار وں میں قدم رکھ رہے ہیں۔حالانکہ مثل مشہور ہے کہ سانجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹتی ہے،لیکن موجود ہ ماحول میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ کارپوریٹ سیکٹرکا کاروبار شراکت داری کی ہی وجہ سے پھل پھول رہا ہے۔عرف عام میں یوں تو شراکت داری کے کاروبار کی بہت زیادہ پذیرائی تو نہیں کی جاتی ہے

شریعہ برانڈنگ اور مارکیٹنگ

اسلامی برانڈنگ کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے: ’’ وہ برانڈنگ جو شریعہ اقدار سے موافق ہو، تاکہ مسلم صارفین کو اپیل کرے۔‘‘ برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی دنیا میں جلد ہی نئے رنگ و روپ کے ساتھ ایک بھرپور ایسی کوشش کو سامنے لانے پر انتھک محنت کی جارہی ہے، جو ہو گی تو مغرب کی، لیکن اس میں اسلامی روح کی آمیزش ہو گی۔ یوں وہ اسلامی دنیا میں بڑھتے ہوئے دینی رجحانات کے کسٹمر کو ان کی مطلوبہ برانڈ فراہم کر کے مارکیٹ پر قبضہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

مقصود نیت ہے، نتائج نہیں

ایک دوست نے مجھے فون کیا۔ کہا کہ میں نے شریعہ اینڈبزنس میں شائع ہونے والی آپ کی تحریریں پڑھیں۔ ایک سوال یہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ نے اپنی تحریروں میں تاجروں کو شرعی بنیادوں پر کاروبار کے بہت سے دنیاوی فوائدبتائے ہیں۔ آپ شریعت پر عمل کریں گے تو آپ کے نفع میں اضافہ ہو گا۔ کلائنٹ کا حجم بڑھے گا۔ کسٹمر سے آپ کا اچھا تعلق (Relation) قائم ہو گا، وغیرہ۔ آپ کو چاہیے تھا آپ تاجروں کو آخرت اور جنت کے

مارکیٹ میں نئی روایات کو جنم دیجیے

گزشتہ ہفتہ مجھے میرے ایک استاد کا فون آیا کہ آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔ ہاں کے جوا ب کے ساتھ انہوں نے ایک آئیڈیا میرے سامنے رکھا اور اس پر میر ی رائے طلب کی۔ بنیادی طورپر میرے استاد ایک کمپنی چلاتے ہیںاور ان کو مارکیٹ میں آئے روز کلائنٹ سے معاہدات (Agreements ) کرنے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ اور مارکیٹ میں SCS بھی فریقین (Parties ) کی ضروریات

سچ ایک کاروباری راز

حدیث مبارکہ میں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے : ’’سچاتاجر (یعنی تاجروں میں سے سچائی کاراستہ اختیارکرنے والا)سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا۔‘‘ (کنز العمال :11/4)
سبحان اللہ! کتنا اونچااوربلندمقام ہے ۔لیکن خیال رہے کہ سچائی کے ساتھ تجارت اوردکان داری بظاہر کہنے میں بہت آسان ہے ۔

دینے اورلینے کے الگ الگ باٹ

اس محاورے کے لیے عربی میں’’تطفیف‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن میں اس نام سے پوری ایک سورت ہے۔ قرآ ن کریم میں اللہ جل جلالہ نے تطفیف کو جرم عظیم قرار دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ حکم ایک جگہ بیان کرنے پر اکتفانہیں کیا گیا، بلکہ قرآن حکیم میں بار بار مختلف انداز اور اسلوب سے بیان کیا گیا ہے۔

سیلزمین

ہر کمپنی اپنی اشیا (پروڈکٹس) مارکیٹ میںفروخت کرنے کی ذمہ داری سیلز ٹیم کو دیتی ہے۔یہ ٹیم کمپنی کی پروڈکٹس کو کمپنی کی جانب سے مقررکردہ شرائط اورقیمت پر فروخت کرتی ہے۔سیلز مین کو عربی میں ’’وکیل بالبیع‘‘ کہتے ہیں ۔اس سے مراد وہ شخص ہوتاہے جس کو کمپنی پروڈکٹ فروخت کرنے کے لیے اپنانائب اوروکیل بناتی ہے۔شے کی فروختگی کاکسی کو وکیل بنانے کا ثبوت حدیث مبارکہ سے ملتاہے۔ ـ

پرچیزر کے شرعی احکام

’’وکالت‘‘ کالفظ سنتے ہی ہمارے دماغ میں فورا عدالت ،کورٹ، کچہری ،مقدمہ اور ان میں پیش ہونے والے کالے رنگ کے کوٹ میں ملبوس انسان کا تصور آجاتاہے۔ اگر ہم تھوڑا سا غور کریں تو یہ لفظ روزمرہ زندگی میں، کاروباری اورتجارتی معاملات،سماجی ومعاشرتی معاملات میں بڑی حدتک دخیل نظرآتاہے ،مثلا: نکاح میں ہم وکیلوں کا تذکرہ سنتے ہیں ،اشیا کی خریدوفروخت میںہم گھر ،دکان ،فیکٹری اورکمپنی کے ملازم کو اپنا نائب بناتے ہیں۔

کاروباری تنازعات کے حل کا نسخہ اکسیر

صلح کی اہمیت، تعارف
’’صلح‘‘ ایک شرعی اصطلاح ہے۔ جس کا دائرہ کار انسان کی معاملاتی زندگی کے گرد کھینچا گیا ہے۔ کاروباری زندگی میں ’’صلح ‘‘کی کیا اہمیت ہے؟ اس کا استعمال کہاں اور کیسے کیا جائے گا؟ یہ جاننے سے پہلے صلح کا اصطلاحی مطلب سمجھتے ہیں۔لفظی کا معنی ہے: ’’لوگوں کے درمیان نفرت ختم کرنا ۔‘‘اور فقہی اصطلاح میں :’’فریقین کی باہمی رضامندی سے کسی معاملہ میں جھگڑا ختم کرنے کو صلح کہتے ہیں۔‘‘

زکوۃ مسلمانوں پر اللہ کی جانب سے لازم کردہ ایک عبادت ہے، ٹیکس نہیں

زکوۃ ایک مالی عبادت ہے۔ ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔ قرآن مجیدمیں اللہ جل جلالہ نے ا س کا تذکرہ82مقامات پر فرمایا ہے۔ دنیا کے لیے متعین طور پر نافع اور قابل عمل نظام ہے۔ فلاح انسانیت اور غریبوں کی کفایت، معاشرے کے محروم و مقہور طبقات کے لیے سہارا بننے کے لائق قابل تقلید نظام ہے۔ اس پر آنکھیں بند کر کے اس لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ یہ نظام رب کائنات کی طرف سے مسلمانوں کو عطاکیا گیا ہے۔  اللہ رب العزت تو ازل اور ابد تمام چیزوں کا علم رکھتے ہیں، اس لیے ان کی عطا کردہ چیز بھی معاشرے کے لیے مفید ہے۔