تکافل کی تاریخ اور اس کا ارتقاء (Evolution) تکافل باہمی تعاون کے، جس تصور پر مبنی ہے، یہ تصور زمانہ اسلام سے قبل بھی لوگوں میں پایا جاتا تھا۔ مختلف قبائلی نظام میں امداد باہمی کے مختلف طریقے رائج تھے۔ جب اسلام طلوع ہوا تو اسلام نے بھی کافی حد تک ان طریقوں کو برقرار رکھا، جس کی دلیل میثاق مدینہ ہے۔ تکافل کی ابتدا اور اصلیت میثاق مدینہ سے لی جاسکتی ہے، جس 

کی تفصیل گزشتہ قسط میں ذکر ہو چکی۔ اس کے بعد بھی اسی طرح معاہدے مختلف خلفائے اسلام فرماتے رہے۔ اگرچہ وہ تکافل کے نام سے نہیں تھے، تاہم تکافل کی روح ان میں موجود تھی۔ بعد میں رسک مینجمنٹ کے پیش نظر کمرشل طریقے رائج ہو گئے۔ اس طریقے سے مروجہ انشورنس کا تصور وجود میں آگیا۔ اس نے باقاعدہ ایک بزنس کی شکل اختیار کی، مگر چونکہ امت کی اکثریت نے مروجہ انشورنس کو شرعی نقطہئ نظر سے جائز کہا اور مسلمانوں کو اس سے منع کیا، اس لیے 1970ء میں مسلمانوں نے مروجہ انشورنس کے اسلامی متبادل دریافت کرنے کے بارے میں غور و خوض شروع کیا۔ 1979ء میں سوڈان اور بحرین میں پہلی تکافل کمپنی وجود میں آئی۔اس وقت ایک اندازے کے مطابق 84 سے زیادہ تکافل کمپنیاں 25 سے زیادہ ممالک میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری فل فلیج کمپنیوں پر غور ہورہا ہے۔

وہ دن دور نہیں کہ اسلامی بینکوں کی طرح پاکستان میں بھی تکافل کمپنیوں کا جال پھیل جائے۔ ایک اندازے کے مطابق 2004ء تک او آئی سی ممالک میں انشورنس پریمیم کی مقدار 50 ارب امریکی ڈالر ہے، جن میں سے تقریباً تکافل کا حصہ 5 فیصد یعنی 2.5 بلین ہے۔ غیر مسلم ممالک میں بھی تکافل کو کمرشل فوائد حاصل کرنے کے لیے بڑی تیزی کے ساتھ اختیار کیا جارہا ہے۔ تکافل کا عام ماڈل (General Model) عام ماڈل سے کیا مراد ہے؟ قطع نظر اس سے کہ تکافل کی بنیاد (Bases) کیا ہے، شروع میں چند حصہ دار (Share Holders) کچھ رقم باقاعدہ وقف کرتے ہیں، اس رقم سے ایک پول (Pool)قائم کیا جاتا ہے۔ شیئر ہولڈرز کی حیثیت واقف کی ہوتی ہے۔ اس وقف فنڈ کو PTF (Participant's Takaful Fund)کہا جاتا ہے۔ شیئر ہولڈرز شرط لگاتے ہیں کہ جو بھی شخص اس وقف فنڈ کو عطیہ دے گا تو وہ اس فنڈ سے وقف کی شرائط کے مطابق فوائد کا مستحق ہوگا۔ اس پورے ڈھانچے کو تکافل کمپنی یا اسلامی انشورنس کمپنی کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر اس میں 3 باتیں ہوتی ہیں:

1 کمپنی (Takaful Operator)اس پول (Pool) کی مالک نہیں ہوتی ۔ اس کا کردار صرف اس پول کو چلانا (Operate) ہوتا ہے۔ پول، فنڈ کے اموال اور منافع کا حساب محفوظ رکھتی ہے۔

کمپنی کا کھاتہ اور اس پول کا کھاتہ بالکل الگ الگ ہوتا ہے۔ کمپنی کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی خدمات کے عوض اس پول سے فیس وصول کرے جسے ''وکالہ فیس'' (Agency Fee)کہتے ہیں یا مضاربہ (Modarabah) کے نفع سے اپنی خدمات کا عوض حاصل کرے۔ اگرچہ بعض کمپنیاں یہ کام مفت بھی کرتی ہیں، لیکن وہ مضاربہ میں سے اپنا حصہ زیادہ مقرر کرتی ہیں، یعنی جو کمپنیاں وکالہ فیس وصول نہیں کرتیں، وہ مضاربہ شیئرز زیادہ رکھتی ہیں۔

2 کمپنی پول میں جمع شدہ رقم کو سرمایہ کاری میں لگاتی ہے، جس میں کمپنی کی حیثیت بعض صورتوں میں مضارب کی اور پول کی حیثیت ''ربّ المال'' (Investor)کی ہوتی ہے ۔ بعض صورتوں میں پول مؤکل (Principal)اور کمپنی کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں وکالہ اور مضاربہ دونوں ہوتے ہیں۔

3 پول کے شرکاء (Participants) وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ سکتے ہیں، نیز مضاربہ میں منافع بھی حاصل ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے پول کا سرمایہ بڑھے گا۔ پھر مختلف خرچوں (Expenses) اور شرکاء کو رقم دینے کے بعد اگر کچھ بچا، تو اس کو مختلف زبانوں میں ''فائض'' یا ''قدر زائد''یا Surplus کہتے ہیں جس میں کمپنی کو مختلف قسم کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں کہ کچھ رقم مختلف ریز روڈ فنڈز میں ڈالے،کچھ خیرات کرے، کچھ شرکاء میں تقسیم کرے اور کچھ پول میں واپس ڈال دے۔ تکافل کمپنی کے بنیادی اعمال سابقہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ تکافل کمپنی کے بنیادی اعمال تین ہیں: 1 شرکاء (Participates)پریمیم ( عطیہ) دیتے ہیں۔ 2 پول حسبِ شرائط ان کو رقم دیتا ہے۔ 3 سرپلس یا اس کا کچھ حصہ شرکاء کو ملتا ہے۔ یہ تینوں کام باہم مربوط (Interconnected) ہیں۔ ان میں باقاعدہ شروط و قواعد کے مطابق لین دین لازم ہوتا ہے، یعنی شرکاء پریمیم دینے کے پابند ہوتے ہیں اور پول تلافی (Cover) دینے کا پابند ہوتا ہے۔(جاری ہے) .... . . .