مروجہ انشورنس کی طرح تکافل کی بھی دو قسمیں ہیں: 1 جنرل تکافل 2 فیملی تکافل جنرل تکافل (General Takaful) جنرل تکافل میں اثاثہ جات یعنی جہاز، موٹر اور مکان وغیرہ کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تکافل رکنیت فراہم کی جاتی ہے۔ حادثہ کی صورت میں ''وقف فنڈ'' (PTF) سے تلافی کی جاتی ہے۔ کمپنی تکافل فنڈ کو بطور منیجر چلاتی ہے اور ایک طے شدہ تناسب سے

انتظامی اخراجات وصول کرتی ہے۔ نیز اس فنڈ میں موجود رقم کی انویسٹمنٹ کے لیے ایک مخصوص رقم کو کمپنی شریعت کے اصولوں کے مطابق مضاربت کی بنیاد پر فنڈ سے لے لیتی ہے اور اسے نفع بخش کاروبار میں لگاتی ہے۔ حاصل شدہ نفع کمپنی اور فنڈ کے درمیان طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتا ہے۔ فنڈ میں سے انتظامی اخراجات کے علاوہ کلیمزکی ادائیگی بھی کی جاتی ہے۔ اگر ان اخراجات کے بعد کچھ رقم بچ جائے تو اس میں وقف فنڈ کو پھر اختیار ہوتا ہے چاہے نئے سرے سے انویسٹمنٹ میں لگائے، چاہے تو ممبران کے درمیان متناسب بنیاد پر تقسیم کرے۔

اس رقم کو (SurPlus) کہتے ہیں۔ جنرل تکافل میں ایک ہی فنڈ ہوتا ہے، جسے پی ٹی ایف (Participant Takaful Fund) کہتے ہیں۔ یہ فنڈ کمپنی کی ملکیت ہوتا ہے نہ شرکاء کی۔ اس میں ہر شریک (Participant) تبرعاً رقم جمع کرتا ہے اور جمع کرتے ہی اس کی ملکیت سے وہ مال نکل جاتا ہے۔ اس لیے تمام شرکاء کا آپس میں عقدی تعلق نہیں ہوتا (یہ صرف اس پول کے ممبر ہیں)، بلکہ پول اور شریک کا تعلق ہوتا ہے۔ جنرل تکافل کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کمپنی تکافل فنڈ چلانے کی باقاعدہ فیس نہ لے،بلکہ مضاربت کے عقد میں اپنے نفعProfit) (کی نسبت بڑھا لے۔ فیملی تکافل (Family Takaful) لائف انشورنس، تکافل سسٹم میں فیملی تکافل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں انسانی زندگی کے ممکنہ خطرات کا تدارک کیا جاتا ہے۔ شرکاء (Participants)کو تکافل کے تحفظ کے علاوہ حلال سرمایہ کاری کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں وقف فنڈ (PTF) کے علاوہ ایک اور فنڈ بھی ہوتا ہے، جس کا نام پی آئی اے (Participant Investment Account) ہے۔ جنرل تکافل میں PIA اکاؤنٹ کا تصور نہیں۔ تفصیل کچھ یوں ہے: 1 شریک تکافل کی جانب سے دی گئی رقم کا اکثر حصہ انویسٹمنٹ اکاؤنٹ (PIA) میں چلا جاتا ہے، جہاں پر اس کی سر مایہ کاری اسلامک میوچل فنڈ کی طرز پر کی جاتی ہے۔ 2 دوسرا حصہ تکافل فنڈ (PTF) میں بطور تبرع جمع کیاجاتا ہے، تاکہ اگر کسی ممبر کی موت پلان کی تکمیل سے پہلے واقع ہوجائے تو اس کے ورثاء کو ادائیگی کی جاسکے ۔ 3 تکافل اقساط کی رقم کیا ہونی چاہیے ؟ یہ ممبر خود طے کرتے ہیں، لیکن کم از کم حد کیا ہونی چاہیے؟ یہ کمپنی طے کرتی ہے۔ 4 PIA میں موجود رقم سے اضافی اخراجات نکالنے کے بعد کمپنی بطور وکیل اس رقم کی سرمایہ کاری کرتی ہے۔

5 کمپنی سرمایہ کاری کے لیے اپنی وکالت فیس (Agent Charge) وصول کرتی ہے، جس کا نفع سے تعلق نہیں ہوتا اور یہ وکالت الاستثمار(Investment Agency)کہلاتی ہے۔ 6 سرمایہ کاری سے جو نفع حاصل ہوتاہے، وہ کمپنی اور ممبر کے درمیان طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتاہے۔ 7 پی آئی اے اکاؤنٹ میں موجود رقم شریک کی ملکیت ہوتی ہے۔ اس لیے اس پر میراث اور زکوۃ کے احکام جاری ہوتے ہیں۔ 8 تکافل میں تحفظ کے سلسلے میں تمام کلیمز کی ادائیگی وقف پول سے کی جاتی ہے۔ تکافل فنڈ میں رقم جمع کرانے والے شخص کی 3 حالتیں ہوتی ہیں۔ 1 جتنی مدت کے لیے تکافل پلان لیاتھا اس کی تکمیل سے پہلے انتقال ہوجائے۔ اس صورت میں کمپنی انویسٹمنٹ اکاؤنٹ (PIA) سے منافع سمیت سارا سرمایہ اس کے ورثاء کے حوالے کرتا ہے اور تکافل فنڈ (PTF) میں ممبر کے فوت ہونے سے اس کے ذمے جو اقساط ہیں ان کا تعین، فوت ہونے کی تاریخ سے تکافل پلان کی تکمیل کی تاریخ تک جمع کرکے کیا جاتا ہے۔ پھر اسی حساب سے ورثاء کو رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ 2 اگر ممبر تکافل پلان کی تکمیل تک زندہ رہے اور پابندی سے اقساط جمع کراتا رہے تو اس صورت میں انویسٹمنٹ اکاؤنٹ (PIA) میں جمع کی گئی مجموعی رقم، منافع اور تکافل فنڈ (PTF) کا فاضل منافع (Net Surplus) اس کو ادا کیا جاتا ہے۔ 3 ممبر کسی مجبوری کی بنا پر فیملی تکافل پلان کی تکمیل سے پہلے نکل جاتا (Surrunder) ہے تو (Surrunder Benefits) کا حق دار ہوتاہے۔ یہ رقم صرف پی آئی اے اکاؤنٹ سے ادا کی جاتی ہے۔ پی ٹی ایف سے ادا کی گئی اقساط پر اس کا کوئی حق نہیں ہوتا۔