ضروری تعریفات ، اہم اصول
''تکافل'' کے تعارفی سلسلے کے اختتام کی جانب بڑھتے ہوئے بطور خلاصہ و اعادہ دو چیزیں پیش خدمت ہیں: چند اہم تعریفات واصول اور گزشتہ پانچ اقساط کا خلاصہ۔

درج ذیل 16 اصطلاحات کسی بھی تکافل سسٹم میںعام طور پر استعمال ہوتی ہیں:
Contribution: وہ چندہ جو ممبر وقف فنڈ میں جمع کراتا ہے۔

:Deficitیہ اس کمی کو کہتے ہیں، جو تکافل رولز 2005ء اور وقف نامہ میں ذکرکردہ ادائیگیوں کے بعد فنڈ میں واقع ہوتی ہے۔
Member:جو شخص پرپوزل فارم پُر کرے۔
Operator:کمپنی کو کہتے ہیں، جو فنڈ کو بطور وکیل چلاتی ہے۔
Participant :کوئی فرد یا ادراہ جو فنڈ کی رکنیت کے لیے درخواست دے۔
:Participant Membership Document:(PMD)
وہ کاغذا ت اور ڈاکومنٹس جو ممبر کے حقوق اور واجبات وفرائض کو بیان کریں۔ :Subscriberممبر کو کہتے ہیں۔
:Trustee متولی کو کہتے ہیں، اس سے مراد کمپنی ہے، جو خود واقف ہے۔
:Benefits وقف رولز کے مطابق ممبرز کو جو کوریج ملتا ہے۔
:Age وہ فرد جو تکافل پالیسی حاصل کرنا چاہتا ہے، اس وقت اس کی عمر کیا ہوگی اور وہ آج کل کے قانون کے
اعتبارسے کم سے کم اٹھارہ سال ہونا ضروری ہے۔

Beneficiary: یہ وہ شخص ہے جس کو ممبر نامزد کرتا ہے تاکہ اس کے مرنے کی صورت میں فوائد حاصل کرے۔
Death Benefits: وہ رقم جو ممبر کی موت کی صورت میں اس کو وقف فنڈ سے ملتی ہے۔
Takaful Contribution: وہ چندہ جو پی ٹی ایف میں جاتا ہے یہ ممبر کی ملکیت نہیں ہوتا۔
Insvestment Contribution: وہ رقم جو پی آئی اے میں جمع ہوتی ہے اور یہ ممبر کی ملکیت ہوتی ہے۔
Surrender Value: سارے یونٹس کے صافی اثاثہ جات کی مالیت جو اثاثے انویسٹمنٹ اکاؤنٹ میں جمع ہوں، یہ
تکافل چھوڑنے کی صورت میں ممبر کو ملتے ہیں اور کچھ ایکچوری کو ملتے ہیں۔
Wakala Fee: اس طے شدہ اجرت کو کہتے ہیں جو آپریٹر کو فنڈ مینج کرنے کے بدلے میں ملتی ہے۔
(تکافل کی شرعی حیثیت،مولانا محمد عصمت اللہ: 106)
گفتگو کا خلاصہ
تکافل سسٹم باہمی تعاون کے اصول پر مبنی ہے۔ رسک مینجمنٹ کے لیے تکافل انشورنس کا غیر سودی متبادل ہے۔ اس کی بنیاد میثاق مدینہ سے لی گئی ہے۔ جہاں یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہر گروہ اور قبیلے کے لوگ اپنے قیدی کے فدیے کے ذمہ دار ہوں گے۔ گویا رسک منیجمنٹ کے طور پر تمام قبیلے والوں پر لازم کیا گیا کہ قیدی کا فدیہ باہم تعاون سے ادا کیا جائے۔ 1979ء میں تکافل باقاعدہ طورپر متعارف ہوا۔ تکافل کمپنی سب سے پہلے سوڈان اور بحرین میں وجود میں آئی۔ اِس وقت ایک اندازے کے مطابق 84سے زیادہ تکافل کمپنیاں 25سے زیادہ ممالک میں کام کر رہی ہیں۔ تکافل کا عام ماڈل اس طرح ہے کہ اس میں شیئر ہولڈرز کی رقم سے ایک پول وجود میں آتا ہے۔ شیئر ہولڈر یہ شرط لگاتے ہیں کہ اس فنڈ کے فوائد ومنافع کا مستحق صرف اس میں عطیہ ڈالنے والے ہوں گے۔ اس میں بنیادی طورپر 3باتیں ہوتی ہیں:
1 اس Pool کو چلانے کی ایک کمپنی ہوتی ہے جو کہ اس کی مالک نہیں ہوتی ہے وہ صرف سرمایہ کاری کرتی ہے فنڈ کے اموال ومنافع کا حساب رکھتی ہے۔
2 دو طرح کے فنڈ ہوتے ہیں:
٭ وقف رقم سے بنایا ہوا اس کو (PTF)کہتے ہیں ۔ ٭ مضاربت کے لیے جمع شدہ رقم سے اُس کو (PIA) کہتے ہیں۔ 3 PIA فنڈ میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل شدہ منافع Partcipants میں سرمائے کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ (PTF) سے رسک کی صورت میں تلافی ہونی چاہیے۔
تکافل کی دو قسمیں ہیں:
جنرل تکافل، فیملی تکافل۔
جنرل تکافل میں اثاثہ جات یعنی مکان، گاڑی وغیرہ کے ممکنہ خطرات کی صورت میں تعاون حاصل کرنے کے لیے تکافل کیا جاتا ہے، اس میں صرف PTF فنڈ ہوتا ہے۔ PIAکا اس میں تصور ہی نہیں۔

فیملی تکافل میں زندگی کے ممکنہ خطرات کی صورت میں تعاون حاصل کرنے کے لیے تکافل کیا جاتا ہے اس میں (PTFاورPIA)دونوں ہوتے ہیں اور وقفے وقفے سے سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل شدہ منافع Partcipants کردیا جاتا ہے۔
تکافل کمپنی اپنے تحفظات کی خاطر ''ری تکافل'' کمپنیوں سے اپنا بیمہ بھی کرواتی ہے، تاکہ نقصان پیش آنے کی صورت میں تکافل کمپنی بالکل دیوالیہ نہ ہو اور ضرورت پیش آنے کی صورت میں ری تکافل کمپنی سے ''Loan'' لے سکے۔