عشر : ایک اہم شرعی فریضہ

اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں ریاست کے ہر باشندے کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اسلام نے رعایا کے بنیادی حقوق حکومتِ وقت کے ذمہ واجب کیے ہیں۔ ریاست کا کوئی بھی فرد حاکمِ وقت سے ان کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے سے مفلسی، بدحالی اور غربت کے خاتمے کے لیے اسلام نے ہر شخص پر کچھ مالی حقوق بھی عائد کیے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گنے کی خرید و فروخت کی مختلف صورتیں

سوال ہمارے علاقے میں گنے کی خرید و فروخت کی درج ذیل صورتیں رائج ہیں۔ ان کا شرعی حکم مطلوب ہے۔ 1 زمین میں کھڑے گنے کی فصل کو فی من کے حساب سے خرید لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں گنے کی کٹائی اور مل تک لے جانے کی ذمہ داری مالکِ فصل پر ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری مالکِ فصل خوشی سے قبول نہیں کرتا، بلکہ اس پر یہ شرط لگائی جاتی ہے۔ نیز اس صورت میں گنے کا وزن وہی معتبر ہوتا ہے جو مِل والے لکھ کر دیتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

انٹرنیٹ کا مثبت اور منفی استعمال

دورِ جدید میں انٹرنیٹ نے روابط کو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں یعنی گلوبل ویلج (Global village) کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ہر شخص ایک ہی جگہ بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر کی معلومات حاصل کر کے اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے۔ انٹرنیٹ نظام ایک گلوبل نظام ہے جس میں سیکڑوں ملین کمپیوٹر آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اس وقت پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں، جن میں طالب علموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پراویڈنٹ فنڈ کی وصولی سے پہلے زکوۃ نہیں

سوال زید ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہے۔ جہاں ہر مہینے پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے کمپنی تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ لیتی ہے، جو پراویڈنٹ فنڈ اکاؤنٹ کے نام سے جمع کر لی جاتی ہے۔ یہ رقم زید کو اس وقت ملے گی جب وہ کمپنی چھوڑ کر جائے گا۔ رہنمائی فرمائیں کہ اس رقم پر زکوۃ کی ادائیگی کس وقت لازم ہو گی۔ رقم ملنے کے بعد یا ہر سال پراویڈنٹ کے نام سے جتنی رقم اس کے نام سے جمع ہو گی۔ اس پر ہر سال زکوۃ کی ادائیگی لازم ہو گی؟ (عقیل احمد)

مزید پڑھیے۔۔۔

عقد مضاربت کی ایک جائز صورت

سوال عمران اور تنویر دونوں آپس میں شریک ہیں اور دونوں نے مل کر ایک پول بنایا ہے، جس میں مختلف لوگوں سے سرمایہ اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور پھر اس پول کے سرمائے سے پراپرٹی کا کاروبار کیا جائے گا۔ آپس میں طے پایا ہے کہ اس سرمائے سے صرف بحریہ ٹاؤن میں ہی کاروبار کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے بحریہ ٹاؤن میں دس پلاٹ خرید لیے گئے ہیں۔ یہ دونوں شرکا مضارب ہوں گے اور سرمایہ دار ارباب الاموال ہوں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

میراث کی تقسیم سے پہلے کی زکوۃ

سوال ہمارے پاس وراثت کا ایک پلاٹ 2001 ء سے موجود تھا جس کو ہم نے 2013 ء میں بیچ کر رقم وارثوں میں تقسیم کر دی۔ پلاٹ کی اس قدر دیر سے فروخت کی وجہ کچھ خاندانی مسائل اور اس درمیان پلاٹ کی مناسب قیمت نہ ملنا تھا۔ بہر حال! اس کا سودا دسمبر 2013 ء میں ہوا اور خریدار نے کچھ رقم بطور ایڈوانس ادا کی جب کہ باقی رقم مارچ 2014 ء میں ادا کرنے کو کہا اور یہ طے پایا کہ بقیہ رقم کی ادائیگی پر پلاٹ خریدار کے نام پر ٹرانسفر کر دیا جائے گا اور اگر کسی وجہ سے خریدار بقایا رقم کا انتظام نہ کر سکا تو اس کی ایڈوانس دی گئی رقم اس کو واپس کر دی جائے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔