سوال زید ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہے۔ جہاں ہر مہینے پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے کمپنی تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ لیتی ہے، جو پراویڈنٹ فنڈ اکاؤنٹ کے نام سے جمع کر لی جاتی ہے۔ یہ رقم زید کو اس وقت ملے گی جب وہ کمپنی چھوڑ کر جائے گا۔ رہنمائی فرمائیں کہ اس رقم پر زکوۃ کی ادائیگی کس وقت لازم ہو گی۔ رقم ملنے کے بعد یا ہر سال پراویڈنٹ کے نام سے جتنی رقم اس کے نام سے جمع ہو گی۔ اس پر ہر سال زکوۃ کی ادائیگی لازم ہو گی؟ (عقیل احمد)


جواب
پراویڈنٹ فنڈ کی رقم کمپنی کے پاس ہی رہتی ہے۔ کمپنی اس کا حساب خود ہی رکھتی ہے۔ الگ سے کوئی کمیٹی نہیں ہے۔ اسٹاف جب نوکری چھوڑ کر جاتا ہے تبھی وہ رقم اس کو دی جاتی ہے۔ مزید استفسار پر مستفتی نے بتایا کہ کمپنی یہ رقم ملازم کی تنخواہ سے منہا کر کے اپنے پاس اکاؤنٹ میں جمع کر لیتی ہے اور پھر کمپنی چھوڑتے وقت وہ ملازم کو ادا کر دی جاتی ہے۔
اس معاملے میں تحقیق یہ ہے کہ یہ دَینِ ضعیف (ایسا قرض جس پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی) ہے اور جب تک یہ رقم وصول نہ کر لی جائے، اس وقت تک اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہے۔ پھر وصول کر لینے کے بعد بھی سابقہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے۔ وصولی کے بعد اس رقم کو دیگر اموالِ زکوۃ میں ملا کر زکوۃ کی تاریخ میں حساب کر لیں گے۔ اگر پہلے سے زکوہ فرض نہ ہوتو مال ملنے کی اسلامی تاریخ ہی زکوۃ کی تاریخ طے ہو جائے گی اور سال گزرنے پر زکوۃ کا حساب کریں گے۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کے ساتھ معاملہ
سوال
سوال یہ ہے کہ نیٹ ورک مارکیٹنگ کی ایک کمپنی میں ایک شخص نے رجسٹریشن کروائی۔ وہ کمپنی استریاں فروخت کرتی ہے۔ اور رجسٹریشن پر ایک استری کمپنی اپنے کلائنٹ کو دیتی ہے اور پھر مزید وہ شخص نیٹ ورک میں کام کر کے اس کے ذریعے نفع کماتا ہے۔ اب اس شخص نے تین استریاں 9000 (فی 3000) میں لیں، یعنی تین استریاں لیں۔ بعد ازاں اس کو پتا چلا کہ یہ کاروبار شرعاً درست نہیں ہے۔ تو وہ استریاں اس نے کمپنی کو واپس کر دیں۔ چونکہ ان میں ایک استری وہ خود استعمال کر چکا تھا، اس لیے کمپنی نے اس کو 6000 روپے دے کر دو استریاں واپس کر کے معاملہ ختم کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس شخص کے لیے یہ رقم 6000 استعمال کرنا درست ہے؟ (ثاقب منظور، صادق آباد)
جواب
نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کے ساتھ کی گئی بیع (خرید و فروخت) ’’بیع شرط‘‘ ہونے کی وجہ سے فاسد تھی، جس کا ختم کرنا فریقین پر لازم تھا۔ آپ کا دو استریوں کو واپس کر کے معاملہ کو ختم کرنا درست ہے، لہذا اس رقم کا استعمال بھی درست ہے۔
ڈائریکٹ اور اِن ڈائریکٹ کمیشن
سوال
زید ایک موبائل کمپنی میں سیل منیجر ہے۔ اس کے تحت کئی منیجرز کام کرتے ہیں۔ ہر منیجر تین فرنچائز کی سیل کو مانیٹر کرتا ہے اور فرنچائز پر منیجر کی ٹیم ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی سیل مین سِم فروخت کرتا ہے تو کمپنی کے مالکان کی طرف سے سیل مین اور منیجر کو ان کی تنخواہ کے علاوہ ہر سم کی فروختگی پر کمیشن دیا جاتا ہے۔ کیا سیل مین کے لیے یہ ڈائریکٹ کمیشن اور منیجر کے لیے اِن ڈائریکٹ کمیشن شریعت کے روشنی میں جائز ہوں گے؟
(عقیل احمد، کراچی)
جواب
مذکورہ صورت میں اگر کمیشن کی مقدار مقرر ہو، خواہ فیصد کی صورت میں یا متعین رقم کی صورت میں، تو سیلزمین کے لیے ڈائریکٹ اور سیلز منیجرز کے لیے ان ڈائریکٹ کمیشن لینا جائز ہے۔