سوال
1 ہم لوگ اسٹیل امپورٹ ٹریڈنگ کا کاروبار کرتے ہیں اور امپورٹ کرنے میں ہمیں کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ ٹریٖڈرز اور کنزیومر دونوں ہی امپورٹ کرنے اور کنزیومر کو ٹیکس میں 4000 سے لے کر 2500 تک چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اس وجہ سے کنزیومر مارکیٹ میں مال سستا فروخت کردیتا ہے ۔ بعض کنزیومر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ٹریڈرز کو اپنا لائسنس فراہم کرتے ہیں اور ٹریڈرز اس لائسنس پر مال منگوا کر مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں ۔

لائسنس کے استعمال پر کنزیومرٹریڈرز سے کمیشن کی مد میںکچھ رقم بھی وصول کرتے ہین۔ پوری مارکیٹ میں یہی کام ہورہا ہے۔ اگر ہم اس طرح کام کرتے ہیں تو امپورٹ کرسکتے ہیں ، ورنہ اپنی کمپنی میں نہیں کرسکتے۔
2 ہمارا تعلق لوہے کے کاروبار سے ہے اس میں دو قسم کے لوگ ہیں: ایک ، ٹریڈرز۔ ٹریڈرز وہ ہوتے ہیں جو خام مال منگوا کر خام مال ہی مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ ٹریڈرز کو ڈیوٹی کی مد میں ڈیوٹی سیل ٹیکس، انکم ٹیکس، ہولڈنگ ٹیکس، ٹریڈرز کو ہولڈنگ ٹیکس 3 فیصد، ، انکم ٹیکس 5 فیصد لگتا ہے۔ دوسرے، مینو فیکچرر۔ وہ جو خام مال منگوا کر مال استعمال کرکے مارکیٹ میں پائپ ،چوکھٹ اور دوسرے پرانے آئٹم وغیرہ بنا کر مارکیٹ میں بیچتے ہیں۔ مینو فیکچر ر کو ڈیوٹی کی مد ڈیوٹی سیل ٹیکس، انکم ٹیکس، ہولڈنگ ٹیکس۔ مینو فیکچر کو ہولڈنگ ٹیکس 0 فیصد، انکم ٹیکس 3 فیصد لگتا ہے۔
یوں مجموعی طور پر مینو فیکچرر کو 5 فیصد کا فائدہ ہوتا ہے ۔ ڈیوٹی کی مد میں یہ جو ان کو ٹیکس کی چھوٹ ملی ہے وہ گورنمنٹ نے مال بنانے کے لیے چھوٹ دی ہے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ مینو فیکچرر خام مال منگواتا ہے اور خام مال ہی مارکیٹ میں فروخت کردیتا ہے جس کی قانوناً اجازت نہیں ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا ہم ان لوگوں سے مال لے سکتے ہیں یا ان کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں، کیونکہ ٹریڈر جو مال منگواتا ہے تو اس کے لیے مارکیٹ کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
اس طرح بعض اوقات جب ہم کسی دوسرے ٹریڈرسے بھی مال خریدیں تو اس کے ریٹ ایسے ہوتے ہیں جس سے واضح طور پر لگتا ہے کہ یہ شخص مینو فیکچر کا مال لے کر فروخت کر رہا ہے، ورنہ اتنے کم ریٹ پر مال فروخت کرنا ممکن نہیں۔ سوال یہ ہے ہمیں اس کی تحقیق میں کس حد تک جانا چاہیے۔ اب اس سے مال خریدیں یا نہیں۔
3 پورٹ پر اصل اسٹیل کو بھی کلیئر کروانے کے لیے رشوت دینی پڑتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ 4 ایران سے آنے والا مال جس کا ہمیں پتہ ہے کہ اسمگلنگ کے راستے سے آرہا ہے، کیا یہ مال خریدنا جائز ہے؟ جبکہ ایسا نہ کرنے کی وجہ سے ہمارا کاروبار ٹھیک ہوتا جارہا ہے۔ گورنمنٹ کے علم میں یہ ساری باتیں ہیں۔
(سائل: صادق، جنید، بلال، لوہا مارکیٹ)
جواب
1،2 اگر کنزیومیر (مینو فیکچرر) کو گورنمنٹ کی جانب سے منگوایا گیا مال مارکیٹ میں فروخت کرنا بالکلیہ یا کسی فیصدی تناسب سے منع ہے تو کنزیومر (مینو فیکچرز) کا خود مال منگوا کر پروسس کیے بغیر آگے فروخت کرنا بدعہدی اور قانون کی خلاف ورزی کی وجہ سے گناہ ہے، نیز اس میں ٹریڈرز کے کاروبار کو نقصان پہنچانے کا گناہ بھی ہے، اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔ اگر ایسا شخص پکڑا جائے تو خلاف ورزی پر حکومت ایسے شخص کو اپنی صوا بدید کے مطابق سزا بھی دے سکتی ہے۔ تاہم اس کا نفع حرام نہ ہو گا۔ البتہ اگرکنزیومرٹریڈرزکواپنالائسنس فراہم کرکے نام استعمال کرنے پر کمیشن کی مد میں کچھ رقم لیتا ہے تویہ رقم حرام ہوگی۔ 3 رشوت لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔ البتہ کسی کا جائز حق رشوت دیے بغیر حاصل نہ ہوتا ہو اور مجبورا رشوت دینی پڑے تو گنجائش ہے۔ اس پر توبہ اور استغفار کیا جائے، تاہم یہ رقم لینے والے کے لیے بہر حال حرام ہوگی۔
4 اسمگلنگ کرنا کئی مفاسد پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، لیکن اگر چوری کا مال نہ ہو تو مال اسمگر کی ملکیت میں آجاتا ہے۔ لہذا آپ کے لیے خریدنے کی گنجائش ہے۔ اگر مال چوری کا ہو تو کسی صورت بھی جائز نہیں۔(حاشیۃ ردالمحتار: 293/5) ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کا معاوضہ وصول کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایک مسلم ڈاکٹر ہے جو اپنا ذاتی دواخانہ چلاتا ہے۔ دواؤں کے ساتھ کسی کا انتقال ہو جائے تو (Death Certificate) بھی دیتا ہے جس کا معاوضہ وصول کرتا ہے۔ جو اب طلب امر یہ ہے کہ اس کا معاوضہ شرعی نقطہ نظر سے کیسا ہے؟ (سائل: سمیر) جواب
Death Certificate (موت کے تصدیق نامے) پر معاوضہ لینا اس شرط سے درست ہے کہ ڈاکٹر میت کے پاس جائے یا میت کو ڈاکٹر کی کلینک میں لایا جائے اور ڈاکٹر اس کا معاینہ کرکے اس کا تصدیق نامہ جاری کرے۔ خالی تصدیق نامہ جاری کرنے کا معاوضہ لینا قابل ذکر خدمت نہ ہونے کی وجہ سے درست نہیں۔
(الدر المختار: 380/6)