سوال

گزشتہ پانچ سالوں سے پاکستانی ہول سیل مارکیٹوں میںکینیا کی چائے تقریباً اسمگلنگ کے ذریعے لائی جاتی ہے۔ اول یہ جائے افغانستان منگوائی جاتی ہے اور وہاں سے مختلف کرایہ کشوں کے ذریعے یہ چائے پاکستان لائی جاتی ہے۔ دینی حلقوں میں پائے جانے والے

مختلف سوالات اور ان کے جوابات کو یہاں تحریر کیا جاتا ہے۔
1 حکومتی احکامات کی پابندی لازم ہے کیونکہ وہ عوام کے مفاد کے لیے ہوتے ہیں۔ 2 رشوت اور جھوٹ میں ملوث ہونا پڑتا ہے۔ 3 اپنی عزت وآبرو کو دداؤ پر لگانا پڑتا ہے۔
4 جو جائز رقم ٹیکس کی ہے وہ بھی ادا نہیں کی جاتی۔ چونکہ مسلمان کا بنیادی حق ہے کہ اپنے مال کوجہاں سے چاہے منگوا سکتا ہے اور اس کی خرید و فروخت کر سکتا ہے۔ حکومت کی ٹیکس کی شرح انتہائی ظالمانہ ہے اور وہ شرائط جو فقہا نے ٹیکس کی وصولی کے لیے مقرر کیں ہیں، کہیں سے بھی پوری نہیں ہوتیں۔ اس وجہ سے نقطہ نمبر ایک زائل ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آج عوام کو الحمدﷲ لپٹن، ٹپال کوالٹی کی چائے مارکیٹوں میں ان سے 150 روپے فی کلو تک سستی دستیاب ہے تو اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ حکومت کا یہ ٹیکس کسی صورت میں عوام کے مفاد میں نہیں۔
نقطہ نمبردو کے بارے میں عرض ہے کہ اول تو کرایہ کش ان چیزوں میں ملوث ہوتے ہوں گے، کیونکہ ہم ان سے فی بوری مال منگوانے کا ریٹ طے کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ علما نے لیگل امپورٹ میں ظالمانہ ٹیکس سے بچنے کے لیے انڈر انوائسنگ کی اجازت دی ہے تو اسی طرح اسمگلنگ میں بھی ظالم کے ظلم سے بچنا مقصد ہے تو یہاں بھی اس کی گنجائش ہونی چاہیے۔
نقطہ نمبرتین کے بارے میں عرض ہے کہ جس کا مال خدا نخواستہ پکڑ ا جاتا ہے تو بہت زیادہ اسے ٹیکس ہی بھرنا پڑتا ہے اور چونکہ بہت سے کرایہ کش مال پہنچانے کی ضمانت دیتے ہیں ۔ واضح رہے اس مال کی ضمانت کے لیے کوئی علیحدہ رقم نہیں دی جاتی۔ اس وجہ سے یا تو وہ معاملہ خود حل کروا لیتے ہیں یا پھر اس مال کی رقم لے لیتے ہیں، اسی وجہ سے خاطر خواہ عزت داؤ پر نہیں لگتی۔
نقطہ نمبرچار کے بارے میں عرض ہے کہ اول تو وہ چیزیں جو ظالمانہ ٹیکس بھرنے کے باوجود لیگل امپورٹ کے ذریعے منگوانے میں ہمیں سستی پڑتیں ہیں (اسمگلنگ کے مقابلے میں) انہیں چیزوں کو منگوانا ترجیح ہوتی ہے۔ اس لیے ویسے ہی ہم بڑے پیمانے میں حکومت کو ٹیکس ادا کررہے ہیں۔

جواب

1 اسمگلنگ کے ذریعے خرید و فروخت قانوناً جرم ہے، قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔ شرعی، عرفی اور قانونی پہلوؤں کا لحاظ رکھتے ہوئے ایک مسلمان اپنے مال کو جہاں سے چاہے منگوا سکتا ہے۔ مگر اسلام اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ انتظامی طور پر حکومت ایسی پابندی یا پالیسی عوام پر لاگو کرسکتی ہے جو مفاد عامہ میں ہو اور اسلام کے بنیادی اصول و ضوابط کے خلاف نہ ہو۔ اسی طرح ضرورت کے بقدر ٹیکس لگانے کی بھی اجازت ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ غیر ضروری ٹیکس نہ لگائے۔ صرف
ضروری اور ناگزیر وجوہ کی بنا پر ضروری مقدار میں ٹیکس لگائے۔ نیز خرچ میں بھی اعتدال سے کام لے اور اگر ان باتوں کا خیال نہ رکھا جائے تو حکومت کا ایسا اقدام ظالمانہ کہلائے گا۔ لیکن اس بات کا فیصلہ کہ کون سا ٹیکس ظالمانہ ہے اور کون سا نہیں، نیز کسی خاص فرد یا ادارے سے لیے گئے ٹیکس میں سے کتنے فیصد صحیح اور کتنے فیصد غلط ہے یہ ایک مشکل کام ہے۔ اگر اس کو لوگوں کی اپنی صوابدید پر چھوڑا گیا تو اس دور میں صحیح و غلط کا کوئی معیار ہی نہیں رہے گا۔ لہذا جب تک کسی خاص مقدار کا ظالمانہ ہونا یقینی طور پر معلوم نہ ہو تو ٹیکس ادا کرنا ضروری ہے۔ 2 اسمگلنگ کرنے والے کی کمائی حرام نہیں، مگر قانوناً اس نے ایک جرم کیا ہے جس کا اسے گناہ ہو گا۔
3 کرایہ کشوں کو بھی قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر رشوت، جھوٹ وغیرہ کا ارتکاب بھی کرتے ہیں تو یہ بھی بہت بڑے گناہ ہیں۔ احادیث میں ان پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو ان چیزوں سے بچنے کا اہتمام کر نا چاہیے۔ (حاشیۃ رد المحتار: 293/5) سودے کی واپسی پر قیمت میں کٹوتی کرنا سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں:
اگر کوئی چیز خرید کر گاہک دکاندار کو واپس کرے، اس پر ہمارے مارکیٹ میں رواج ہے کہ کچھ پیسے کٹوتی کرتے ہیں۔ اگرچہ چیز میں کوئی عیب نہیں آیا اور نہ ہی اس کا سیل (پیک) کھلا ہوتا ہے۔ کیا مذکورۃ بالا کٹوتی جائز ہے یا نہیں؟ (محمد آصف، ماڑی پور، کراچی) جواب
ایسی کٹوتی شرعاً جائز نہیں ۔خریدو فروخت کے معاملہ (بیع) کو ختم کرنے کو شریعت میں اقالہ کہتے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ خریدار خریدی ہوئی چیز دوکان دار کو واپس کر دے اور دوکان دار خریدار کی ادا کردہ مکمل رقم واپس کردے۔
حدیث شریف میں اقالہ کے بہت فضائل آئے ہیں ، ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی ایسے شخص کے ساتھ بیع کے اقالہ پر تیار ہو گیا جو اپنے معاملے پر شرمندہ تھا تو اللہ تعالی قیامت کے روز اس کی لغزشوں کو معاف فرما دیں گے۔
اگر کسی وجہ سے خریدار اس معاملے کو باقی نہیں رکھ سکتا اور ختم کرنا چاہتا ہے ،نیز خریدی ہوئی چیز میں کسی قسم کا نقص وغیرہ نہیں آیا اور اسے استعمال بھی نہیں کیا تو دوکان دار کو چاہیے کہ اس معاملے کو ختم کر کے پوری قیمت گاہک کو واپس کرے ۔ کٹوتی جائزنہیں ،بلکہ جتنی قیمت ادا کی گئی تھی وہی پوری واپس کرنا لازم ہے۔ اس پر اسے اللہ تعالی کی طرف سے بہت اجرو ثواب ملے گا۔ )سنن البیہقی (322/2: