سوال

مجھے کسی کاروبار میں مہارت ہے، لیکن روپیہ پیسہ کچھ نہیں ۔ مجھے کسی نے پیسے دیے، خود اس کو کاروبار میں کوئی پہچان نہیں، جبکہ وہ مجھے آدھے یا تہائی منافع میں شریک کرنا چاہتا ہے تویہ کیاہے؟ شراکت، اجرت یا کچھ اور۔ اگر اس کاروبار میں خسارہ ہوجائے تو کیا اس نقصان کی صورت میں بھی شریک ہوں گا؟ باحوالہ تسلی بخش جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ (عطاء اللہ تنویر)

 

جواب

اگر ایک شخص کی جانب سے سرمایہ ہو اور دوسرے کی جانب سے محنت ہو تو ایسے کاروبار کو شریعت کی نظر میں مضاربت کہتے ہیں۔ اس کاروبار میں دونوں فریق نفع میں شریک ہوتے ہیں۔ سرمایہ فراہم کرنے والے کو ربُّ المال (سرمایہ کار)، جبکہ محنت کرنے والے کو مُضارِب اورسرمائے کو مالِ مضاربت کہتے ہیں۔ اس کاروبار کی شرائط مندرجہ ذیل ہیں: 1 نفع کا تعین پہلے سے کرنا ضروری ہے۔ ہر فریق کے نفع کا فیصدی تناسب (Percentage) معلوم ہو۔ کسی ایک فریق کے لیے لگی بندھی رقم، مثلاً: ہر ماہ 10ہزار روپے مقرر کرنا جائز نہیں۔ بلکہ ہر فریق کے لیے حقیقی نفع کا فیصدی حصہ (Percentage) متعین ہونا چاہیے، مثلاً: نصف ونصف، یا ایک فریق کے لیے 40فیصداور دوسرے کے لیے 60فیصد وغیرہ۔ 2 سرمایہ کار جو سرمایہ دے گا وہ کرنسی کی شکل میں ہو۔ 3 سرمایہ دینے کے بعد ربُّ المال کاروبار میں عملی طور پر حصہ نہیں لے سکتا، بلکہ تمام ذمہ داری مضارب ہی کی ہوگی۔ البتہ کاروبار کی حالت جانچنے کے لیے ایک خاص مدت کے بعد حسابات دیکھ سکتا ہے۔ 4 کاروبار میں ہونے والے نفع میں دونوںفریق شامل ہوں گے، جبکہ نقصان کی صورت میں، اگر مضارب کی کوتاہی اور غفلت کی وجہ سے نہ ہوا ہو، بلکہ عام کاروباری نقصان ہو تو سارا نقصان ربُّ المال برداشت کرے گااور مضارب کی محنت ضائع ہوگی۔ 5 اگر کاروبار کے بعض معاملات میں نفع ہوا اور بعض میں نقصان، تو اس صورت میں پہلے نفع سے نقصان پورا کیا جائے گا اورپھر اگر نفع باقی ہو تو وہ مقررہ تناسب(Percentage) سے تقسیم کیا جائے گا اور اگر نقصان پھر بھی باقی رہا تو وہ ربُّ المال کو برداشت کرنا ہوگا۔ (الدر المختار:208/5) نوٹ: مزید سہولت کے لیے اس جواب کے ساتھ سائل کے نام ایک فارم بھی جاری کیا گیا، جس کی مدد سے یہ عقد طے کرسکتے ہیں۔ فارم نیچے دیے گئے SCSکے ایڈریس سے مل سکتا ہے۔

سوال

مقررہ رقم سے بڑھ کر اختیار نہیں کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں وفاق المدارس العربیہ کے تحت علمائے کرام کو بلایا جاتا ہے، جس کا حق الخدمت انہیں 1400روپے ملتا ہے، اس کے علاوہ سنٹر تک پہنچنے اور واپس آنے کا کرایہ بھی دیا جاتا ہے، اس ملنے والے کرایہ کے کے بارے میں قابلِ استفسار امر یہ ہے کہ علما کرائے کی اس مد میں کتنا کرایہ وصول کرسکتے ہیں؟ واضح رہے وفاق کی طرف سے آنے والے دعوت نامے پر مندرجہ ذیل عبارت مرقوم ہوتی ہے: ''ادارہ آپ کو مبلغ1400روپے بطور حق الخدمت ادا کرے گا، جب کہ سفر کی مد میں 700روپے سے زیادہ ادا نہیں کیے جائیں گے۔'' اب آنے والے علمائے کرام کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ پیدل چل کر آئیں، سائیکل پر آئیں، موٹر سائیکل پر آئیں، ٹیکسی پر آئیں یا کسی سے لفٹ مانگ کے آئیں۔ ان میں سے ہر صورت میں آنے والے اخراجات مختلف ہیں۔ حتی کہ پیدل، سائیکل یا لفٹ والی صورت میں تو خرچہ ہے ہی نہیں۔ بہر حال! یہ تو آنے والے کی صوابدید پر ہے کہ وہ کون سا ذریعہ سفر اختیار کرے گا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ آنے والے اخراجات کی مقدار سے قطع نظر کرتے ہوئے وفاق سے پورے700روپے طلب کرنا شرعاً جائز ہے یا(700کے اند اندر) صرف اتنے ہی طلب کرنا ضروری ہے جتنے خرچ ہوئے ؟

جواب

وفاق المدارس نے حقیقی اخراجات برداشت کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے جس کی آخری حد 700 روپے مقرر کی ہے۔ کم سے کم کوئی حد نہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص پیدل چل کر مطلوبہ جگہ پر پہنچا اور کوئی خرچ نہیں کیا تو وہ کسی چیز کا حق دار نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی 50روپے میں یا 100روپے میں پہنچے تو اسی حقیقی خرچ کے بقدر ہی اسے کرایہ ملے گا۔ البتہ اگر خرچ 700 سے بڑھ گیا تو وہ اسے برداشت کرنا ہوگا، ادارہ اس کو برداشت نہیں کرے گا۔ نیز حقیقی اخراجات کے علاوہ اگر کسی شخص سے کسی قسم کا مالی تعاون کیا تو وہ بھی لینا جائز نہیں۔(الدرالمختار: 354/5)