مسائل
مضاربت فاسدہ کی ایک صورت کا حکم
سوال:
15جولائی2000ء کو دو دوست خالد ( فریق اول) اور عمر (فریق دوئم) نے آپس میں کاروباری شراکت داری (پارٹنرشپ) کی بنیاد پر معاملات طے کیے، تا کہ ایک دوسرے کو مالی مشکلات سے نکالا جا سکے۔ فریق اول کا چلتا ہوا کاروبار مالی بحران کی وجہ سے مشکلا

ت کا شکار ہو گیا تھا۔ اس وجہ سے فریق دوم کو شراکت داری کی پیش کش کی گئی جس کا باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں تحریری معاہدہ بھی طے کیا گیا تھا۔ لیکن افسوس کہ فریق اول نے سرمایہ وصول کرنے کے بعد معاہد ے کی عبارت ہی کو تبدیل کر دیا۔ پھر اس پر بغیر پڑھائے دستخط بھی ہو گئے۔دو سال سے زائد عرصہ تک معاہدے کو معلق رکھ کر بالکل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ پھر جب فریق دوم کی طرف سے تبدیل شدہ عبارت پر بار باراحتجاج اور حساب کا تقاضا کیا گیا تو فریق اول نے عبارت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پرچیز یعنی فیکٹری میں آنے والا پیپر جو کہ کلو گرام سے آتا ہے، فی کلو ایک روپیہ فریق دوم کا نفع ہو گا، دیا جائے گا۔ لیکن عملی طور پر جب حساب کیا تو فریق دوم اس کے حصے کے 60فیصد، جبکہ فریق اول نے 40فیصد بغیر کسی طے شدہ معاہدہ کے از خود رکھ لیا۔ چنانچہ گیارہ سالوں تک فریق اول کی زیادتیاں اور بلیک میلنگ سہنے کے بعد بالآخر مورخہ6مئی2011ء کو فریق دوم نے جاری معاملات ختم کر دیے، جس کی تحریری و زبانی اطلاع فریق اول کے بیٹے اور دونوں داماد کو کر کے حالات سے سمجھوتا کر لیا۔ اب جبکہ فریق دوم نے اپنے تمام سرمائے بمع منافع کی بقایا رقم ،معاملے کو اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر چھوڑ کر خاموشی اختیار کر لی ہے تو فریق اول نے تقریبا آٹھ ماہ بعد از خود فریق دوم کے دوستوں کے ذریعے مسئلہ کے حل کے لیے درخواست کی۔یاد رہے کہ طے شدہ معاہدے کے مطابق فریق دوم صرف نفع میں شریک ہے، نقصان میں شریک نہیں ہے۔
مندرجہ بالاحالات کی روشنی میں اور فریق اول نے مسئلہ کا جو حل تجویز کیا ہے، اس سے متعلق شریعت کی روشنی میں چند باتیں معلوم کر کے عمل کرنا مقصد ہے:
1 فریق دوم کا کہنا ہے کہ فریق اول پہلے فریق دوم کا فراہم کردہ سرمایہ واپس کرے، بصورت دیگر جب تک اصل سرمایہ واپس نہیں کیا جاتا، معاملات بھی ختم نہیں ہو سکتے ۔فریق دوم کے اس قول کی شرعاً کیا حقیقت ہے؟
2 6مئی2011ء سے فریق دوم کے علانیہ علیحدگی اختیار کرنے کے بعد فریق مذکورہ، سرمایہ استعمال کرتا رہا اور اب تک بھی استعمال کر رہا ہے۔ فریق اول کے اس رویے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
3 فریق دوم کے معاملات سے علیحدگی کے بعد ہونے والے منافع کی شرعی حیثیت کیا ہے اور مذکورہ نفع کس فریق کو ملے گا؟
4 فریق دوم کا کہنا ہے کہ اول روز ہی سے طے شدہ منافع یعنی ایک روپیہ فی کلو گرام میرا حق ہے، لہذا از سرِ نو حساب کر کے منافع کی رقم متعین کی جائے اور بقایا رقم دی جائے۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ (یاد رہے فریق اول کی طرف سے کیا گیا حساب محفوظ ہے۔)
5 فریق دوم کا کہنا ہے کہ اگر مجھے میرے طے شدہ منافع کی بقایا رقم نہیں ملتی تو موجودہ طریقہ کار کے مطابق ملنے والا منافع بھی نہیں لے گا اور معاملے کو معلق رکھے گا۔ فریق دوم کے اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
6 فریق دوئم کا کہنا ہے کہ چونکہ پچھلے کئی سالوں سے (2003ء یعنی تقریبا8سال سے) میرے پاس فیکٹری کا حساب محفوظ نہیں ہے، لہذا میری تجویز یہ ہے کہ سابقہ سالوں کا حساب سامنے رکھ کر اوسط نکالا جائے اور پھر اسی اوسط کے مطابق بقایا سالوں کا حساب کر لیا جائے فریق اول کی اس تجویز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
7 فریق اول کی مذکورہ تجویز سے متعلق دوم کا کہنا ہے ،(چونکہ کاروبار درجہ بدرجہ ترقی کرتا رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ایک فیکٹری سے دوسری فیکٹری بھی چل رہی ہے) یہ تجویز قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ اس پر عمل کی صورت میں میرا سراسر نفع ہے ،اور نقصان بہر حال نقصان ہے چاہے ایک روپے کا ہو یا لاکھ کا۔
جواب:
فریقین حقیقی حالات سے زیادہ باخبر ہیں۔ لہذا اگر کسی نے دوسرے کو مالی نقصان یا ذہنی اذیت سے دوچار کیا ہے تو اس کی تلافی اسی دنیا میں کر لینی چاہیے۔ باقی ہمارے سامنے جو حالات رکھے گئے ہیں، ان پر قانون اسلام کی روشنی میں حکم درج ذیل ہے۔
ابتدائی دو سالہ معاہدہ اور اس کا حکم:
فریق اول اور فریق دوم کے درمیان جو معاہدہ شرکت طے ہوا تھا، وہ زبانی تھا، جبکہ فریق اول کی طرف سے پیش کیا گیا تحریری معاہدہ مضاربہ پر فریقین سمیت گواہوں کے دستخط بھی اس پر موجود ہیں۔ نیز فریق دوم نے اسی معاہدہ مضاربہ پر اسی دن دستخط کیے اور بعد میں اسی پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اسے قبول بھی کیا۔ اس لیے فریق اول اور فریق دوم کے مابین پایا جانے والا معاہدہ مضاربہ ہی قانونا اصل معاہدہ شمار ہو گا۔ لہذا پہلے دو سال کا حقیقی نفع اس کی نسبت سے آدھا آدھا تقسیم کیا جائے گا۔
تیسرے سال سے آخر تک کے معاہدات اور ان کا حکم:
پھر دو سال کے اختتام پر جو نیا معاہدہ ہوا کہ کاغذ کی خریداری (Paper Purchase)پر فی کلو گرام ایک روپے کے حساب سے نفع شمار کیا جائے گا اور اس نفع کا 60فیصد فریق دوم اور40 فیصد فریق اول کو دیا جائے گا۔ (اگلے سالوں میں یہ تناسب بدلتارہا۔)نفع کی اس طرح تعیین کرنا درست نہیں تھا، لہذا مضاربت کا یہ معاملہ فاسد (Void)ہو گیا تھا۔ اورتیسرے سال سے لے کر آخر تک یہ معاملہ مضاربت ِفاسد ہ کا رہا۔ جس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس عرصے کا تمام حقیقی نفع (جو اس کاروبار میں ہوتا رہا)فریق دوم کو ملے گا اور فریق اول کو کاروبار چلانے کی اجرت مثل ملے گی (یعنی مارکیٹ میں عام طور پر اس قابلیت کے لوگوں کو اس طرح کے کام پر جتنی اجرت دی جاتی ہے۔)لیکن اسے اجرتِ مثل اور اس متعلقہ سال میں متعین نفع میں سے جو کم ہو گا، وہ دیا جائے گا، مثلاً: اگر کسی سال فریق اول کا متعین نفع دو لاکھ روپے بنتا ہے اور اجرتِ مثل تین لاکھ روپے تو اسے دو لاکھ ہی ملیں گے۔ باقی کاروبار میں حقیقی نفع کی تعیین فریق اول کے ذمے ہے جو پورا کاروبار چلاتا رہا۔ تاہم اگر حساب مکمل طور پر موجود نہ ہوتو محتاط اور کاروباری اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا نفع طے کیا جا سکتا ہے کہ جس پر فریقین راضی ہوں۔