اس بات کی وضاحت مطلوب ہے کہ آج کل ایک شخص دوسرے سے کوئی معاملہ کرتا ہے، مثلاً: اس سے کوئی چیز خرید لیتا ہے اور اس کو چیک دے دے دیتا ہے۔ بعض اوقات بینک وہ چیک واپس کر دیتا ہے جس کی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے، مثلاً: جاری کرنے والے کے اکاؤنٹ میں رقم نہیں تھی یا اس سے پہلے کا چیک استعمال ہو گیا یا دستخط میں غلطی تھی، اور ساتھ چیک جاری کنندہ کے اکاؤنٹ سے 232روپے کاٹ لیتا ہے۔ پھر یہ شخص جس کو چیک جاری کیا گیا تھا اس چیک جاری کنندہ کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ آپ نے جو چیک مثلاً 10,000 روپے کا جاری کیا تھا، وہ کیش ہوئے بغیر واپس ہو گیا ہے۔

اس لیے اب 10,200روپے مجھے نقد دے دو۔ 10,000 روپے میرا قرض اور200روپے جرمانہ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس شخص کے لیے200 روپے زائد جرمانہ مانگنا جائز ہے؟ یا یہ 200روپے سود کے زمرے میں آتے ہیں؟
(سید محمد احمد)
آپ کے سوال میں ذکر دہ جرمانہ لینا جائز نہیں ہے، بلکہ باطل طریقہ سے مال کھانے کا ایک طریقہ ہے۔ واضح رہے کہ حرام مال صرف سود ہی میں منحصر نہیں ہے، بلکہ اس کی کئی قسمیں ہیں مثلاً جوا، سود، چوری ڈاکہ، ناپ تول میں کمی اور بغیر رضامندی کے کسی کا مال لینا وغیرہ۔ اس لیے اگرچہ اس جرمانہ کا نام سود تو نہیں ہے لیکن یہ بھی سود کی طرح حرام مال ہے۔ اگر چیک جاری کرنے والا جان بوجھ کر اس طرح واپس ہونے والا چیک جاری کرتا ہے، مثلاً: اس کو معلوم ہے کہ اس کے اکاؤنٹ میں رقم نہیں ہے، پھر بھی وہ قرض خواہ کو مطمئن کرنے کے لیے فوری کیش ہونے والا چیک جاری کرتا ہے تو یہ بھی شریعت کی تعلیمات کے منافی ہے۔ اس میں جھوٹ، دھوکہ اور تکلیف دہی کے ممنوع عناصر موجود ہیں۔ اس سے بچنا ضروری ہے۔ (روح المعانی، رد المحتار)
میٹر غلط سیٹ کرکے پیٹرول فروخت کرنا
پیٹرول پمپ میں آنے والی گاڑیوں میں جب پیٹرول بھرا جاتا ہے تو عام طور پر پیٹرول کی پیمنٹ روپوں اور کچھ پیسوں میں ہوتی ہے، مثلاً: 520روپے 35پیسے، 810روپے 74پیسے وغیرہ۔ لیکن عام طور پر پیمنٹ پورے روپوں میں وصول کی جاتی ہے، 520روپے 35پیسے کے بجائے 521روپے اور 810روپے 76پیسے کے بجائے 811روپے کاٹے جاتے ہیں، جبکہ گاڑی والے حضرات بھی اس کو نظر انداز کرتے ہیں۔ جب پیٹرول پمپ منیجر آخر میں حساب کرتا ہے تو وہ تھوڑے پیسے ہزاروں روپوں میں پہنچ جاتے ہیں، بعد میں اس رقم میں سے کچھ اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور باقی اپنے مزدوروں میں تقسیم کر لیتا ہے۔
اسی طرح پیٹرول پمپ کے مالک نے پیٹرول ماپنے کی مشین کی سیٹنگ اس طرح کی ہوتی ہے کہ اصل پیٹرول 99لیٹر ڈالا جاتا ہے، لیکن مشین اس کو100 لیٹر Showکرتی ہے۔ گویا کہ جب 100لیٹر پیٹرول سیل ہوتا ہے تو اس کو ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت ویسے بچ جاتی ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات مطلوب ہیں:
1 پیٹرول کی پیمنٹ کی ادائیگی کے وقت جو زائد پیسے وصول کیے جاتے ہیں جو کہ جمع ہوتے ہوتے سیکڑوں یا ہزاروں روپوں تک پہنچ جاتے ہیں، کیا یہ رقم لینا جائز ہے یا یہ سود میں داخل ہے؟
2 کیا پیٹرول پمپ کے مالک کا اس طرح 100لیٹر کو 99شو کرانا درست ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی رقم کا کیا حکم ہے؟
3 کیا پیٹرول پمپ میں نوکری کرنا نا جائز ہے اور اگر جائز ہے تو کن شرائط کے ساتھ؟ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں ان سوالوں کے جوابات دے کر عندا للہ ماجور ہوں۔(انور زیب) 1 پیٹرول پمپ پر لین دین کا جو طریقہ آپ نے لکھا ہے، آج کل بہ کثرت رائج ہے۔ کبھی خریدار کے اور کبھی پمپ مالکان کے کچھ پیسے ایک دوسرے کی طرف رہ جاتے ہیں۔ چونکہ اس طرح سے پیسوں کی کٹوتی پر فریقین راضی ہوتے ہیں اور بہ خوشی ایک دوسرے کو یہ رقم چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لیے یہ رقم حلال ہے، سود نہیں۔ اگر رضامندی نہ ہو تو بقایا رقم مطالبہ کر کے واپس لے سکتے ہیں۔ پمپ منیجر کا اس زائد رقم میں سے کچھ خود رکھ لینا اور باقی مزدوروں میں تقسیم کر دینے کی بھی گنجائش ہے، کیونکہ بسا اوقات لوگ نظر انداز کی ہوئی رقم ان ملازمین کے لیے ہی چھوڑتے ہیں۔
2 پیٹرول ماپنے کی مشین کی اس طرح سے سیٹنگ کرنا کہ اس سے حقیقتاً 99لیٹر پیڑول نکلے اور میٹر 100لیٹر ظاہر کرے، یہ صریح دھوکا ہے اور دھوکا شرعا ًنا جائز اور حرام ہے۔ اس سے حاصل ہونے والی زائد رقم پیڑول پمپ والے کے لیے حلال نہیں ہے۔ یہ رقم واپس کرنا ضروری ہے، اگر کسٹمر کے ملنے کی امید نہ ہو تو اس کی طرف سے کسی فقیر کو صدقہ کر دینا واجب ہے۔
3 پیٹرول پمپ کا کاروبار چونکہ حلال اور جائز ہے، اس لیے پیٹرول پمپ پر نوکری کرنا جائز ہے۔ اس کی شرائط یہ ہیں:
1 آپ کے ذمے جو کام ہے دیانت داری سے کریں۔
2 اگر کوئی غیر شرعی بات دوسروں سے متعلق سامنے آئے تو نرمی سے مناسب موقع پر متوجہ کریں کہ یہ کام شرعا نا جائز ہے۔ اس کے باجود بھی وہ باز نہ آئیں تو آپ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
3 مکمل تحقیق سے پہلے ایسی باتوں کا افشاء نہ کریں۔(النسائ، آیت: 29، المطففین، آیت:1-3)