مسائل
فلاحی ادارہ مختلف قسم کے فنڈز کو کیسے محفوظ اور خرچ کرے؟
ہماری میمن جماعت گزشتہ کئی سالوں سے فلاحی کام کر رہی ہے۔ ہم فلاحی کام کو انجام دینے کے لیے اپنی برادری کے مخیّر حضرات سے جو فنڈ وصول کرتے ہیں ان میں جنرل فنڈاور غربہ فنڈ (قربانی کی کھالیں) اور زکوۃ فنڈ کی وصولی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت کی آمدنی کا ذریعہ ایک شادی ہال، دو اسکولز اور ایک دکان ہے جس کا کرایہ ہر مہینے ہم وصول کر کے جنرل فنڈ میں جمع کروا دیتے ہیں۔اس تفصیل کی روشنی میں درج ذیل کا جواب

مطلوب ہے:
1 جنرل فنڈ کو بینک اسلامی میں جمع کروا کر اس کا منافع یا نقصان ہم حاصل کر سکتے ہیں؟
2 غربہ فنڈ کو بینک اسلامی میں جمع کروا کر اس کا منافع یا نقصان ہم حاصل کر سکتے ہیں؟
3 زکوۃ فنڈ کو بینک اسلامی میں جمع کروا کر اس کا منافع یا نقصان ہم حاصل کر سکتے ہیں؟
یہ فنڈرمضان المبارک میں جمع کرتے ہیں جو پورے سال کے لیے جمع ہو جاتا ہے اور ہم ہر ماہ ضرورت کے مطابق اس کو خرچ بھی کرتے ہیں۔ پھرسال پورا ہونے پر اس فنڈ کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ آیا اس رقم کو ہم بینک اسلامی میں جمع کر کے ہر ماہ ضرورت کے مطابق نکال کر استعمال کریںاور اگر اس میں کوئی منافع یا نقصان ملے تو یہ شریعت کے مطابق درست ہے؟
4 اگر بینک (اسلامی) میں رکھنا درست نہیں ہے تو کیا شیئر زمارکیٹ سے شیئر خریدے جا سکتے ہیں؟
5 کیا غربہ فنڈ (قربانی کی کھالیں) کو Reserveرکھ سکتے ہیں یا نہیں؟
6 کیا جنرل فنڈپر اگر ایک سال گذر جائے تو کیا اس رقم (Donation)پر زکوۃ آئے گی؟ (عبد الرشید نورانی)
جواب
1 آپ کا ادارہ جنرل فنڈ کو کسی بھی ایسے غیر سودی بینک میں نفع و نقصان کی بنیاد پر جمع کروا سکتا ہے جس کی نگرانی مستند مفتیان کرام کر رہے ہیں۔ حاصل ہونے والا نفع جنرل فنڈ کا ہو گا۔
2 اگر قربانی کی کھالیں آپ کے ادارہ کو عطیہ کی گئیں ہیں تب تو ادارہ اسے غیر سودی بینک میں نفع و نقصان کی بنیاد پر رکھ سکتا ہے۔ حاصل ہونے والا نفع و نقصان فنڈ کا ہو گا۔ اس صورت میں یہ رقم زکوۃ کی رقم کی طرح مستحقین کو ملکیتاً نہیں دینا ضروری ہے، بلکہ ادارہ اس فنڈ کو محفوظ (Reserve) بھی رکھ سکتا ہے اور اپنی صوابدید پر فلاحی کاموں میں خرچ بھی کر سکتا ہے۔ البتہ اگر کھالیں ادارہ کو عطیہ نہیں کی گئیں، بلکہ کھال دینے والوں نے ادارہ کو وکیل بنایا کہ وہ ان کی طرف سے ان کھالوں کو فقرا و مساکین پر صرف کرے، اس صورت میں ان کھالوں کو فروخت کرنے کے بعد جو رقم حاصل ہو گی، وہ ایسا فنڈ ہو گا جو مستحقین کو ان کی ملکیت میں دینا ضروری ہے۔ اس میں بلا وجہ تاخیر کر کے اپنے پاس روکنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ یہ رقم اس صورت میں صدقہ واجبہ ہے، جو زکوۃ کی رقم کی طرح مستحقین کو ملکیتاً دینا ضروری ہے۔ البتہ اگر مستحقین تک رسائی میں اور ان کو ڈھونڈنے میںوقت لگ رہا ہو تو اس صورت میں ادارہ اسے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھوا سکتا ہے، لیکن نفع و نقصان کی بنیاد پر اس رقم کو رسک میں ڈالنا اور اسے آمدنی کا ذریعہ بنانا درست نہیں ہے۔
3 جن لوگوں نے زکوۃ آپ کے ادارہ کے توسط سے مستحقین تک پہنچانے کے لیے دی ہے، ان کی زکوۃ اس وقت تک ادا نہیں ہو گی جب تک ادارہ زکوۃ کی رقم مستحقین کو ملکیتاً نہ دے دے۔ اس لیے زکوۃ کی رقم کو بلا عذر سال بھر اپنے پاس رکھنے کا مطلب یہ ہو گا کہ زکوۃ ادا کرنے والوں کی زکوۃ سال بھر تک ادا نہیں ہوئی۔ اس لیے اس رقم کو مستحقین تک پہنچا دینا چاہیے، البتہ اگر مستحقین تک رسائی میں اور ان کو ڈھونڈنے میں وقت لگ رہا ہو تو اس وقت تک ادارہ اسے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھوا سکتا ہے، لیکن اسے نفع و نقصان کی بنیاد پر رسک میں ڈالنا اور اسے آمدنی کا ذریعہ بنانا درست نہیں ہے۔
4 مذکورہ بالا جوابات میں ذکر کردیا گیاکہ: درج ذیل صورتوں میں فنڈ کو کسی بھی طرح آمدنی کا ذریعہ بنانا درست نہیں ہے، نہ بینک کے ذریعے اور نہ شیئرز کے ذریعے۔
٭قربانی کے کھالوں کے فنڈ کی وہ صورت جس میں کھال دینے والوں نے ادارہ کو صرف وکیل بنایا ہے، یعنی کھالیں اسے عطیہ نہیں کی ہیں۔
٭زکوۃ فنڈ
جبکہ مندرجہ ذیل بالا صورتوں میں فنڈ کو ایسے غیر سودی بینک میں نفع و نقصان کی بنیاد پر رکھوایا جا سکتا ہے جس کی نگرانی مستند مفتیان کرام کر رہے ہیں۔
1 جنرل فنڈ
2 قربانی کے کھالوں کے فنڈ کی وہ صورت جس میں کھالیں ادارہ کو عطیہ کی گئیں ہیں۔
5 اس کا جواب، نمبر 2 میں آ چکا ہے۔
6 جنرل فنڈ پر زکوۃ نہیں آئے گی، کیونکہ زکوۃ کسی فرد کی ملکیت میں موجود نصاب کے بقدر یا اس سے زائد مال پر آتی ہے جب اس پر سال گزر جائے۔ جبکہ جنرل فنڈ ابھی بھی کسی فرد کی ملکیت میں نہیں ہے، بلکہ یہ رقم ادارہ کے پاس امانت ہے، کیونکہ آپ کا ادارہ بطور منتظم کے اس رقم کا انتظام و انصرام کرتا ہے جو کہ بعد میں مستحقین کی ملکیت میں جائے گی۔(رد المحتار: ج /18ص37،حاشیہ رد المحتار:ج/6ص209)