سوال:
میں نے اپنے بڑے بھائی کو چار ماہ کے لیے دس تولہ سونا، 26-01-2011 کو بطور قرض دیا تھا کہ آپ اس سے کاروبار کر لیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ چار ماہ کے بعد میں اپنے بھائی سے سونا ہی وصول کروں جو کہ میں نے قرض دیا تھا کہ کوئی اور چیز؟ واضح رہے کہ سونا اس لیے قرض دیا تھا کہ بھائی سونے کا کام کرے گا مگر وہ اس سے چاندی کا کاروبار کر رہے ہیں۔

جواب:
آپ نے جو دس تولہ سونا بھائی کو دیا کہ اس سے سونے ہی کام کریں اور چار ماہ بعد مجھے یہ دس تولہ واپس کر دیں، بھائی اس دس تولہ سونا سے کوئی بھی کام کر سکتا ہے، صرف سونے کا ہی کام کرنا ضروری نہیں، البتہ ان پر آپ کا قرض دس تولہ سونا ہی واپس کرنا لازم ہو گا، اگر آپ اس کی قیمت لینا چاہیں تو اسی دن (یعنی جس دن آپ نے اسے سونا قرض دیا تھا) کی بازاری قیمت کے مطابق لے سکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم۔
پی ٹی سی اور ہوسٹنگ سائٹس کے ساتھ معاملہ کرنا
1 پی ٹی سی سائٹس اور ہوسٹنگ سائٹس اپنے یورزرز کو جو پے منٹ کرتی ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟ پی ٹی سی سائٹس پر ہم اکاؤنٹ بناتے ہیں مفت یا رقم کے عوض (دونوں صورتیں ہوتی ہیں) اور پھر اشتہارات پر کلک کرتے ہیں تو یہ سائٹس اس پر پیسے دیتی ہیں۔ کیا یہ پیسے حلال ہیں؟ فری اور پیڈ دونوں صورتوں میں یا کسی ایک صورت میں؟
2 کچھ ہوسٹنگ سائٹس ہمیں اپنا ڈیٹا رکھنے کی سہولت دیتی ہیں اور جب کوئی شخص ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرے تو اس پر ڈیٹا رکھنے والے کو پیسے دیتی ہیں۔ ان کی رقم جائز ہے؟؟ اس میں سائٹس کا اپنا بھی فائدہ ہوتا ہے جو وہ ہمارے ذریعے حاصل کرتی ہیں۔ جواب
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ صورت جائز ہے۔ پہلی صورت کا تفصیلی جواب درج ذیل ہے: PTC سائٹس سے کسی بھی قسم کا معاملہ جائز نہیں، یہ ایک نا جائز اور باطل عقد ہے۔ جس صورت میں صارف سائٹ کو ممبر وغیرہ کے لیے رقم ادا کرتا ہے اس صورت میں اس میں جوئے اور سود جیسی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں گناہ کے کام کے ساتھ تعاون بھی پایا جاتا ہے، لہذا ان سائٹس کو استعمال کرنا اور اس سے پیسے کمانا حرام ہے، اس سے حاصل شدہ نفع بھی حرام ہو گا۔ اسی طرح اکاؤنٹ کو Recyele کرنا یا Upgrade کرنا بھی نا جائز ہے۔ فقہی تخریج:
1 عقد اجارہ Employment Contract کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ جس کام کے لیے عقد کیا جا رہا ہے وہ ایسا ہو جو سلیم الطبع عقلا کی نظر میں قابل اجرت ہو اور لوگوں پر اس قسم کے عمل پر اجرت لینے دینے کا رواج بھی ہو۔ محض کلک کرنا یا اشتہار دیکھنا اس قسم کی منفعت نہیں، لہذا شرط اجارہ پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ اجارہ فاسدہ ہے۔ ایسا عقد کرنا جائز نہیں۔
2 جب یہ کام ہی نا جائز ہے تو اس کے لیے آگے دلالی کرنا یعنی ریفرل بنانا بطریق اولی نا جائز ہو گا، نہ ہی اس کا کمیشن لینا جائز ہو گا۔
جن صورتوں میں صارف ممبر شپ خریدنے کے لیے کمپنی کو رقم ادا کرتا ہے اور اس کے بدلے اس کی کمیشن، Limit، ممبر شپ پیکج وغیرہ میں اضافہ ہوتا ہے یا کوئی ڈسکاؤنٹ ملتا ہے، اس طرح کی تمام صورتیں قمار (جوا) غرر اور سود کا مجموعہ ہیں اور حرام کمائی کے زمرے میں آتی ہیں۔
قمارایسے کہ صارف نے مثلاً 85 ڈالر ایک سال کے لیے ادا کیے اور گولڈن ممبر شپ خرید لی، اس کے بدلے ایسے مواقع ملتے ہیں جن سے یہ مذکورہ نا جائز طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے 85 ڈالر سے بہت زیادہ رقم کما سکتا ہے، لیکن رقم کمانے کے طریقے ایسے ہیں جن پر براہ راست اس کا کوئی اختیار نہیں، بلکہ اس کا مدار صارف کے ریفرلز پر ہے، اگر انہوں نے زیادہ کلک کیے تو اسے زیادہ رقم مل جائی گی، ورنہ یہ 85 ڈالر بھی پورے نہیں ہوں گے۔ جس صورت میں انسان کا مال اس طرح داؤ پر لگا ہو وہ شریعت میں ’’قمار‘‘ کے زمرے میں آتی ہے۔ قمار اور معنی قمار سب نا جائز ہیں۔
سوداس طرح کہ 85 ڈالر سے زیادہ کما لیتا ہے تو وہ زیادتی کسی بدل متقوم کے عوض میں نہیں، جو کہ ربا ہے اور کم کماتا ہے تو کمپنی کو ربا حاصل ہو رہا ہے۔
غرر (Uncertainty)بھی اس طرح کہ جن امور پر عقد کا دارومدار ہے وہ اس کے ہاتھ میں نہیں ہیں، ایک غیر یقینی صورت حال ہے۔
جو اشتہارات دیکھنے کے لیے یہ سارا معاملہ کیا جاتا ہے وہ اشتہارات بھی کسی واقعی شے کی فروخت یا حقیقی معاشی سرگرمی کے لیے نہیں ہیں، بلکہ حال یہ ہے کہ کچھ اشتہارات تو خالصتاً جوے Casino وغیرہ کے ہیں، کچھ ایسے ہی دیگر عبث کاموں کے اور کچھ دیگر PTC سائٹس کے ہیں، جن میں سے اکثر فراڈ ہیں۔ یہ سب گناہ کے کاموں میں تعاون کرنے میں داخل ہیں یا کم از کم معصیت کا سبب قریب ہیں (ایسے کچھ اشتہارات سوال کے ساتھ بھی منسلک ہیں)۔
یہ وہ بنیادی علتیں ہیں جو معاملے کو نا جائز قرار دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں اور بہت مفاسد اور خرابیاں بھی ہیں، جن میں سے ہر ایک ایسی ہے جس کی بنا پر عاقل مسلمان کو ایسی مصنوعی اسکیموں سے بچنا چاہیے، جو مصنوعی طور پر غبارے کی طرح پھولی ہوئی ہیں لیکن در حقیقت ان میں معیشت اور اخلاق کی تباہی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ چند خرابیوں کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے:
اس بنیاد اور مقصد کو دیکھتے ہوئے PTC سائٹس اور اس طرح کے کاروبار اسلامی نظام کی مقرر شدہ حدود سے باہر ہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہیں کہ اس قسم کی پیشکشوں سے احتراز کریں، اپنے وقت اور صلاحتیوں کو جائز نفع بخش کاموں میں خرچ کریں۔(رد المختار7/9، المجلہ بشرح سلیم رستم باز:254/1)