سوال1:
PSO سے تیل کی خریداری بذریعہ انٹرنیٹ کرنا اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہی ادائیگی کرنا؟

 جواب:

جائز ہے۔


سوال2:
اگر کوئی گاہک زیادہ مقدار میں تیل منگوائے PSO سے تیل منگوا کر گاہک کی جگہ پر بھیج دیتے ہیں اور وہیں تیل اتروا دیتے ہیں۔ اس کام میں ہم PSO سے اپنا طے شدہ کمیشن وصول کرتے ہیں۔

جواب:
یہ صورت درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس میں پمپ والوں کی طرف سے تیل پر قبضہ نہیں ہو پاتا۔ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ جب تیل گاہک کی جگہ پر آ جائے تو پمپ والوں کا کوئی اپنا نمائندہ اسے وصول کرے اور پھر وہ تیل گاہک کے حوالے کر دے۔

سوال3:
تیل کی کوالٹی یا کوائنٹٹی میں اگر کبھی نقص یا کمی واقع ہو تو ضابطہ یہی ہے کہ تیل PSO کو واپس کیا جائے گا۔ لیکن کبھی ایسا ہوا نہیں ہے۔ ہمیشہ ہر چیز پوری ہوتی ہے۔ ٹرک سیل لگی ہوتی ہے اگر وہ سیل بھی ٹوٹی ہوئی ہو تو بھی تیل واپس کر دیا جاتا ہے۔

جواب:
خیارِ عیب کی جائز صورتیں ہیں اور تمام شرائط عقد کے مناسب ہیں۔

سوال4:
تیل پمپ پر پہنچنے سے پہلے PSO کی ذمہ داری میں ہوتا ہے اور پمپ پہنچنے کے بعد ہماری ذمہ داری میں آ جاتا ہے۔

جواب:
درست ہے۔

سوال5:
تیل، پٹرول پمپ، یا کیش کسی کا بھی انشورنس نہیں کروایا ہے۔

جواب:
انشورنس کرانا شرعا ضروری نہیں۔

سوال6:
سودی بینکوں میں صرف کرنٹ اکاؤنٹ ہیں۔ اس لیے کہ اسلامی بینک اس علاقے میں نہیں ہیں۔

جواب:
اس صورت میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے۔

سوال7:
اگر ڈاکہ وغیرہ پڑ جائے پمپ پر یا بینک آتے جاتے ہوئے، تو نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے۔

جواب:
درست ہے۔

سوال8:
تیل پر بونس وغیرہ بھی ملتے ہیں۔ مثلا PSO کہے کہ اس ماہ اگر 10 ہزار لیٹر تیل خریدا تو فی لیٹر اتنا بونس ملے گا، یا کبھی سال کے مخصوص حصوں میں بونس ملتا ہے۔

جواب:
جائز ہے۔ اس لیے کہ یہ کمپنی کی طرف سے انعام ہے۔

سوال9:
پٹرول اڑ جاتا ہے، تا ہم پھر بھی اس کی پوری مقدار جاتی ہے۔ کمپنی کی طرف سے یہ اجازت ہوتی ہے کہ 0.10% کے حساب سے کم ڈال سکتے ہیں، لیکن ہم مقدار بھی کم نہیں کرتے، بلکہ پوری مقدار ڈالتے ہیں۔

جواب:
آپ ٹھیک کرتے ہیں۔

سوال10:
کیشیئر اور دوسرے تیل ڈالنے والے ملازمین پر تمام اشیاء اپنی چیزوں کی طرح کرنا لازم ہے۔ اگر ان کی غفلت، خیانت یا کوتاہی کی وجہ سے کوئی نقصان ہوتا ہے تو اس نقصان کو پورا کرنا انہی کی ذمہ داری ہے۔ یہ تمام لوگ پمپ مالکان کے اجیر ہیں، ان کے ہاتھ میں یہ اشیاء بطور امانت ہوتی ہیں، لہذا اگر نقصان کی صورت میں ان کی طرف سے کوئی کوتاہی یا غفلت وغیرہ نہیں پائی جاتی اور وہ شرعی دلائل سے اسے ثابت بھی کر دیں تو مالکان شرعا ان سے ضمان لینے کے مجاز نہیں۔

سوال11:
جس دن تیل پمپ پر پہنچ جاتا ہے، اس کے دو دن کے اندر اندر رقم کی ادائیگی کرنا لازم ہوتی ہے۔ بصورت دیگر 0.1% کے حساب سے PSO جرمانہ لگاتا ہے۔ PSO کی انتظامیہ معاف بھی کر دیتی ہے۔

جواب:
ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے قیمت میں اضافہ جائز نہیں۔ آپ مجبوری میں ادا کریں گے تو امید ہے گناہ نہ ہو گا۔

سوال12:
پمپ عقد شرکت کے تحت کام کر رہا ہے، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے: ٭تمام شرکاء نفع و نقصان میں اپنے سرمائے کی حد تک شریک ہوں گے۔ یعنی ان کے سرمایہ کا جو تناسب (Percintage) کاروبار کے کل سرمایہ کے حساب سے بنتا ہے، اسی تناسب سے وہ کاروبار کے نفع و نقصان میں شریک ہوں گے۔

٭ایک کے علاوہ تمام شرکاء غیر فعال (Silent Partner) ہوں گے اور جو ایک فعال شریک ہو گا، اس کی اجرت نفع کے ایک فیصد کی صورت میں ادا کی جائے گی۔ یہ بات بھی کاروبار کے عقد کے اندر ہی باہمی رضا مندی سے طے پائی تھی۔

جواب:
مذکورہ صورتیں جائز ہیں۔
(جاری ہے)