سوال:
تکافل اور انشورنس میں کیا فرق ہے؟ (محمد یاسر حبیب)
جواب:
ایک معاشرے کے افراد عام طور پر ایک دوسرے سے دو قسم کے معاملات کرتے ہیں۔ کاروباری معاملات جس میں خوب دیکھ بھال کر اور بھاؤ تاؤ کر کے لین دین کیا جاتا ہے۔ ایک دعوت و اکرام کے معاملات جن میں معاوضہ مقصود نہیں ہوتا، بلکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر زیادہ پیسہ خرچ کرنے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔

دونوں قسم کے معاملات کے احکام الگ الگ ہیں۔ انشورنس پہلی قسم اور تکافل دوسری قسم سے ہے۔

انشورنس دیگر کاروباروں کی طرح ایک کاروبار ہے جس میں کمپنی لوگوں یا اشیاء کو ممکنہ خطرات کی شرح انداز لگا کر آفر کرتی ہے کہ جو مجھے اتنا پریمئم جمع کرائے گا تو طے شدہ شرائط کے ساتھ اتنے روپے تک کے نقصان کا ازالہ کروں گی۔ پالیسی لینے والے کو یا تو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایک خاص قسم کے خطرے کے مالی نقصان سے مطمئن ہو جاتا ہے یا بعض صورتوں میں اسے ایک مدت گزرنے پر رقم بمع سود حاصل ہو جاتی ہے۔ چونکہ یہ ایک کاروباری معاملہ ہے جس میں معاوضہ مقصود ہوتا ہے لہذا شریعت نے اس میں غرر (غیر یقینی صورتحال یا جہالت)، قمار (جوئے کی صورتیں) اور سود (اضافی یا کم ادائیگی) پائے جانے کی وجہ سے اسے ناجائز قرار دیا ہے، خواہ کمپنی والے اس کے کتنے ہی بلند مقاصد بیان کرتے ہوں۔

اس کے مقابلے میں تکافل ایک وقف فنڈ کا نام ہے۔ جس سے مخصوص شرائط کے ساتھ وقف فنڈ کے شرکاء ایک دوسرے پیش آنے والے خطرات کا ازالہ غیر کاروباری بنیادوں پر کرتے ہیں۔ تکافل کمپنی فنڈ کی بچت کی مالک نہیں ہوتی۔ ہاں! ایک منیجر کی حیثیت سے اس فنڈ کو کاروبار میں لگاتی ہے اور شریک ہونے کی بنیاد پر اپنے حصے کا نفع وصول کرتی ہے۔ اس کی غیر کاروباری حیثیت کی وجہ سے اس میں جہالت اور زیادہ ادائیگی، سود کے حکم میں نہیں۔ مزید مطالعے کے لیے ڈاکٹر مفتی عصمت اللہ صاحب کی کتاب ’’تکافل کی شرعی حیثیت‘‘ پڑھیے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کا حکم

سوال:
1 علمائے کرام ایسے بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ کے استعمال کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو سودکی بنیاد پر اور شریعت کے قانون کے مخالف کام کرتا ہے؟

تفصیل یہ ہے کہ پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کھولنا جائز ہے، اگرچہ غیر اسلامی بینک ہی میں کیوں نہ ہو۔ لیکن ایک شخص کہتا ہے کہ ہم اپنے پیسے جن غیر اسلامی بینکوں میں جمع کرواتے ہیں وہ سود کی بنیاد پر کام کرتے ہیں اور یہ ایک قسم کی ان کے ساتھ امداد اور تعاون ہے، کیونکہ یہ بینک ان پیسوں کو کرنٹ اور سیونگ اکاؤنٹ میں علیحدہ سے نہیں رکھتے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام پیسے سود کے کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔ لہذا اس کا تفصیلی جواب عنایت فرما دیں۔

2 اگر کرنٹ اکاؤنٹ میں پیسے رکھوانا جائز نہیں ہیں تو برائے مہربانی میری اس معاملے میں رہنمائی کیجیے۔ مثلا: احمد، اسلم کو بینک کے ذریعے پیسے بھیجنا چاہتا ہے۔ احمد کا اکاؤنٹ غیر اسلامی بینک میں ہے جبکہ اسلم کا اکاؤنٹ اسلامی بینک میں ہے۔ کیا اسلم کو اس بات کی شرعا اجازت ہے کہ

A: وہ غیر اسلامی بینک سے نقد یا اے ٹی ایم مشین کے ذریعے پیسے وصول کر لے؟
B:یا اسلامی بینک سے پیسے وصول کر لے؟
3 کیا ہم اسلامی بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں، جیسے: (میزان بینک پاکستان) جو کہ جسٹس (ر)مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی نگرانی میںکام کر رہا ہے؟
4 غیر اسلامی بینک سے اجارہ پر گاڑی خریدنا کیسا ہے؟
5 ایسی گاڑی میں سفر کرنا کیسا ہے جو سود یا حرام آمدنی سے خریدی گئی ہو؟
سوال نمبر5 کا جواب سوال نمبر4 کی ذکر کردہ صورت کے مطابق بھی دے دیں۔(معوذ چیمہ)

جواب:
1 فی زمانہ متعدد خدمات میں کر دار کی وجہ سے ایک عام آدمی کے لیے بھی بینک کا استعمال ضرورت بن چکا ہے۔ کاروباری لین دین میں بھی جانبین باہمی اعتماد بینکوں پر کرتے ہیں، رقم کی حفاظت کا بھی موجودہ حالات میں یہ سب سے زیادہ قابل عمل ذریعہ ہے۔ نیز ہر جگہ غیر سودی بینک بسہولت میسر نہیں آتے۔ اس صورت حال کے پیش نظر اگر بینک اکاؤنٹ کی ضرورت ہو تو پہلی ترجیح کے طور پر مفتیان کرام کی نگرانی میں کام کرنے والے غیر سودی بینکوں میں کھلوایا جائے۔ اور اگر کسی جگہ غیر سودی بینک نہ ہوں تو پھر کنونشنل بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی بھی علمائے عصر نے گنجائش دی ہے۔ رہی یہ بات کہ اس سے سودی بینکوں کے معاملات میں معاون بننا لازم آتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تعاون کی یہ صورت حرام نہیں،ہاں بلا ضرورت استعمال کرنے میں کراہت ہو گی۔

2 مروجہ بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹ بہ ضرورت کھلوانے کی گنجائش ہے۔
:Aجائز ہے۔
B :جائز ہے۔
3 جی ہاں! کھول سکتے ہیں۔

4 سودی بینکوں سے گاڑی لیز (Lease) پر لینا جائز نہیں۔ البتہ میزان بینک اور دوسرے غیر سودی بینک جو مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں، ان سے گاڑی لینے کی اجازت ہے۔

5 اگر یقینا معلوم ہو کہ گاڑی سود یا دوسری کسی حرام رقم سے خریدی گئی ہے۔ تو ایسی گاڑی کا استعمال نا جائز ہے، آپ کے لیے بھی اور مالک کے لیے بھی۔ کنونشنل بینک کے ذریعہ لیزنگ پر لی گئی گاڑی میں سودی عقد کا گناہ تو ہو گا لیکن اس کے ذریعے لی گئی گاڑی کا استعمال نا جائز نہ ہو گا۔ (رد المحتار:ج05 ص99، الجوھرۃ النیرہ:ج02 ص289)