سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام وعلمائے دین متین اس مسئلے میں کہ زید، عمر اور بکر تین دوست ہیں۔ زید کو ایک مکان کی ضرورت ہے جس کی قیمت بیس لاکھ ہے۔ زید کے پاس صرف پانچ لاکھ روپے ہیں۔ زید نے عمر اور بکر سے کہا کہ یہ مکان بیس لاکھ پر مشترکہ طور پر خریدتے ہیں، پھر آپ دونوں اپنا اپنا حصہ مجھ پر کچھ منافع کے ساتھ فروخت کریں، قسطوں پر۔ چنانچہ عمرہ نے دس لاکھ اور بکر نے پانچ لاکھ دے کر، زید نے اپنا پانچ لاکھ ملا کر بیس لاکھ پر مکان خرید لیا۔ پھر زید نے عمر اور بکر سے ان کا حصہ خرید لیا قسطوں پر ۔اس طرح کہ عمر سے اس کے دس لاکھ کا حصہ بارہ لاکھ پر اور بکر سے اس کا پانچ لاکھ کا حصہ چھ لاکھ پر، تو اب یہ سودا جائز ہے یا نہیں؟


دوسری صورت:زید کے پاس ایک بھی روپیہ نہیں ہے۔ عمر اور بکر سے کہتا ہے کہ یہ مکان نقد بیس لاکھ پر فروخت ہو رہا ہے، آپ حضرات خرید لیں اور مجھ پر بیس لاکھ میں قسطوں پر فروخت کریں تو کیا یہ جائز ہے؟ نیز مذکورہ دونوں صورتوں میں کیا زید، عمر اور بکر کی طرف سے وکیل بن سکتا ہے یا نہیں؟ (عبد الحکیم، شاپر پلازہ، ابو الحسن اصفہانی روڈ، کراچی)
جواب:
1 جائز ہے۔ یہ قسطوں کا معاملہ ہے اور قسطوں پر نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر فروخت درست ہے لیکن معاملہ کے وقت ایک جانب طے ہونا ضروری ہے کہ اب معاملہ نقد پر ہے یا ادھار پر، وقت اور رقم کی تعیین بھی ضروری ہے کہ مثلا ہر ماہ ایک ہزار بطور قسط دینا ہوں گے اور اسی طرح قسط شارٹ ہونے کی صورت میں کسی قسم کا اضافہ لینا بھی درست نہیں۔ (شرح المجلہ: ص125،رقم المادۃ:246،245)

2 زید ان دونوں کا وکیل بن سکتا ہے جس کی صورت یہ ہو گی:
زید عمر کا وکیل بن کر مکان خریدے، پھر عمر اور بکر عقد جدید کے ذریعہ سے مکان زید کو فروخت کر دیں۔ اس صورت کی شرعی اصولوں کے مطابق تکمیل کے لیے آپ کو دو فارم (وکالت فارم، بیع فارم) ارسال کیے جا رہے ہیں۔ مندرجہ ذیل طریقہ سے ان کو پر کر کے عقد کی تکمیل کر لیں:

٭ پہلے وکالت فارم کے ذریعہ عمر اور بکر (موکلان) زید (وکیل شرائ) کو اپنی جانب سے مکان خریدنے کا وکیل بنائیں۔ ٭ پھر عمر، بکر خرید شدہ مکان نئے عقد کے ذریعہ سے (وکیل شرائ) کو فروخت کریں، جس کے لیے فروختگی فارم کو استعمال کریں۔

٭ واضح رہے کہ یہ دونوں عقد الگ الگ ہوں گے، کوئی ایک دوسرے کے ساتھ مشروط نہیں ہو گا۔ (البحر الرائق، شرح کنز الدقائق: ج 16ص228) ٭٭
مکان صرف نام کیا، مالک نہیں بنایا

سوال:
ڈاکٹرشعیب شفیق شہید رحمہ اللہ کے والد صاحب نے ایک مکان اپنی اہلیہ کے نام کیا تھا لیکن تا حیات اسی گھر میں رہائش پذیر تھے۔ بااختیار (متصرف) تھے۔ کیونکہ جب گھر بینک میں گروی رکھوایا جا رہا تھا تو محمد شفیق کی اہلیہ کی مرضی شامل نہیں تھی۔ نہ شروع میں ان کو علم تھا بلکہ محمد شفیق کی اہلیہ نے اکثر یہ بات کہی کہ ٹیکس سے بچنے کے لیے یہ گھر میرے نام کیا گیا، کیا یہ مکان محمد شفیق کی ملکیت سمجھا جائے گا۔ اور کیا اس کو محمد شفیق کا ترکہ شمار کیا جائے گا۔ اور کیا ڈاکٹر شعیب کے بچوں کو اپنے شرعی حق کے لیے اس ترکہ میں سے حصہ ملے گا؟

2 بچیوں کا وہ شرعی حق جو کہ ان کے والد ڈاکٹر شعیب شفیق شہید چھوڑ کر گئے، اُس کو ان کے والد نے فیملی بزنس میں لگایا اور اپنی زندگی میں ڈاکٹر شعیب کے ترکہ کی تقسیم نہیں کی۔ وہ حق ان کو ملے گا یا نہیں؟

جواب:
1 اگر محمد شفیق صاحب نے مذکورہ مکان ٹیکس وغیرہ سے بچنے کے لیے اپنی اہلیہ کے نام کروایا تھا جیسا کہ سوال میں اس کی وضاحت موجود ہے، باقاعدہ مالک بنا کر مکان کا قبضہ اسے نہیں دیا تھا تو اس صورت میں اہلیہ کے صرف نام کروانے سے وہ مالک نہیں بنی، لہذا یہ مکان محمد شفیق صاحب کے ترکہ میں شامل ہو کر ان کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا، البتہ ڈاکٹر شعیب صاحب کی بچیوں کو اپنے دادا محمد شفیق صاحب کے ترکہ سے حصہ نہیں ملے گا، کیونکہ شرعی لحاظ سے میت کے بیٹوں کی موجودگی میں پوتیاں اپنے دادا کی وارث نہیں ہوتیں۔

2 اس کا تفصیلی جواب سابقہ فتوی میں دیا جا چکا ہے۔ (رد المحتار:ج 20ص465،الفتاوی الھندیۃ: ج 34ص282)