سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ عبد اللہ نے عمر سے ایک لاکھ درہم خریدا (فی درہم ستائیس 27 روپے کے حساب سے) عبد اللہ پاکستان میں ہے اور عمر دوبئی میں ہے۔ عبد اللہ نے کوئٹہ میں عمر کے اکاؤنٹ میں درہم کی قیمت جمع کر لی (جو کہ 27 لاکھ روپے ہیں) اور عمر نے دوبئی میں عبد اللہ کے اکاؤنٹ میں درہم جمع کیا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ عبد اللہ اس درہم کو اگر نقد بیچ دے تو فی درہم 27 روپے کے حساب سے سے بک جاتا ہے جو کہ مارکیٹ کا نقد ریٹ ہے۔

لیکن عبد اللہ نے اسی درہم کو ایک مہینے کے ادھار پر بیچ دیا (فی درہم 27 اعشاریہ پچاس روپے کے حساب سے) اب ادھار کی وجہ سے عبد اللہ کو جو پچاس ہزار کا نفع ہوا، کیا یہ نفع عبد اللہ کے لیے حرام یا حلال؟ اگر حلال نہیں ہے تو کوئی شرعی متبادل بتلائیے۔

واضح رہے کہ یہاں کے بعض مقامی علما نے زبانی طور پر جواز کا فتوی دیا ہے اور دلیل یہ پیش کیا ہے کہ جب جنس مختلف ہو جائے تو اس وقت ایسا سودا کرنا جائز ہے۔ برائے کرام تفصیل دلائل کے ساتھ جواب تحریر فرما لیجیے۔ (شیر محمد، کوئٹہ)

جواب:
عبد اللہ کے لیے فی درہم 27.5 ادھار پر فروخت کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس مجلس عقد میں وہ دراہم خریدنے والے کو قبضہ کرا دے۔ اگر ملکی قوانین کی رو سے یہ خلاف قانون شمار ہوتا تو اس صورت میں ملکی قانون کی خلاف ورزی سے عزت کو خطرہ میں ڈالنے کا گناہ ہو گا۔ کیونکہ حکومت کے ایسے قوانین جو شریعت کے خلاف نہ ہوں ان کی پاسداری کرنا شرعا ضروری ہوتا ہے۔ لہذا اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ دو مختلف ممالک کی کرنسیوں کی آپس میں خرید و فروخت کے لیے مندرجہ ذیل شرائط ہیں: ٭ دنوں کرنسیوں میں سے کسی ایک پر عقد کے وقت قبضہ ہو جائے۔ ٭ اس دن کے مارکیٹ ریٹ پر تبادلہ ہو۔

لہذا صورت مسئولہ جائز نہیں۔ کیونکہ نسیئہ (ادھار خرید و فروخت) کے جواز کے لیے شرط ہے کہ عقد کے وقت جو مارکیٹ ہے اس پر بیچا جائے۔ ٭٭

سونے کے ہار پر زکوۃ کی تفصیل

سوال:
انویسٹمنٹ کی نیت سے اگر سونے کے ہار خریدے جائیں اور پورا ہونے سے پہلے قیمت اچھی ہونے پر بیچ دیں اور پھر سے کچھ عرصے بعد سونا خرید لیں اور سال سے پہلے بیچ دیں تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہو گی؟ (محمد عاصم)
تنقیحات
1 کیا آپ پہلے سے صاحب نصاب ہیں؟
جواب: جی ہاں! میرے پاس تقریبا دس لاکھ کی مالیت ہے جو شیئرز، میوچل، سرٹیفیکٹ وغیرہ کی شکل میں ہے۔ اس کے علاوہ سونا، چاندی یا تجارت کا سامان وغیرہ نہیں ہے۔

2 کیا آپ کے ذمہ قرض ہے؟
جواب: جی ہاں! میں نے گھر خریدنے کے لیے (Loan) قرض لیا تھا۔ اس کے 22 لاکھ ابھی میں نے ادا کرنے ہیں اور قرض کی قسط وار ادائیگی کی جا رہی ہے۔

3 آپ نے جو سوال ارسال کیا ہے، اس میں آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں یہ سوال واضح نہیں ہے؟
جواب: میں جو کچھ شیئرز وغیرہ بیچ کر اس سے سونے کے ہار خرید کر آگے فروخت کرنا چاہتا ہوں۔ کل مالیت میرے پاس وہی ہے جو اوپر ذکر کی ہے۔

جواب:
سونے کی طرح نقدی، شیئرز وغیرہ بھی اموال زکوۃ میں شمار ہوتے ہیں۔ لہذا سونا اصلی حالت میں ہو یا اس کے عوض نقدی یا شیئرز خرید لیں، اختتام سال پر ان سب اموال زکوۃ کی قیمت لگا کر ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کریں گے۔ آپ کے پاس کم از کم 10 لاکھ کی مالیت کے قابل زکوۃ اثاثے موجود ہیں، اس لیے آپ صاحب نصاب ہیں البتہ آپ پر 22 لاکھ قرض بھی ہے جس کی ادائیگی قسط وار طے ہوئی ہے یعنی اس کی پوری ادائیگی آپ پر فوری لازم نہیں اور ایسا قرض جس کی فوری ادائیگی لازم نہ ہو وہ مانع زکوۃ نہیں ہوتا۔ ہاں اس مالی سال میں واجب الاداء قسطیں قرض سے منھا کریں گے اس لیے آپ 10 لاکھ نقدی میں زکوۃ کے حساب کے دن اس سال کی واجب الادء قسط منھا کر کے باقی رقم کی ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کریں گے۔ زکوۃ کے دیگر متعلقہ مسائل سمجھنے کے لیے رسالہ ارسال ہے۔ (رد المحتار:460/6)