مسائل مارکیٹ میں حرام گوشت کی فروخت سوال:کراچی میں کچھ عرصہ پہلے ایک قصائی کو گدھا ذبح کرتے ہوئے ایک پرائیویٹ میڈیا والوں نے پکڑا تھا اور وہ بڑی ڈھٹائی سے کہہ رہا تھا کہ میں کوئی حرام کام نہیں کر رہا اور یہ کہ گدھے کا گوشت حلال ہے۔ تو ان حالات میں ہم کراچی والے کن لوگوں سے بڑا گوشت خریدیں، جبکہ حکومت کی طرف سے بھی کوئی کارروائی سامنے نظر نہیں آ رہی ہے۔ (محمد یاسر حبیب)

جواب:
آپ نے جو واقعہ ذکر کیا ہے وہ مسلمانوں کی آبادی میں یومیہ بنیادوں پر لاکھوں ذبیحہ کے مقابلے میں یقینا کالعدم ہے۔ اس لیے صرف اس واقعے یا اس جیسے چند واقعات کی بنیاد میں بازار میں بکنے والے عام گوشت کو حرام نہیں کہا جا سکتا۔ خصوصاً ان دکانوں سے جو سرکاری ذبح خانوں سے گوشت خرید کر بیچتے ہیں اور شخصی طور پر قابل اعتماد ہیں، ان سے خریدنے میں کوئی شبہ نہ ہونا چاہیے۔ ہاں! اس قسم کے واقعات کا سامنے آنا تشویش کا باعث ضرور ہے۔ اس کے سد باب کے لیے مختلف فورمز پر آواز اٹھانی چاہیے تاکہ کسی کو جرأت نہ ہو۔

ATA Iکا ممبر بننا اور اس کی شرائط
سوال:
ہم ٹریول ایجنسی کے کاروبار سے منسلک ہیں اور آج کل کے دور میں اس کاروبار کی کئی اقسام ہیں۔ جیسا IATA کہ اور NOn (IATA)۔… ابھی ہماری ایجنسی کی موجودہ پوزیشن Non IATA ہے جس میں ہم ایک محدود قسم کے ایئر لائن سے تعلق رکھ سکتے ہیں۔ اور دوسرے ایئر لائن کے ساتھ اگر ہم کاروبار کرنا چاہیں تو ان کی پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ ہم IATA کے ممبر ہوں۔

IATA کا ممبر بننے کے لیے ان کی اپنی شرائط ہوتی ہیں۔ جن میں سے ایک شرط یہ ہے کہ IATA کا ممبر بننے کے لیے آپ کو 70 لاکھ روپے کی ضمانت دینی ہوتی ہے۔ اور یہ ضمانت ہمیں (Taap) والے جو کہ ٹریول ایجنٹس کی ایک تنظیم ہے، دیتی ہے۔ جس کے بدلے وہ ہم سے سالانہ 2 لاکھ ستر ہزار روپے لیتے ہیں۔ کیا ہمارے پاس اس شرط کی تکمیل کا کوئی شرعی جواز ہے؟ (جمیل احمد)

جواب:
تنظیم کا آپ کی طرف سے ضمانت دینا درست ہے، لیکن خالی ضمانت پر معاوضہ وصول کرنا حرام ہے۔ ہاں! اگر اس (TAAP) معاملے میںکوئی قابل معاوضہ خدمات بھی انجام دیتی ہے تو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ پوچھ لیا جائے۔ (مجمع الأنھر فی شرح ملتقی الأبحر:470/5)

ناجائز تعاون کی ایک صورت اور حکم

سوال:
میں کیمیکل کا انجینئرہوں۔ میں نے حال ہی میں Prisons Chemical Engineering Limited میں کام شروع کیا ہے۔ یہ رہنمائی، تشخیص کرنے اور پلانٹ کی ڈیزائننگ کی فرم ہے۔ ہم اپنی خدمات کسی بھی انڈسٹری کو مہیا کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابتدائی مراحل سے لے کر آخر تک پلانٹ کی انسٹالیشن بھی کرتے ہیں۔ کوئی بھی سائٹ یا انڈسٹری جو کسی بینک کی طرف سے قرضہ وغیرہ لینے کی منتظر ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں بینک ہمیں کہتا ہے کہ اس خاص سائٹ کے بارے میں وزٹ کر کے ہمیں بتائیں کہ اس سائٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کیا ہے۔ پھر ہم اس کا وزٹ کرتے ہیں اور ایک معیاری رپورٹ تیار کرتے ہیں اور کلائنٹ عام طور پر اصرار کرتا ہے کہ اس پلانٹ کی مارکیٹ ویلیو بڑھا کر بتائے۔ ہماری فیس اور DA/TA سائٹ، بینک کو ادا کرتی ہے اور پھر بینک کمپنی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرتا ہے۔ اب میرے سوالات یہ ہیں :

1 کیا اس طرح کا عمل کرنا اسلام میں جائز ہے؟ میرے خیال میں ہماری کمپنی بینکوں کو ہماری کمپنی کی رپورٹ پر قرضے جاری کرتی ہے ۔

2 میں یہاں بطور Trainee (زیر تربیت) (بغیر کسی تنخواہ و مراعات) کام کر رہا ہوں۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا مجھے ڈائریکٹر کو کہہ دینا چاہیے کہ میرا ڈپارٹمنٹ تبدیل کر دے؟ (نعمان خواجہ)
(نوٹ: اس سوال کے پیش نظر سائل سے چند تنقیحات اور وضاحتیں لی گئیں، اس کے بعد درج ذیل جواب دیا گیا۔)

جواب:
1 جائز نہیں، کیونکہ آپ کی کمپنی کی جانب سے تیار کی جانے والی رپورٹ بینک اور کلائنٹ کے درمیان سودی عقد کرنے کا سبب ہے اور آپ کو اس بات کا علم بھی ہے کہ اس کی بنیاد پر ہی سودی قرض کا معاملہ ہو گا۔ سودی عقد گناہ ہے اور گناہ کا باعث اور سبب بننا بھی گناہ میں تعاون کی وجہ سے گناہ ہو گا۔

2 جی ہاں! آپ کمپنی کے کسی دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں تشکیل کروا لیں جہاں کوئی ناجائز تعاون نہ کرنا پڑے۔ (رد المحتار:ج 16ص397 )