میرا نام رضوان سلیم ہے، میں نے آج سے تین ماہ پہلے امتیاز نامی شخص کے ساتھ ڈیل کی تھی جس میں، میں نے پچاس ہزار روپے ایڈوانس کے طور پر امتیاز کو دیے تھے اور ڈیل یہ تھی کہ امتیاز 200 من (دھان) چاول مونجی کی قسم سوپری جو 6 ایکڑ رقبہ زمین پر لگی ہوئی ہے۔ اس نے کہا کہ میں 200 من مونجی کا بندوبست کر دوں گا۔ اگر کچھ کمی ہوئی تو اپنے قریب واقف لوگوں سے لے کر آپ کو دے دوں گا، اس کی آپ فکر نہ کریں۔ اس فصل کا میوہ پک چکا تھا اس نے مجھے نمونہ بھی دکھایا تھا، لیکن اس کی کٹائی پر کچھ وقت (30 یا 35 دن) لگنا تھا، اور ریٹ کے بارے میں یہ طے ہوا کہ مونجی حوالگی کے وقت مارکیٹ ریٹ سے 10 فیصد کم ہی قیمت ہو گی۔ اس کا ایڈوانس 50 ہزار روپے میں دے چکا تھا۔


میرا چونکہ امتیاز سے پہلی بار معاملہ ہوا تھا اور یہ معاملہ اس کے ایک کزن کے ذریعے ہو رہا تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ یہ امتیاز مونجی (فصل) بروقت حوالہ کر دے گا تو اس نے کہا کہ ہاں کیونکہ اس کی اپنی فصل لگی ہوئی ہے۔ اس کے کزن نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں اور اس نے مجھے پچاس ہزار کا چیک بطور ضمانت دے دیا کہ اگر امتیاز پیسے یا فصل نہ دے گا تو وہ مجھے پیسے (بیعانہ کی رقم) دے دے گا۔ پھر یوں ہوا کہ 30 دن بعد میں امتیاز سے فون کے ذریعے رابطہ کرتا رہا لیکن وہ فون نہ اٹھاتا، اس طرح 7 یا 8 دن گزر گئے۔ پھر ایک دن میں امتیاز کے گھر گیا تو امتیاز گھر پر نہ ملا۔ اس کی والدہ سے میری بات ہوئی تو اس کی والدہ نے کہا کہ انہوں نے یہ فصل کسی اور کو بیچ دی ہے اور امتیاز نے گھر میں یہ بتایا کہ رضوان (میں) نے فصل لینے سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ اس کے ساتھ میری بات تک نہیں ہوئی تھی۔ اس کی والدہ نے کہا کہ ان کی فصل 132 من ہوئی تھی اور 1130 روپے من کے حساب سے آگے بیچ دی گئی ہے۔ اس طرح دو ماہ گزر گئے۔ پھر ایک دن امتیاز کی والدہ اور اس کا بھائی اس کے کزن کے ہمراہ میرے پاس آئے۔ انہوں پچاس ہزار روپے واپس کر دیے، میں نے امتیاز کی والدہ کو اپنی اس ڈیل کے لیے آنے جانے، موبائل پر بار بار رابطہ کرنے پر ہونے والے خرچہ کے بارے میں بتایا جو کہ تقریباً 4 سے 5 ہزار روپے تک تھا تو انہوں نے 3 ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا۔ میں نے 6 ہزار کا مطالبہ کیا۔ کافی بحث کے بعد وہ 6 ہزار روپے دینے کے لیے تیار ہو گئے۔ انہوں نے اس کی ادائیگی کے لیے ایک ہفتہ یعنی 7 دن کا وقت مانگا لیکن اس وقت کے اندر انہوں نے مجھے پیسے نہیں دیے۔ میں نے ان کو ایک ہفتہ کا مزید وقت دیا، لیکن پھر انہوں نے پیسے نہ دیے۔ ایک دن میں نے امتیاز کے کزن کو کہا کہ انہیں فون کر کے بتا دیں کہ ہماری پرانی بات اب ختم ہو گئی۔ معاملہ نئے سرے سے حل کریں گے اور اس خرچہ پر دوبارہ بات کریں گے۔ امتیاز کے کزن نے ان کو ایسا ہی کہا لیکن انہوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ بالآخر میں نے امتیاز کے کزن کے پچاس ہزار روپے جو ضمانت کے طور پر میرے پاس تھا میں نے اس کو کیش کرا لیا۔ اس طرح اس کے کزن کے پچاس ہزار روپے میرے پاس آ گئے۔ میں نے امتیاز کے کزن کو کہا کہ میرے بیعانہ کے ساتھ پچاس ہزار روپے مجھے مل گئے ہیں اور اب مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ جس پر امتیاز کا کزن اس سے ملنے گیا اور ان سے کافی بحث کر کے آیا۔ امتیاز نے وعدہ کیا کہ وہ ہفتہ کے دن مجھے ملنے آئے گا اور وہ ہفتہ کے دن آیا اور بہت معذرت کرنے لگا اور کہا کہ پچاس ہزار جو عابد (میرے کزن) کے ہیں اس میں 10 ہزار رکھ لیں اور باقی عابد کو واپس کر دیں۔ میں نے کافی انکار کے بعد ہاں کر دی اور 40 ہزار کا چیک عابد کو واپس کر دیا۔ عابد بھی اس وقت امتیاز کے ساتھ تھا۔ میری ڈیل کے مطابق اپنی زمین کی 132 من مونجی جو اس نے مجھے بیچنی تھی اور معاہدے کے مطابق چونکہ اس نے مارکیٹ ریٹ سے 10 فیصد ڈسکاؤنٹ بھی دینا تھا یہ ڈسکاؤنٹ تقریباً 15180 روپے بنتے ہیں تو جب اس نے یہ فصل کسی اور کو بیچ دی تو میرا یہ نقصان ہو گیا جب کہ میں نے امتیاز سے صرف 10 ہزار روپے لیے ہیں۔

1 کیا میرے لیے یہ 10 ہزار لینا شرعاً درست ہے؟

2:      اگر یہ درست نہیں تو اس ڈیل میں جو میرا خرچہ جس کی تفصیل گزر چکی، کیا میں اس حد تک امتیاز سے پیسے لے سکتا ہوں؟

3: اس مسئلہ کا شرعی حل بتا کر شکریہ کا موقع دیں۔ (رضوان سلیم)

مذکورہ معاملہ میں باقاعدہ بیع (خرید و فروخت) نہیں ہوئی تھی بلکہ وعدہ بیع تھا۔ تاہم پچاس ہزار روپے کی رقم آپ کی طرف سے امتیاز پر قرض تھی۔ امتیاز پر لازم تھاکہ وہ پوری کوشش کرتا کہ فصل آپ کو فروخت کرتا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس لیے اگر کوئی شرعی عذر نہیں تھا تو وہ گناہگار ہو گا۔ تاہم آپ اس کے فصل فروخت نہ کرنے کی صورت میں ممکنہ نقصان اس سے پورا نہیں کر سکتے۔ اس لیے اپنا قرض ہی واپس لے سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں شریعت کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

٭ آپ دس ہزار روپے نہیں لے سکتے، آپ صرف اپنی دی ہوئی رقم ہی وصول کر سکتے ہیں۔

٭ آپ کے جو حقیقی اخراجات ہوئے ہیں وہ آپ لے سکتے ہیں، اس سے زائد نہیں۔

٭ دونوں طرف سے جو زیادتیاں ہوئیں اس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کریں اور ایک دوسرے کو معاف کر دیں۔ (بدائع و الصنائع فی ترتیب الشرائع:425/17)